صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب صَلاَةِ اللَّيْلِ وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلاَةٌ صَحِيحَةٌ: باب: نماز شب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل میں رکعتوں کی تعداد، وتر کے ایک ہونے کا بیان اور اس بات کا بیان کہ ایک رکعت صحیح نماز ہے۔
حدیث نمبر: 744
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي منَ اللَّيْلِ ، فَإِذَا أَوْتَرَ ، قَالَ : قُومِي فَأَوْتِرِي يَا عَائِشَةُ " .عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے رہتے، جب وتر پڑھنے لگتے تو فرماتے: ”اے عائشہ! اٹھو اور وتر پڑھ لو۔“
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ ، وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ ، أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ " .قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنی نماز پڑھتے اور وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں، جب آپ کے وتر باقی رہ جاتے تو آپ انہیں جگا دیتے اور وہ وتر پڑھ لیتیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو جب وتر پڑھنے لگتے تو فرماتے: ’’اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! اٹھو اور وتر پڑھ لو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1734]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان رات کے آخری حصہ میں صرف وتر پڑھنے کے لیے بھی اٹھ سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1734 سے ماخوذ ہے۔