صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ صَلاَةِ الضُّحَى وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَأَوْسَطَهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتٌّ وَالْحَثِّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: باب: نماز چاشت کے استحباب کا بیان کم از کم اس کی دورکعتیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں اور درمیانی چار یا چھ ہیں اور ان کو ہمیشہ پڑھنے کی ترغیبیں۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى ؟ قَالَتْ : أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ " .عبدالوارث نے کہا: ہمیں یزید رشک نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے معاذہ نے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز کتنی (رکعتیں) پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے (پڑھ لیتے)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : يَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ .مصنف نے یہی روایت دوسری سند سے بیان کی ہے، اس میں مَاشَاءَ کی بجائے مَاشَاءَ اللّٰھُ ہے۔
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ حَدَّثَتْهُمْ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ " .سعید نے کہا: قتادہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ معاذہ عدویہ نے ان (حدیث سننے والوں) کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعتیں پڑھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا زیادہ (بھی) پڑھ لیتے۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .معاذ بن ہشام نے روایت کی، کہا: مجھے میرے والد نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز الضحی (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، چار رکعت، اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1381]
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہواکہ ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ضحیٰ (چاشت)
کی نمازپڑھتے دیکھا ہے۔
اور مسئلہ تو ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے بھی ثابت ہوجاتا ہے۔
(2)
ضحیٰ کی نماز آٹھ رکعت سے کم یا زیادہ بھی پڑھی جاسکتی ہے اس کی کم از کم مقدار دو رکعت ہے۔ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب صلاۃ الضحیٰ۔
۔
۔
، حدیث: 721، 720)
فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں۔
حدیث 1379 میں اسی واقعہ کی طرف اشار ہ ہے۔