صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا: باب: فجر کی سنت کی فضیلت و رغبت کا بیان اور ان کو ہلکا پڑھنا اور ہمیشہ پڑھنا اور ان میں جو قرأت زیادہ مستحب ہے اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، إِذَا سَمِعَ الأَذَانَ ، وَيُخَفِّفُهُمَا " .عبدہ بن سلیمان نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سنتے تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے اور ان میں تخفیف کرتے تھے۔
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ . ح ، وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح ، وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ . ح ، وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ : إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ .علی بن مسہر، ابواسامہ، عبداللہ بن نمیر، اور وکیع سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی، البتہ ابواسامہ کی روایت میں (جب اذان سننے کی بجائے) ”جب فجر طلوع ہوتی“ کے الفاظ ہیں۔
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے دوران دو رکعت پڑھتے تھے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، فَيُخَفِّفُ ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ : هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ؟ " .یحییٰ بن سعید نے کہا: مجھے محمد بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انہوں نے عمرہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی (سنت) دو رکعتیں پڑھتے اور ان کو اتنا ہلکا پڑھتے کہ میں (دل میں) کہتی تھی: کیا آپ نے ان میں فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً فاتحہ بھی بہت ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ ، سَمِعَ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، أَقُولُ : هَلْ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ فَاتِحَةِ الْكِتَاب ؟ " .شعبہ نے محمد بن عبدالرحمان انصاری سے روایت کی، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمان سے سنا، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں ادا کرتے۔ (دل میں) کہتی: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں فاتحہ پڑھتے ہیں؟
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ ، عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ " .یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن عبید بن عمیر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی اور (نماز) کی اتنی زیادہ پاسداری نہیں کرتے تھے جتنی آپ صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کی کرتے تھے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَسْرَعَ مِنْهُ ، إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " .حفص نے ابن جریج سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی نفل (کی ادائیگی) کے لیے اس قدر جلدی کرتے نہیں دیکھا جتنی جلدی آپ نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے لیے کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ظاہر کے اعتبار سے اس حدیث کا عنوان سے کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا کیونکہ عنوان طلوع فجر کے بعد اذان دینے سے متعلق ہے جبکہ حدیث اقامت اور اذان کے درمیان دورکعت پڑھنے کے بارے میں ہے۔
دراصل امام بخاری ؒ کا اپنی صحیح میں یہ اسلوب ہے کہ بعض اوقات ایک حدیث کے ذریعے سے کسی دوسری حدیث کی طرف اشارہ مقصود ہوتا ہے، چنانچہ اس مقام پر بھی آپ نے یہی انداز اختیار کیا ہے کہ آپ نے حضرت عائشہ ؓ سے مروی ایک دوسری حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسی سے عنوان ثابت ہوتا ہے، چنانچہ ان سے روایت ہے کہ جب مؤذن نماز صبح کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور نماز فجر ادا کرنے سے پہلے ہلکی پھلکی دورکعت ادا کرتے۔
