حدیث نمبر: 727
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ يَعْنِي مَرْوَانَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، فِي الأُولَى مِنْهُمَا قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 الآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ ، وَفِي الآخِرَةِ مِنْهُمَا آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52 " .

مروان بن معاویہ فزاری نے عثمان بن حکیم انصاری سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن یسار نے بتایا کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی میں (قرآن مجید سے آیت) «قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا» (والاحصہ) پڑھتے جو سورہ بقرہ کی آیت ہے اور دوسری میں (آل عمران کی آیت) «آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ» (والاحصہ) پڑھتے۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 ، وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ ، تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ سورة آل عمران آية 64 " .

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی دو سنتوں میں ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا﴾ اور آل عمران کی آیت: ۶۴ ﴿تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ﴾ پڑھتے تھے۔

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ .

یہی حدیث امام صاحب نے ایک دوسرے استاد سے بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 727
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 945 | صحيح مسلم: 727 | سنن ابي داود: 1259

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 945 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´فجر کی دونوں رکعتوں میں قرات کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں آیت کریمہ: «قولوا آمنا باللہ وما أنزل إلينا» (البقرہ: ۱۳۶) اخیر آیت تک، اور دوسری رکعت میں «آمنا باللہ واشهد بأنا مسلمون» (آل عمران: ۵۲) پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 945]
945۔ اردو حاشیہ: ➊ اس حدیث مبارکہ میں فجر کی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد قرأت کرنے کی دلیل ہے جیسا کہ جمہور اہل علم کا موقف ہے لیکن امام مالک اور ان کے اکثر اصحاب فجر کی سنتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد قرأت کے قائل نہیں، ان کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے جس میں وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتیں اس قدر ہلکی پڑھتے تھے کہ میں (دل میں) کہتی کہ آپ نے سورۂ فاتحہ بھی پڑھی ہے کہ نہیں۔ [صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 724]
امام نووی رحمہ اللہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس میں نماز کے مختصر ہونے کا مبالغہ ہے کیونکہ آپ کی عام عادت یہ تھی کہ آپ نفل نماز لمبی پڑھتے اور فجر کی سنتیں ان کی نسبت انتہائی مختصر ہوتی تھیں۔ دیکھیے [شرح صحیح مسلم للنووي: 9-6/6]
➋ فجر کی دو سنتوں میں مذکورہ آیات کی قرأت کرنا مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 945 سے ماخوذ ہے۔