صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا: باب: نوافل کا کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے جائز ہونا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ تَطَوُّعِهِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي ، قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ ، وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ ، فِيهِنَّ الْوِتْرُ ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا ، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپﷺ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھتے، پھر گھر سے نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعت ادا فرماتے، اور آپﷺ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر گھر آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے اور لوگوں کوعشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر آتے اور دو رکعت پڑھتے اور رات کو وتر سمیت نو رکعات پڑھتے، اور رات کو کافی دیر تک کھڑے نماز پڑھتے اور کافی دیر تک بیٹھے نماز ادا کرتے، اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھے بیٹھے کر لیتے اور طلوع فجر کے بعد دو رکعت پڑھتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .حماد نے بدیل اور ایوب سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لمبا وقت نماز پڑھتے رہتے، پس جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھے ہوئے رکوع کرتے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ ، فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِك عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں فارس میں بیمار تھا اور بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا، میں نے اس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ ﷺ کافی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، اور حدیث مکمل بیان کی۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا ، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا .عبداللہ بن شفیق عقیلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا، آپﷺ رات کافی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور رات کا کافی حصہ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا ، وَقَاعِدًا ، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .محمد بن سیرین نے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ کثرت سے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ کھڑے ہو کر نماز کا آغاز فرماتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب آپ بیٹھے ہوئے نماز کا آغاز کرتے تو بیٹھے ہوئے رکوع کرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ کے جن تلامذہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر نے عثمان بن عمر کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے مسروق کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1758]
ابراہیم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں، اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ ابو عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ہمارے نزدیک صحیح یہی ہے، اور عثمان بن عمر کی (پچھلی) روایت غلط ہے، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1759]
حدیث ابن عمر میں نماز ظہر سے پہلے دو سنت اور حدیث عائشہ ؓ میں ظہر سے پہلے چار سنت پڑھنے کا ذکر ہے۔
ہر ایک نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق بیان کیا ہے، اس لیے دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔
رسول اللہ ﷺ بعض اوقات دو رکعت پڑھتے تھے جسے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا ہے جبکہ آپ نے چار رکعت بھی ادا کی ہیں جسے حضرت عائشہ ؓ نے ذکر فرمایا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آپ مسجد میں دو رکعت پڑھتے ہوں اور اگر گھر پڑھتے ہوں تو چار رکعت ادا کرتے ہوں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے، پھر مسجد میں تشریف لے جاتے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں دو رکعت پڑھ کر مسجد میں جاتے ہوں، پھر مسجد میں دو رکعت ادا کرتے ہوں۔
اس بنا پر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے صرف مسجد میں ادا کردہ رکعات کو بیان فرمایا جبکہ حضرت عائشہ ؓ نے مسجد اور گھر کی رکعات کو بیان فرمایا ہے۔
بہرحال آپ اکثر طور پر چار رکعات پڑھتے تھے اور کبھی کبھار دو رکعت پر اکتفا کر لیتے تھے۔
(فتح الباري: 76/3)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1251]
موکدہ سنتیں گھر میں پڑھنی افضل ہیں، اس سے گھر میں برکت اترتی اور گھر والوں اور بچوں کو نماز اور عبادت کی ترغیب ملتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو گھروں میں سنتیں پڑھنے کی تاکید ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1253]
ظہر سے پہلے اور بعد میں دو دو اور چار چار رکعات دونوں طرح صحیح ہے۔ دیکھیے: حدیث سنن ابي داود: [1269]۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1164]
مغرب کے بعد کی یہ سنتیں موکدہ ہیں۔
جن کی فضیلت اور اہمیت حدیث نمبر 1140 میں بیان ہوئی ہے۔ 2۔
سنتیں اور نوافل گھر میں ادا کرنا افضل ہے۔
سوائے تحیۃ المسجد کے جومسجد کے ساتھ مخصوص ہے۔