سنتوں کی یہ ادائیگی فجر کے روشن ہونے کے بعد ہوتی۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 626)
اس روایت میں وضاحت ہے کہ صبح کی نماز کےلیے طلوع فجر کے بعد اذان دی جاتی تھی۔
اس حدیث سے تو باب کا مطلب نہیں نکلتا، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے جو آگے حدیث (626) میں آئے گا۔ اس میں صاف وضاحت ہے کہ صبح کی نماز کے لیے اذان فجر واضح ہونے کے بعد کہی جاتی تھی۔ [فتح الباري] بعضوں نے کہا: اذان اور تکبیر کے بیچ میں یہ رکعتیں پڑھنے سے باب کا مطلب نکل آیا، کیونکہ اگر رات سے اذان ہو گی تو یہ رکعتیں بیچ میں نہ ہوں گی بلکہ تکبیر سے قریب ہوں گی۔ [تيسير الباري]
آج کل گھڑی گھنٹوں کا زمانہ ہے۔
ہرنمازی مسلمان اپنے ہاں کی جماعتوں کے اوقات کو جانتا ہے پس، اگر کوئی شخص عین جماعت کھڑی ہونے کے وقت پر گھر سے نکل کر شامل جماعت ہوتو یہ بھی درست ہے۔
(1)
متعدد روایات میں اذان سننے کے بعد فورا جماعت کےلیے مسجد میں آنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ مسجد میں جماعت کا انتظار کرنے والے کے مترادف شمار کیا گیا ہے۔
امام بخاری ؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا گھر مسجد کے قریب ہے اور وہ اذان سننے کے فوراً بعد مسجد میں آنے کے بجائے اپنے گھر میں اقامت کا انتظار کرتا ہے تو اسے نماز کےلیے جلدی چلے آنے ہی کا ثواب ملے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ گھر میں نماز کے لیے اقامت کا انتظار فرماتے تھے۔
بعض علماء کا موقف ہے کہ رسول اللہ ﷺ چونکہ امام تھے اور امام اذان سننے کے بعد فوراً مسجد میں چلے آنے کا پابند نہیں ہے، اس لیے گھر میں تکبیر کا انتظار کرنا امام کے ساتھ خاص ہے، کوئی دوسرا اس خصوصیت میں اس کا شریک نہیں۔
(2)
اس حدیث میں تکبیر کے اعتبار سے اذان فجر کو پہلی اذان کہا گیا ہے۔
گویا اس اذان کی دو حیثیتیں ہیں: سحری کی اذان کے مقابلے میں اسے اذان ثانی کہا جاتا ہے اور جماعت کے لیے اقامت کے اعتبار سے اسے اذان اولیٰ کہا گیا ہے، نیز بیہقی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اذان کے بعد مسجد میں تشریف لے جاتے، اگر مسجد میں نمازی کم ہوتے تو وہیں بیٹھ کر انتظار فرماتے، جب نمازی جمع ہوجاتے تو نماز پڑھاتے۔
یہ حدیث درج بالا حدیث کے مخالف نہیں، کیونکہ بیہقی کی روایت کا تعلق نماز صبح کے علاوہ دوسری نمازوں سے ہے اور حدیث بالا کا تعلق نماز صبح سے ہے۔
اور ممکن ہے آپ مؤذن کی اطلاع کے بعد مسجد میں تشریف لے جاتے ہوں اور وہاں جا کر نمازیوں کا انتظار فرماتے ہوں۔
(فتح الباري: 144/2)
باب: اذان سن کر جو شخص (گھر میں بیٹھا) تکبیر کا انتظار کرے۔
فائدہ:
اس باب سے امام بخاری رحمہ اللہ کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اذان کے بعد کوئی شخص اگر اقامت تک گھر میں رہے اور اقامت کا وقت ہونے پر مسجد میں جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ بخاری رحمہ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف امام کے لیے ہے کہ وہ اقامت کا وقت ہونے تک گھر میں اقامت کا انتظار کرے، کیونکہ مقتدی کو معلوم نہیں امام کب نماز کھڑی کر دے، ہاں! جس کا گھر مسجد کے قریب ہو اور وہ اقامت شروع ہونے پر شامل ہو سکتا ہو اس کے لیے اجازت ہے۔ آج کل گھڑیاں تقریباً سب کے پاس موجود ہیں، اس لیے اس انتظار کی گنجائش ہر ایک کے پاس ہے، البتہ پہلے جا کر نماز کے انتظار میں بیٹھنا افضل ہے، سوائے امام کے کہ اس کا اقامت کے وقت مسجد میں آنا مسنون ہے۔
فوائد:
