حدیث نمبر: 748
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحَى ، فَقَالَ : أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ " .

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تو کہا: ہاں یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کی بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا افضل ہے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”«اَوَّابِين» (اطاعت گزار، توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے لوگوں) کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب (گرمی سے) اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔‘‘

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءَ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، فَقَالَ : " صَلَاةُ الأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ " .

ہشام بن ابی عبداللہ نے کہا: ہمیں قاسم شیبانی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لائے، وہ لوگ (اس وقت) نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ”«أَوَّابِينَ» کی نماز اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے کے وقت (پر ہوتی) ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 748
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تو کہا: ہاں یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کی بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا افضل ہے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’«اَوَّابِين» (اطاعت گزار، توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے لوگوں) کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب (گرمی سے) اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1746]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اَوَّابُ: اَوْب سے ماخوذ ہے، جس کا معن ہے لوٹنا، رجوع کرنا، مراد ہے توبہ و انابت کرنے والے، اطاعت و فرمانبرداری کی طرف لوٹنے والے۔
(2)
تَرْمَضُ: (س)
رَمضَاء سے ماخوذ ہے، وہ ریت جو سورج کی حرارت و تپش سے گرم ہو کر تپنے لگتی ہے۔
(3)
اَلفِصَالُ: فصيل کی جمع ہے اونٹ یا گائے کا وہ بچہ جو ماں سے الگ کر دیا گیا ہو۔
مراد یہ ہے کہ جب اونٹوں کے چھوٹے بچوں کے پاؤں، ریت کی تپش سے جلنے لگتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1746 سے ماخوذ ہے۔