حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ " ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : مَحْضُورَةٌ .

حفص اور ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔“ ابومعاویہ نے (مشہودہ کی بجائے) محضورہ (اس میں حاضری دی جاتی ہے) کہا۔ (مفہوم ایک ہی ہے)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّكُمْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ ، ثُمَّ لِيَرْقُدْ ، وَمَنْ وَثِقَ بِقِيَامٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”جسے تم میں سے خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے، پھر سو جائے اور جسے رات کو اٹھنے وثوق و اعتماد ہو، وہ اس کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے میں قراءت کے وقت رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں یا دل حاضر ہوتا ہے اور یہ بہتر ہے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 755
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 755 | سنن ترمذي: 455 | سنن ابن ماجه: 1187

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 755 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ’’جسے تم میں سے خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے، پھر سو جائے اور جسے رات کو اٹھنے وثوق و اعتماد ہو، وہ اس کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے میں قراءت کے وقت رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں یا دل حاضر ہوتا ہے اور یہ بہتر ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1767]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رات کو اٹھنے والے کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ وتر رات کی نماز کے آخر میں پڑھے۔
لیکن جس کا یہ معمول نہیں ہے کہ وہ رات کو اٹھے اسے وتر سونے سے پہلے پڑھ لینا چاہئے اگر اسے کسی دن جاگ آ جائے تو وہ رات کی نماز پڑھ سکتا ہے دوبارہ وتر پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 755 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1187 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو رات کی ابتداء ہی میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو جائے گا تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1187]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنا افضل ہے۔

(2)
اس وقت وتر سے پہلے بھی کچھ نوافل پڑھ لینا افضل ہے۔

(3)
فرشتے تلاوت قرآن مجید سے بہت محبت رکھتے ہیں۔
اس لئے مومن کی تلاوت سننے کے لئے خاص طور پر جمع ہوجاتے ہیں۔

(4)
فرشتوں کا یہ اجتماع رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1187 سے ماخوذ ہے۔