➊ فجر کی پہلی اذان سے مراد وہ اذان ہے جو فجر طلوع ہونے کے بعد اقامت سے پہلے ہوتی ہے، اسے اقامت کے لحاظ سے پہلی کہا گیا ہے، کیونکہ اقامت بھی اذان کے الفاظ پر مشتمل ہے۔ «اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» کے کلمات بھی اسی اذان میں کہے جاتے ہیں۔ اس سے مراد وہ اذان نہیں جو صبح صادق سے پہلے کہی جاتی ہے، کیونکہ صبح کی دو رکعتیں اس اذان کے بعد نہیں ہوتیں بلکہ اقامت سے پہلے والی اذان کے بعد ہوتی ہیں۔
➋ باب کے ساتھ حدیث کا تعلق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے بعد دو رکعتیں پڑھ کر مؤذن کے آنے تک دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، اس سے معلوم ہوا کہ اذان کے بعد اقامت کے انتظار میں گھر کے اندر لیٹ سکتا ہے، خصوصاً امام اور جس کا کھر مسجد کے اتنا قریب ہو کہ وہ اقامت سن کر تکبیر تحریمہ کے ساتھ مل سکتا ہو۔ دوسرے لوگوں کے لیے افضل یہ ہے کہ مسجد میں آ کر انتظار کریں، تاکہ پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی فضیلت سے محروم نہ رہیں۔
ابن ماجہ میں ہے کہ آپ ﷺ ان میں سورۃ کافرون اور سورۃ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔
(1)
اس روایت کے معنی یہ نہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کو فجر کی دو سنتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کے متعلق شک تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے علاوہ دیگر نوافل میں بہت لمبی قراءت کرتے تھے اور فجر کی دو سنتوں میں تخفیف فرماتے۔
اگر ان میں قراءت کا موازنہ دوسرے نوافل کی قراءت سے کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے قراءت ہی نہیں کی۔
(2)
اس روایت کے پیش نظر بعض حضرات نے کہا ہے کہ فجر کی دو سنتوں میں سرے سے قراءت نہیں، حالانکہ اس حدیث کا یہ مقصد نہیں، جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، نیز حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فجر کی دو سنتوں میں سورۂ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ﴿١﴾)
اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴿١﴾)
پڑھیں۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1890(726)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی دو سنتوں میں ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٦﴾) (البقرة: 136: 2)
اور ﴿فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّـهِ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿٥٢﴾) (آل عمران52: 3)
پڑھا کرتے تھے۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1891(727) (3)
فجر کی دو سنتیں چونکہ نماز تہجد کے بعد ادا کی جاتی ہیں، اس لیے مصنف نے مناسب خیال کیا کہ تہجد کے بعد ان کے مسائل و احکام سے آگاہ کر دیا جائے۔
(فتح الباري: 62/3)
مگر اس لیٹنے کو برا جاننا فعل رسول کی تنقیص کرناہے
(1)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنا ضروری نہیں، سنتوں اور فرضوں کے درمیان گفتگو سے بھی فصل کیا جا سکتا ہے۔
امام شافعی ؒ نے اس موقف کو اختیار کیا ہے کہ سنتوں کے بعد لیٹنے کا مقصد صرف فرض اور سنت میں فصل کرنا ہے، وہ لیٹنے کے علاوہ کسی چیز سے بھی ہو سکتا ہے، لیکن امام نووی ؒ نے حدیث ابو ہریرہ کے پیش نظر اسے سنت قرار دیا ہے کیونکہ راوئ حدیث حضرت ابو ہریرہ ؓ نے سنتوں کی ادائیگی کے بعد مسجد کی طرف چل کر آنے کو کافی نہیں سمجھا جیسا کہ مروان نے کہا تھا بلکہ لیٹنے کی تلقین کی ہے۔
(سنن أبي داود، التطوع، حدیث: 1281) (2)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ اگر گھر میں سنت پڑھی جائیں تو لیٹنا چاہیے، مسجد میں لیٹنا درست نہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ مسجد میں لیٹنے والے کو کنکریاں مارتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شیبة)
