صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا: باب: نوافل کا کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے جائز ہونا۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ " هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ " .عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا، کیا رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے کہا، ہاں، جب لوگوں (کے معاملات کی فکرمندی اور دیکھ بھال) نے آپﷺ کو کمزور کر دیا۔
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فَذَكَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ آگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ كَثِيرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کو بتایا کہ نبی اکرم ﷺ وفات سے پہلے نماز کا بہت سا حصہ بیٹھ کر پڑھنے لگے یا بہت سی نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ كلاهما ، عَنْ زَيْدٍ ، قَالَ حَسَنٌ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ ، كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا " .عبداللہ بن عروہ کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن ذرا بڑھ گیا اور آپ بھاری ہو گئے تو آپ کی نماز کا زیادہ تر حصہ بیٹھے ہوئے (ادا) ہوتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حَطَمَهُ النَّاسُ: عربی محاورہ ہےحَطَمَ فُلاناً اَهْلُهُ: گھر والوں نے اسے توڑ پھوڑ ڈالا یعنی ان کے معاملات کی فکر میں وہ کمزور ہو گیا۔