صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ: باب: رات کی نماز دو دو رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ ، فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ " .لیث نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص رات کو نماز پڑھے، وہ وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بنائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا " .عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”رات کے وقت وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بناؤ۔“
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ ، فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا قَبْلَ الصُّبْحِ ، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ " .ابن جریج نے کہا: نافع نے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہا کرتے تھے: ”جو شخص رات کو نماز پڑھے وہ صبح سے پہلے نماز کا آخری حصہ وتر کو بنائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (اپنے ساتھیوں) کو یہی حکم دیا کرتے تھے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رات کی آخری نماز، وتر کو بنانے کے متعلق مذکورہ امر نبوی استحباب کے لیے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے نماز وتر کے بعد دو رکعت پڑھنا بھی ثابت ہے، چنانچہ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 471)
اور رسول اللہ ﷺ نے امت کو وتر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی ترغیب بھی دی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’صبح کے وقت نماز شب کے لیے بیدار ہونا بہت گراں اور مشقت کا باعث ہے، اس لیے وتر کے بعد دو رکعت پڑھ لی جائیں، اگر بیدار ہو جائے تو بہتر بصورت دیگر یہی اس کے لیے کافی ہے۔
‘‘ (صحیح ابن خزیمة: 159/2)
اس حدیث پر محدث ابن خزیمہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’وتر کے بعد جو نفل نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔
‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد جو دو نفل پڑھتے تھے وہ آپ کا خاصا نہیں بلکہ یہ عمل تمام امت کے لیے مشروع ہے۔
(صحیح ابن خزیمة: 159/2) (2)
اس حدیث سے بعض حضرات نے وتروں کے واجب ہونے کو ثابت کیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں، کیونکہ جب صلاۃ اللیل واجب نہیں تو اس کے آخر میں پڑھی جانے والی نماز کیونکر واجب ہو گی، نیز اصل تو کسی چیز کا غیر واجب ہونا ہے تا آنکہ اس کا واجب ہونا دلیل سے ثابت ہو جائے۔
(فتح الباري: 628/2)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1438]
➋ اس حدیث سے استدلال کرکے کہا گیا ہے کہ وتر پڑھنے کے بعد کوئی نفلی نماز پڑھنی جائز نہیں۔ لیکن دوسرے علماء نے اس کو استحباب پر محمول کیا ہے۔ کیونکہ خود نبی کریم ﷺ سے بھی وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا ثابت ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1683]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اپنی رات کی آخری نماز کو وتر بناؤ۔" (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 303»
«أخرجه البخاري، الوتر، باب ليجعل آخر صلاته وترًا، حديث:998، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل مثني مثني، حديث:751.»
تشریح: 1. اس حدیث میں رات کی آخری نماز کو وتر بنانے کا امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے‘ یعنی اگر کسی نے رات کے اول حصے میں وتر پڑھ لیا ہے‘ پھر رات کے درمیان یا آخری حصے میں جاگ اٹھا تو دو دو رکعت کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ لے‘ وتر کو جوڑا بنا کر وتر کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
2. کوئی شخص وتر ادا کرنے کے بعد دو رکعت پڑھ لے تو کوئی مضائقہ نہیں‘ اس لیے کہ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم‘ صلاۃ المسافرین‘ حدیث:۷۳۸ (ب)۔