صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ: باب: رات کی نماز دو دو رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
حدیث نمبر: 754
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا " .معمر نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو۔“
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُمْ ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ " .شیبان نے یحییٰ (بن ابی کثیر) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ابونضرہ عوقی نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں (صحابہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1189 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو۔“ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1189]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو۔“ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1189]
اردو حاشہ:
فائدہ: جناب محمد بن یحیٰ نے اس حدیث کو غالباً اس لئے ضعیف قرار دیا ہے۔
کہ وہ سابقہ حدیث سے بظاہر متعارض ہے لیکن کہا جاسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں عذر (نيند یا بھول)
کی صورت میں حکم مذکور ہے اور دوسری حدیث میں اصل حکم کا ذکر ہے جس پر عمل کرنا چاہیے۔
اس لحاظ سے تعارض نہیں ہوگا۔
فائدہ: جناب محمد بن یحیٰ نے اس حدیث کو غالباً اس لئے ضعیف قرار دیا ہے۔
کہ وہ سابقہ حدیث سے بظاہر متعارض ہے لیکن کہا جاسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں عذر (نيند یا بھول)
کی صورت میں حکم مذکور ہے اور دوسری حدیث میں اصل حکم کا ذکر ہے جس پر عمل کرنا چاہیے۔
اس لحاظ سے تعارض نہیں ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1189 سے ماخوذ ہے۔