صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا: باب: فجر کی سنت کی فضیلت و رغبت کا بیان اور ان کو ہلکا پڑھنا اور ہمیشہ پڑھنا اور ان میں جو قرأت زیادہ مستحب ہے اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَن ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الأَذَانِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَبَدَا الصُّبْحُ ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ " .حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب مؤذن صبح کی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا اور صبح نمودار ہو جاتی تو رسول اللہ ﷺ نماز کی اقامت سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح . وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح ، وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّهُمْ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، كَمَا قَالَ مَالِكٌ .لیث بن سعد، عبیداللہ اور ایوب سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت بیان کی ہے جس طرح امام مالک رحمہ اللہ نے کی۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے زید بن محمد سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے نافع سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کرتے تھے اور وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کر رہے تھے، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتوں کے سوا کوئی نماز نہ پڑھتے تھے۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہ روایت نقل کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .سالم نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب فجر روشن ہو جاتی تو آپ دو رکعتیں نماز پڑھتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
إذا اعتكف کے معنی یہ ہیں کہ جب مؤذن فجر کے انتظار میں رہتا تاکہ صبح اچھی طرح روشن ہوجائے تو اذان دے۔
مؤذن کی اذان کے بعد رسول اللہ ﷺ دو رکعت سنت فجر پڑھتے تھے۔
جیسا کہ دوسری روایت میں ہے کہ جب مؤذن اذان دیتا اور صبح خوب روشن ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ دو رکعت پڑھتے۔
(صحیح البخاري، التطوع، حدیث: 1181)
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر طلوع ہونے کے بعد ہلکی پھلکی دو رکعت پڑھتے تھے۔
(صحیح البخاري، التطوع، حدیث: 1173)
(2)
امام بخاری ؒ کے اس عنوان پر دواعتراض ہیں: ٭یہ بات تو واضح ہے کہ فجر کے بعد اذان ہوتی ہے، لہٰذا عیاں را چہ بیاں؟ اگر اس عنوان کا اہتمام ضروری تھا تو زوال کے بعد اذان اور غروب کے بعد اذان کے عنوانات کو کیوں نظر انداز کیا گیا ہے؟ ٭ترتیب کا تقاضا یہ تھا کہ پہلے قبل از فجر اذان کا عنوان قائم کیا جاتا، پھر اذان بعد از فجر کا باب ہوتا۔
ہمارے نزدیک ان اعتراضات کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ اذان فجر جو اصل ہے وہ تو بعد از فجر ہی ہے اور قبل از فجر اذان نماز کے لیے نہیں بلکہ اس کے اور مقاصد ہیں۔
چونکہ اذان بعد از فجر اصل تھی، اس لیے اسے پہلے بیان کیا اور قبل از فجر اذان کی حیثیت ثانوی تھی، اس لیے اسے بعد میں بیان فرمایا۔
➊ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب اس لیے قائم کیا ہے کہ بعض اہل علم فجر سے پہلے اذان کو فجر کی نماز کے لیے کافی سمجھتے ہیں، بلکہ بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ آدھی رات کے بعد اذان کہہ دی جائے تو صبح کی اذان کی جگہ کافی ہے۔ بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ صبح کی نماز کے لیے اذان فجر کے بعد کہنا ضروری ہے، اس سے پہلے کہی ہوئی اذان نمازِ فجر کے لیے کافی نہیں، کیونکہ اس کا مقصد صبح کی نماز کی اطلاع دینا نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ اس لیے امام صاحب نے فجر کے بعد اذان کہنے کا باب پہلے ذکر کیا اور فجر سے پہلے اذان کہنے کا باب بعد میں ذکر کیا۔
➋ صحیح بخاری کے اکثر نسخوں میں «كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ الْمُؤَذِّنُ لِلصُّبْحِ» کے الفاظ ہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق یہ کسی کاتب کی خطا ہے، اسے یوں ہونا چاہیے: «كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ» کہ جب مؤذن صبح کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا۔ کیونکہ امام بخاری نے یہ حدیث امام مالک سے روایت کی اور امام مالک کی موطا میں ایسے ہی ہے کہ «إِذا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ» یعنی جب مؤذن صبح کی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا، اور امام مسلم نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ [تيسر الباري]
بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ «اعْتَكَفَ» کا معنی ہے کہ مؤذن صبح کے انتظار میں جم کر بیٹھا ہوتا کہ جوں ہی صبح روشن ہو اذان کہہ دے، جب وہ اذان کہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جماعت سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ چنانچہ بخاری رحمہ اللہ نے «بَابُ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ» میں «عن ايوب عن نافع» کے طریق سے ان الفاظ میں روایت بیان کی ہے: «كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَطَلَعَ الْفَجْرُ ...» "جب مؤذن اذان کہتا اور فجر طلوع ہوتی تو آپ دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔" [فتح الباري]
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر طلوع ہونے کے بعد صرف دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 584]
یاد رہے کہ طلوع فجر سے طلوع شمس تک ان دو رکعتوں کے علاوہ نفل نماز جائز نہیں۔
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے دو ہلکی رکعتوں کے کچھ اور نہیں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1777]
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب صبح کی نماز کی اذان دی جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے کہ نماز کھڑی ہو ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1761]
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی اذان دے دی جاتی تو نماز کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے۔ اور سالم نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہم سے، اور انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1778]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: دونوں حدیثیں ہمارے نزدیک غلط ہیں ۱؎ واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1767]
«. . . وبه: عن ابن عمر ان حفصة ام المؤمنين اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا سكت المؤذن من الاذان لصلاة الصبح، صلى ركعتين خفيفتين قبل ان تقام الصلاة . . .»
". . . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب موذن صبح کی نماز کے لئے اذان سے فارغ ہو کر خاموش ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی اقامت سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑ ھتے تھے . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 150]
تفقه:
➊ صبح کی اذان کے بعد صرف دو سنتیں ہیں۔
➋ جو شخص گھر میں صبح کی دو سنتیں پڑھ کر مسجد جائے تو وہ تحية المسجد نہ پڑھے۔ یا تو کھڑا رہے یا بیٹھ جائے۔
➌ صبح صادق ہوتے ہی صبح کی اذان دینی چاہئے۔
➍ صبح کی دو سنتیں بہت زیادہ لمبی نہیں پڑھنی چاہیئں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی دو سنتوں کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے۔ دیکھئے [صحيح بخاري 1169، وصحيح مسلم 724/94]
معلوم ہوا کہ یہ سنت موکدہ ہیں۔ دیکھئے: [التمهيد 311/15]