امام بخاری ؒ کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اگر سنت سے فراغت کے بعد لیٹتے تو گفتگو نہ فرماتے اور اگر گفتگو کرتے تو لیٹتے نہیں تھے اور امام ابن خزیمہ ؒ نے بھی اپنی صحیح میں اسی قسم کا عنوان قائم کیا ہے، لیکن امام احمد ؒ نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز تہجد پڑھتے، فراغت کے بعد لیٹ جاتے، اگر میں بیدار ہوتی تو میرے ساتھ گفتگو فرماتے اور اگر میں نیند میں ہوتی تو آپ بھی سو جاتے حتی کہ آپ کے پاس صبح کی نماز کے لیے مؤذن آتا۔
(مسند أحمد: 35/6)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لیٹنے کے دوران میں گفتگو کرتے تھے۔
بہرحال صبح کی دو سنت پڑھنے کے بعد لیٹنا مشروع ہے، اسے خلاف سنت قرار دینا درست نہیں۔
(فتح الباري: 58/3)
یہاں حضرت امام بخاری ؒ نے اس کے متعلق یہ باب منعقد فرمایا ہے اور حدیث عائشہ ؓ سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ فجر کی سنتوں کے بعد تھوڑی دیر کے لیے دائیں کروٹ پر لیٹا کرتے تھے۔
علامہ شوکانی نے اس بارے میں علماءکے چھ قول نقل کئے ہیں۔
المحدث الکبیر علامہ عبد الرحمن مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں: الْأَوَّلُ أَنَّهُ مَشْرُوعٌ عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِحْبَابِ كَمَا حَكَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الْحَافِظُ بن الْقَيِّمِ فِي زَادِ الْمَعَادِ قَدْ ذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي الْمُصَنَّفِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عن بن سِيرِينَ أَنَّ أَبَا مُوسَى وَرَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانُوا يَضْطَجِعُونَ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَيَأْمُرُونَ بِذَلِكَ وَقَالَ الْعِرَاقِيُّ مِمَّنْ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَوْ يُفْتِي بِهِ عَنِ الصَّحَابَةِ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ انْتَهَى وَمَنْ قَالَ بِهِ مِنَ التَّابِعِينَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ كَمَا فِي شَرْحِ الْمُنْتَقَى وَقَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ عَلِيُّ بْنُ حَزْمٍ فِي الْمُحَلَّى وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ فِي كِتَابِ السَّبْعَةِ أَنَّهُمْ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَأَبَا بَكْرٍ هُوَ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ كَانُوا يَضْطَجِعُونَ عَلَى أَيْمَانِهِمْ بَيْنَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ انْتَهَى وَمِمَّنْ قَالَ بِهِ مِنَ الْأَئِمَّةِ الشَّافِعِيُّ وَأَصْحَابُهُقَالَ الْعَيْنِيُّ فِي عمدة القارىء ذَهَبَ الشَّافِعِيُّ وَأَصْحَابُهُ إِلَى أَنَّهُ سُنَّةٌ انْتَهَى۔
(تحفة الأحوذي)
یعنی اس لیٹنے کے بارے میں پہلا قول یہ ہے کہ یہ مستحب ہے جیسا کہ امام ترمذی نے بعض اہل علم کا مسلک یہی نقل فرمایا ہے اور ابوموسی اشعری اور رافع بن خدیج اور انس بن مالک اور ابوہریرہ ؓ کا یہی عمل تھا، یہ سب سنت فجر کے بعد لیٹا کرتے اورلوگوں کو بھی اس کاحکم فرمایاکرتے تھے جیسا کہ علامہ ابن قیم ؒ نے زاد المعاد میں نقل فرمایا ہے اور علامہ عراقی نے ان جملہ مذکورہ صحابہ کے نام لکھے ہیں کہ یہ اس کے لیے فتوی دیاکرتے تھے، تابعین میں سے محمد بن سیرین اور عروہ بن زبیر کا بھی یہی عمل تھا۔
جیسا کہ شرح منتقیٰ میں ہے اور علامہ ابن حزم نے محلّی میں نقل فرمایا ہے کہ سعید بن مسیب، قاسم بن محمد بن ابی بکر، عروہ بن زبیر، ابو بکر بن عبدالرحمن، خارجہ بن زید بن ثابت اور عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن سلیمان بن یسار، ان جملہ اجلہ تابعین کا یہی مسلک تھا کہ یہ فجر کی سنتیں پڑھ کر دائیں کروٹ پر لیٹا کرتے تھے۔
امام شافعی اوران کے شاگردوں کا بھی یہی مسلک ہے کہ یہ لیٹنا سنت ہے۔
اس بارے میں دوسرا قول علامہ ابن حزم کا ہے جو اس لیٹنے کو واجب کہتے ہیں۔
