حدیث نمبر: 726
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، قُلْ : يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں میں «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» تلاوت کیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 726
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 946 | سنن ابي داود: 1256 | سنن ابن ماجه: 1148 | مسند الحميدي: 290

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1256 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1256]
1256۔ اردو حاشیہ:
اس قرأت کا اختیار و التزام مستحب ہے اور معنوی اعتبار سے بھی اس کی خاص اہمیت ہے کہ دن کی ابتداء ہی میں مسلمان کفر و کفار سے اپنی براءت اور اللہ عزوجل کی توحید اور اس کے اسماء و صفات کا اظہار و اقرار کرتا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر قرأت کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1256 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1148 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1148]
اردو حاشہ:
فائده:
کسی اور مقام سے قرآن مجید پڑھنا بھی درست ہے۔ (دیکھئے فوائد حدیث: 1144)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1148 سے ماخوذ ہے۔