حدیث نمبر: 753
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .

ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے ابومجلز سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”(وتر) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”(وتر) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 753
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابومِجْلَز بیان کرتےہیں: کہ میں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: ’’(وتر) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔‘‘ اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’(وتر) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1759]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی مذکورہ بالاروایت سے ثابت ہوتا ہے کہ وتر آخر میں ایک ہی پڑھا جائےگا۔
اورصریح حدیث کی موجودگی میں یہ کہنا کہ دوگانہ سے ملی ہوئی ایک رکعت ہے۔
تعصب کی انتہاء ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 753 سے ماخوذ ہے۔