اس بارے میں علامہ عبد الرحمن مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں: قُلْتُ قَدْ عَرَفْتَ أَنَّ الْأَمْرَ الْوَارِدَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ مَحْمُولٌ عَلَى الِاسْتِحْبَابِ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُدَاوِمُ عَلَى الِاضْطِجَاعِ فَلَا يَكُونُ وَاجِبًا فَضْلًا عَنْ أَنْ يَكُونَ شَرْطًا لِصِحَّةِ صَلَاةِ الصُّبْحِ۔
یعنی حدیث ابوہریرہ ؓ میں اس بارے میں جو بصیغہ امر وارد ہوا ہے کہ جوشخص فجر کی سنتوں کو پڑھے اس کو چاہیے کہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹے۔
(رواہ الترمذي)
یہ امر استحباب کے لیے ہے۔
اس لیے کہ آنحضرت ﷺ سے اس پر مداومت منقول نہیں ہے بلکہ ترک بھی منقول ہے۔
پس یہ بایں طور واجب نہ ہوگا کہ نماز صبح کی صحت کے لیے یہ شرط ہو۔
بعض بزرگوں سے اس کا انکار بھی ثابت ہے مگر صحیح حدیثوں کے مقابلے پر ایسے بزرگوں کا قول قابل حجت نہیں ہے۔
اتباع رسول کریم ﷺ بہر حال مقدم اور موجب اجر وثواب ہے۔
پچھلے صفحات میں علامہ انورشاہ دیوبندی مرحوم کا قول بھی اس بارے میں نقل کیا جا چکاہے۔
بحث کے خاتمہ پر علامہ عبد الرحمن مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں۔
والقول الراجح المعمول علیه ھو أن الاضطجاع بعد سنة الفجر مشروع علی طریق الاستحباب واللہ تعالی أعلم۔
یعنی قول راجح یہی ہے کہ یہ لیٹنا بطور استحباب مشروع ہے۔
(1)
صبح کی دو سنت کے بعد لیٹنے کے متعلق افراط و تفریط پایا جاتا ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ دائیں کروٹ پر لیٹنا ضروری ہے اور صحت نماز کی شرط ہے۔
جیسا کہ امام ابن حزم ؒ نے محلیٰ میں لکھا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں امر نبوی وارد ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی صبح کی دو سنت پڑھے تو اسے چاہیے کہ دائیں کروٹ لیٹے۔
‘‘ (سنن أبي داود، التطوع، حدیث: 1281)
ابراہیم نخعی ؒ نے اسے شیطان کا لیٹنا قرار دیا ہے۔
جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے۔
(فتح الباري: 57/3)
امام بخاری ؒ نے اس کی مشروعیت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل مبارک ہے اور اس سلسلے میں جو امر وارد ہے وہ وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے کیونکہ بعض اوقات آپ نے اس پر عمل نہیں بھی کیا۔
جیسا کہ آئندہ حدیث سے واضح ہو گا۔
(2)
لیٹنے کے دوران میں جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
واللہ أعلم۔
کے ساتھ ادا کرتے تھے اور ان میں تلاوت زیادہ نہیں فرماتے تھے تاکہ صبح کی فرض نماز میں قرآءت طویل کی جا سکے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1262]
➊ اس حدیث میں وتروں کے بعد گفتگو کرنے اور دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ جانے کا ذکر ہے۔ جس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ فجر کی دو سنتوں کے بعد لیٹنا سنت نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو یوں ہی استرحت کے لیے لیٹ جاتے تھے، کبھی نماز تہجد کے بعد (جیسا کہ اس حدیث میں ہے) اور کبھی فجر کی سنتوں کے بعد۔ لیکن یہ استدلال اس لیے صحیح نہیں کہ اس حدیث میں گفتگو کرنے اور وتروں کے بعد لیٹنے والی بات محفوظ نہیں ہے یعنی ایک راوی کو وہم ہوا ہے، جب کہ دوسرے تمام راویوں نے لیٹنے کا ذکر سنتوں کے بعد ہی کیا ہے۔ اس لیے فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کو غیر مستحب قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو: [فتح الباري، باب من تحدث بعد الركعتين ولم يضطجع: 3/56]
علاوہ ازیں شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے اور گفتگو کرنے کو ”شاذ“ قرار دیا ہے۔ [ضعيف ابوداؤد]
