صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ: باب: سنتوں کی فضیلت اور ان کی گنتی کا بیان فرضوں سے پہلے اور ان کے بعد۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِحَدِيثٍ يَتَسَارُّ إِلَيْهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عَنْبَسَةُ : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ : مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَنْبَسَةَ ، وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ : مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ .عمرو بن اوس بیان کرتے ہیں کہ مجھے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنی مرض الموت میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک خوش کن حدیث سنائی، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دن، رات میں بارہ رکعت ادا کیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔‘‘ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سنا ہے میں نے ان رکعات کو نہیں چھوڑا اور عنبسہ کہتے ہیں، جب سے میں نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے ان رکعات کو ترک نہیں کیا اور عمرو بن اوس کا بیان ہے کہ جب سے میں نے عنبسہ سے یہ روایت سنی ہے، میں نے ان رکعات کو نہیں چھوڑا۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً تَطَوُّعًا ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ .بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں داود نے نعمان بن سالم سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی: ”جس نے ایک دن میں بارہ رکعات نوافل پڑھے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ ، إِلَّا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَتْ أَمُّ حَبِيبَةَ : فَمَا بَرِحْتُ ، أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ ؟ وقَالَ عَمْرٌو : مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ ، وقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِكَ .نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر دن فرضوں کے سوا خوشی سے بارہ رکعات پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے یا اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔‘‘ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں، اس دن سے میں ہمیشہ یہ رکعات پڑھ رہی ہوں، عمرو کہتے ہیں، اس وقت سے میں بھی ہمیشہ پڑھ رہا ہوں، نعمان کا بھی یہی قول ہے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ : أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَنْبَسَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ ، تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ صَلَّى لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .بہز نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بھی مسلمان بندے نے اہتمام کے ساتھ مکمل وضو کیا، پھر اللہ کی رضا کی خاطر ہر روز (نفل) نماز پڑھی...“ اور اسی کے مطابق روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
دن رات میں پانچ فرض نمازیں اسلام کا رکن رکین اور لازمہ ایمان ہیں، جن کے بغیر ایمان کا قیام بقا ممکن نہیں، لیکن ان کے علاوہ ان ہی کے آگے اور پیچھے کچھ رکعات پڑھنے کی ترغیب و تعلیم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، ان میں سے جن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکیدی الفاظ فرمائے ہیں اور دوسروں کو ترغیب و تشویق دلانے کے ساتھ ساتھ آپﷺ نے عملاً ان کا خوب اہتمام فرمایا ہے تو ان کو سنن راتبہ یا سنن مؤکدہ کا نام دیا جاتا ہے اور اگر آپﷺ نے ان کی ترغیب نہیں دی یا زیادہ اہتمام نہیں کیا تو ان کو سنن غیرمؤکدہ یا نفل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
(2)
آئمہ اربعہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دن رات میں بارہ رکعات یعنی دو رکعت فجر سے پہلے چار رکعات ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد دو رکعت مغرب کے بعد اور دو رکعت عشاء کے بعد سنن مؤکدہ ہیں اور ان کے سوا رکعات جن کا ذکر مختلف احادیث میں موجود ہے۔
وہ سنن غیر مؤکدہ اور نوافل ہیں جو انسان کے لیے اجرو ثواب کے حصول اور درجات و مراتب میں رفعت و بلندی کا باعث ہیں۔
(3)
فرضوں سے پہلے پڑھی جانے والی سنن مؤکدہ اور نوافل کا بظاہر مقصد یا حکمت و مصلحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرض نماز جو اللہ تعالیٰ کے دربار عالیہ میں سرگوشی اور حضوری ہے اور مسجد میں اجتماعی طور پر ادا کی جاتی ہے اس میں مشغول ہونے سے پہلے انفرادی طور پر چند رکعات پڑھ کر دل کو دنیا کے مشاغل اور مصروفیات سے پھیر کر اللہ کے دربار سے کچھ آشنا اور مانوس کر لیا جائے تاکہ فرضوں کی ادائیگی میں پوری یکسوئی اور دلجمعی سے اللہ تعالیٰ سے راز ونیاز ہو سکے اور دل دنیا کے مشاغل میں ہی نہ الجھا رہے۔
(4)
فرضوں کے بعد پڑھے جانے والی سنن راتبہ یا نوافل کی بظاہر یہی حکمت اور مصلحت معلوم ہوتی ہے کہ فرض نماز کی ادائیگی میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہے اس کا کچھ ازالہ اور تدراک ہو جائے۔
(5)
ہمارے اسلاف کرام کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب ان کے سامنے کوئی تاکیدی یا ترغیبی فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم آتا تو حتی الوسع اس کی پابندی اور اہتمام کرتے تھے اس کے بارے میں کسی قسم کے تغافل یا تساہل اور سستی کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان بندہ ہر روز نماز کی فرض رکعتوں کے علاوہ بارہ رکعات نفل (روزانہ) پڑھتا ہے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ جنت میں ایک محل بنا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم 1 / 251 ح 728]
فوائد:
اس حدیث پاک اور دیگر احادیث مبارکہ میں فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات نفل کی بڑی فضیلت آئی ہے: چار ظہر سے پہلے اور دو بعد، دومغرب کے بعد اور دو عشاء کے بعد اور دو صبح کی فرض نماز سے پہلے۔
بعض روایات میں ظہر کے بعد چار [سنن الترمذي: 427 وهو حديث صحيح]
اور عصر سے پہلے چار رکعات [ابوداود: 1271، وسنده حسن]
کی بھی فضیلت آئی ہے۔
یہ رکعتیں دو سلام سے پڑھنی چاہئیں۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان، الاحسان 4 / 77 ح 2444]