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وتروں کے بعد دو رکعتیں نفل پڑھنا بھی جائز ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ ’’تم وتر کو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔“ تو یہ حکم وجوب کے طور پر نہیں، استحباب کے طور پر ہے۔ [مرعاة المفاتيح]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی سنتیں پڑھتے دیکھتی، آپ انہیں اتنی ہلکی پڑھتے کہ میں (اپنے جی میں) کہتی تھی: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے (یا نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 947]
➋ مذکورہ قرأت سورۂ فاتحہ کے علاوہ ہے۔ یہ نہیں کہ صرف یہ آیات یا یہ سورتیں ہی پڑھتے تھے۔ سورۂ فاتحہ کے بارے میں تو آپ کا صریح فرمان ہے کہ جو فاتحہ نہ پڑھے، اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 756، و صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 874]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1781]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے، اور فجر نمودار ہونے کے بعد فجر کی نماز سے پہلے ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1763]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو دائیں کروٹ لیٹ جاتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1198]
فائده:
فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنا سنت ہے۔
لیکن نبی اکرمﷺ سے بعض اوقات نہ لیٹنا بھی ثابت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی سے مروی ہے۔
انھوں نے فرمایا نبی اکرمﷺ جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے بات چیت كرتے ورنہ لیٹ جائے حتیٰ کہ آپ کو نماز (کی اقامت ہوجانے)
کی اطلاع دی جاتی۔ (صحیح البخاري، التهجد، باب من تحدث بعدالرکعتین ولم یضطع، حدیث: 1161)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے پہلے دو رکعت ہلکی پڑھتے تھے۔ میں خیال کرتی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف «ام الكتاب» (سورۃ الفاتحہ) ہی پڑھی۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 287»
«أخرجه البخاري، التهجد، باب ما يقرأ في ركعتي الفجر، حديث:1171، ومسلم، صلاة المسافرين، باب استحباب ركعتي سنة الفجر، حديث:724.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صبح کی دو سنتیں مختصر اور ہلکی پڑھتے تھے۔
امام شافعی اور جمہور علماء رحمہما اللہ نے اسی بنا پر کہا ہے کہ ان دو رکعتوں میں مختصر قیام افضل ہے جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان میں بھی لمبا قیام افضل قرار دیتے ہیں۔
لیکن یہ صحیح نہیں۔
ان کے دونوں شاگرد امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ نے بھی ان کی مخالفت کی ہے۔
سورۂ فاتحہ کے علاوہ آپ چھوٹی سورتیں پڑھتے تھے جیسا کہ آئندہ حدیث میں ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کی دو رکعت سنت پڑھ کر فارغ ہوتے تو اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 289»
«أخرجه البخاري، التهجد، باب الضجعة علي الشق لأيمن بعد ركعتي الفجر، حديث:1160.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فجر سے پہلے دو سنتوں کو ادا کر کے آپ اپنے دائیں پہلو پر تھوڑا سا لیٹ کر استراحت فرمایا کرتے تھے بلکہ ایک روایت میں آپ نے اس کا حکم بھی فرمایا ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں آرہاہے۔
اس کی شرعی حیثیت کے متعلق آراء مختلف ہیں مگر صحیح موقف کے مطابق یہ مسنون اور مستحب ہے۔
نماز فجر کی دو سنتیں بلکی پڑھنی چاہئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قطعاً مقصد نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھی ہی نہیں، بلکہ ان رکعتوں کے خفیف ہونے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں، فافھم۔ دیگر احادیث نے بھی وضاحت کر دی ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