صحیح بخاری [1/ 128 ح 937] وغیرہ میں ظہر سے پہلے دو رکعتیں بھی ثابت ہیں۔
قیام اللیل للمروزی [ص 74] میں بلاسند ابومعمر عبداللہ بن سخبرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ (نامعلوم اشخاص) مغرب کے بعد چار رکعات پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔
یہ روایت بلاسند ہونے کی وجہ سے ناقابل حجت ہے۔
مختصر قیام اللیل [ص 58] میں بغیر کسی سند کے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ (نامعلوم اشخاص) عشاء سے پہلے چار رکعات پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔
یہ روایت بھی بلاسند ہونے کی وجہ سے ناقابلِ حجت ہے۔
یہ تمام رکعتیں دو دو کر کے پڑھنی چاہئیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه 2/ 214 ح 1210، صحيح ابن حبان، موارد الظمآن ح 636وسنده حسن]
ایک سلام کے ساتھ (نفل) چار اکٹھی رکعتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت نہیں ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات اور دن کی نماز یعنی نفل نماز دو دو رکعتیں ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 2/ 487 وسنده صحيح]
بعض آثار کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک سلام سے نوافل و سنن کی چار رکعتیں، اکٹھی پڑھنی جائز ہیں مگر افضل یہی ہے کہ دو دو کر کے پڑھی جائیں۔
مغرب کی اذان کے بعد فرض نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کا جواز ثابت ہے۔
قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے۔ [صحيح البخاري 1/ 157ح 1183]
اور فعلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی۔ [مختصر قيام الليل للمروزي: ص 64، وقال: هذا اسناد صحيح على شرط مسلم، صحيح ابن حبان، الاحسان: 1586، وسنده صحيح]
مغرب کی نماز کے بعدچھ رکعتیں (اوابین) پڑھنے والی روایت عمر بن ابی خثعم (سخت ضعیف راوی) کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [سنن الترمذي ج 1 ص 98 ح 435]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مغرب کی نماز پڑھی پھر آپ عشاء تک (نفل) نماز پڑھتے رہے۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 3781 وقال: ’’حسن غريب“ وسنده حسن وصححه ابن خزيمه: 1194 و ابن حبان، الموارد: 229 والذهبي فى تلخيص المستدرك 3/ 381]
جمعہ کے خطبہ سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار رکعتیں ثابت نہیں ہیں اور نہ کوئی خاص عدد، جتنی مقدر ہو پڑھیں۔ حالت خطبہ میں دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جائیں، جمعہ کے بعد چار بھی صحیح ہیں۔ [صحيح مسلم 1/ 288 ح 881] اور دو بھی [صحيح بخاري 1 / 128 ح 937] لیکن چار بہتر ہیں۔
. . . تفصیل کے لئے دیکھئے . . . حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ہدیۃ المسلمین حدیث نمبر 23
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ جمعہ سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو کیا معلوم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عنبسہ بن ابی سفیان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” جس نے رات دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1798]
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں طائف آیا، تو عنبسہ بن ابی سفیان کے پاس گیا، اور وہ مرنے کے قریب تھے، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ گھبرائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: آپ تو اچھے آدمی ہیں، اس پر انہوں نے کہا مجھے میری بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے دن یا رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ ابویونس قشیری نے ان لوگوں کی جنہوں نے اسے عطا سے روایت کی ہے مخالفت کی ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1800]
➋ یعنی و جنت میں داخل ہو گا ورنہ گھر کا کیا فائدہ؟ نیز امید ہے کہ اولیں طور پر داخل ہو گا ورنہ مطلق دخول تو محق ایمان کی بنا پر بھی ہے۔ واللہ أعلم۔
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1801]
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو اس کے بعد، دو عصر سے پہلے، دو مغرب کے بعد اور دو صبح سے پہلے۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: فلیح بن سلیمان زیادہ قوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1803]
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1805]
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1250]
یہ بشارت فرائض سے پہلے اور بعد کی سنتوں سے متعلق ہے جنہیں سنن مؤکدہ یا سنن راتبہ کہا جاتا ہے۔ اس حدیث سے سنن مؤکدہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ ان بارہ رکعتوں کی تفصیل دیگر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمائی ہے: چار رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو کعت عشاء کے بعد اور دو کعت نماز فجر سے پہلے۔ دیکھیے: [جامع الترمذي، الصلاة، حديث: 415]
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ دیکھیے: [صحيح بخاري، التطوع، حديث: 1172، 1180، وصحيح مسلم، صلاة المسافرين، حديث: 729]
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دن میں فرائض کے علاوہ دس رکعت ہی ادا کر لیتا ہے اس کے لیے بھی جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے۔ تاہم علماء اس کی بابت فرماتے ہیں کہ اگر ظہر نماز سے قبل اتنا وقت ہو کہ چار رکعت پڑھی جا سکتی ہوں تو چار رکعت ہی پڑھنی چاہئیں اور بہتر ہے کہ یہ دو رکعت کر کے پڑھی جائیں، اگرچہ ایک سلام سے بھی پڑھنا جائز ہے۔
ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں ۱؎، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1141]
فوائد و مسائل:
(1)
بارہ رکعت سے مراد ہی مؤکدہ سنتیں ہیں جن کی تفصیل گزشتہ حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
(2)
جنت میں گھر تعمیر ہونا ان نمازوں کا اجر ہے۔
اگر دوسرے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو بھی جائے تب بھی اس عمل کے ثواب پر خاص طور پر ایک گھر ملے گا۔
(3)
اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ سنت نمازیں پابندی سے ادا کرنے والے کے گناہ معاف ہوجایئں گے۔
جس کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کا اہل ہوجائے گا۔
لہٰذا محض سستی اور بے پروائی کی وجہ سے سنتیں چھوڑ دینا بری بات ہے۔