صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلاَتِهِمَا وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الأَوْقَاتِ: باب: دو رکعات تحیۃ المسجد پڑھنا مستحبب ہے اور دو رکعت پڑھے بغیر مسجد میں بیٹھنے کے مکروہ ہونے اور ان دو رکعتوں کے تمام اوقات میں مشروع ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ ، فَقَضَانِي ، وَزَادَنِي ، وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ لِي : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .سفیان نے محارب بن وثار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا، آپ نے اسے ادا کیا اور مجھے زائد رقم دی اور جب میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”دو رکعت نماز ادا کر لو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ ، فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .شعبہ نے محارب سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي ، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَعْ جَمَلَكَ ، وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ " .وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرے اونٹ نے مجھے دیر کرا دی اور تھک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آ گئے اور میں اگلے دن پہنچا، میں مسجد میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اب اس وقت تک پہنچے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔“ میں مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر واپس (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ ، قَالَ : فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ ، قَالَ : بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ ، قُلْتُ : لَا ، ثُمَّ قَالَ : بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي ، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ ، فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي ، فَقَالَ : أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ ، خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ " ،عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے عامر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا، انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ اسے چھوڑ دیں، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ کر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اور اسے (ہلکی سی) ضرب لگائی تو وہ اس طرح چلنے لگا جس طرح (پہلے) کبھی نہ چلا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اسے میرے پاس فروخت کر دو۔“ تو میں نے اسے ایک اوقیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فروخت کر دیا اور اپنے گھر تک اس پر سواری کرنے کو مستثنیٰ کر لیا۔ جب میں (مدینہ) پہنچا (تو) اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی نقد قیمت ادا فرما دی، پھر میں واپس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے پیغام بھیجا اور فرمایا: ”کیا تم میرے بارے میں سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارا اونٹ لینے کے لیے تم سے کم قیمت پر سودا کرنے کی کوشش کی؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی، وہ (سب) تمہارا ہے۔“
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .عیسیٰ بن یونس نے ہمیں زکریا سے خبر دی، انہوں نے عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی۔۔ ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : مَا لِبَعِيرِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : عَلِيلٌ ، قَالَ : فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ ، قَالَ : أَفَتَبِيعُنِيهِ ؟ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي عَرُوسٌ ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي ، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ : وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ : مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ ، فَقُلْتُ لَهُ : تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا ، قَالَ : أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا ؟ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ ، فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ " ،مغیرہ نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ لڑا، آپ پیچھے سے آ کر مجھے ملے جبکہ میں اپنے پانی ڈھونے والے اونٹ پر تھا جو تھک چکا تھا اور چل نہ پاتا تھا۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کی: بیمار ہے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہوئے، اسے دوڑایا اور اس کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد وہ مسلسل سب اونٹوں سے آگے چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنے اونٹ کو کیسا پا رہے ہو؟“ میں نے عرض کی: بہت بہتر ہے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت حاصل ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مجھے وہ فروخت کرو گے؟“ اس پر میں نے حیاء محسوس کی (کہ ایسا اونٹ جسے میں راہ ہی میں چھوڑ دینے کا ارادہ کر چکا تھا اور جو محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ٹھیک ہوا، اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیمت لوں۔) اور ہمارے پاس اس کے سوا پانی لانے والا اور اونٹ بھی نہ تھا (اس لیے بھی میں تردد کا شکار ہوا۔) کہا: پھر میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ میں نے آپ کو وہ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس کی پشت کی ہڈی (پر سواری) میری ہو گی۔ کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نیا نیا دلہا ہوں، میں نے آپ سے (تیزی سے گھر جانے کی) اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں لوگوں سے آگے مدینہ کی طرف چل پڑا حتیٰ کہ میں پہنچ گیا، مجھے میرے ماموں نے ملے اور انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا، میں نے جو کیا تھا انہیں بتا دیا تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ کہا: جب میں نے (گھر جانے کی) اجازت مانگی تھی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تھا: ”تم نے کس سے شادی کی: باکرہ سے یا دوہاجو سے؟“ میں نے عرض کی: میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے باکرہ سے کیوں شادی نہ کی، تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد فوت۔۔ یا شہید۔۔ ہو گئے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے اور نہ ان کی نگہداشت کر پائے، اس لیے میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگہداشت کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، (تو) میں صبح کے وقت آپ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی اور وہ (اونٹ) بھی مجھے واپس کر دیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ : لَا بَلْ هُوَ لَكَ ، قَالَ : لَا بَلْ بِعْنِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَا بَلْ بِعْنِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا ، قَالَ : قَدْ أَخَذْتُهُ ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ : " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ : فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ ،سالم بن ابی جعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ (کی جانب) سے مدینہ آئے، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا۔۔۔ اور انہوں نے (ان سے) مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ (ویسے ہی) آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: ایک آدمی کا میرے ذمے سونے کا ایک اوقیہ (تقریبا 29 گرام) ہے، اس کے عوض یہ آپ کا ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے لے لیا، تم اس پر مدینہ تک پہنچ جاؤ۔“ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انہیں ایک اوقیہ سونا اور کچھ زیادہ بھی دو۔“ کہا: انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زائد دیا۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زائد عطیہ مجھ سے کبھی الگ نہ ہو گا۔ کہا: تو وہ میری تھیلی میں رہا حتیٰ کہ حرہ کی جنگ کے دن اہل شام نے اسے (مجھ سے) چھین لیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ : فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ " وَزَادَ أَيْضًا قَالَ : فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ : " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " .حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو میرا پانی ڈھونے والا اونٹ پیچھے رہ گیا، اور مذکورہ بالا روایت بیان کی، اور اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچوکا لگایا، پھر مجھے فرمایا، "بسم اللہ پڑھ کر اس پر سوار ہو جا،" اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے، آپ مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے رہے، اور فرماتے: "اللہ تمہیں معاف فرمائے۔"
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي ، قَالَ : فَنَخَسَهُ ، فَوَثَبَ فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ ، فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بِعْنِيهِ ، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ ، قَالَ : قُلْتُ : عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي " ،حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ تک پہنچے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا، تو وہ اچھل پڑا، اس کے بعد میں اس کی نکیل کھینچتا تھا تاکہ میں آپﷺ کی بات سن سکوں، لیکن وہ میرے قابو نہیں آتا تھا یا اس کی تیز سے بات سن نہیں سکتا تھا، تو مجھ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے، اور فرمایا، ”اسے مجھے بیچ دو۔‘‘ تو میں نے اسے آپﷺ کو پانچ اوقیہ میں بیچ دیا، اور میں نے کہا، اس شرط پر کہ مدینہ تک اس پر میں سوار ہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ تک تم ہی اس پر سوار رہو گے۔‘‘ تو جب میں مدینہ پہنچا، اسے لے کر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپﷺ نے مجھے ایک اوقیہ زیادہ دیا، پھر وہ اونٹ بھی مجھے ہبہ کر دیا۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ ، قَالَ : غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : " يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، میں آپﷺ کے کسی سفر میں آپﷺ کے ساتھ شریک تھا، راوی کا خیال ہے، وہ جنگی سفر تھا، آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی، اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپﷺ نے فرمایا، ”اے جابر، کیا تو نے پوری قیمت وصول کر لی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: ”قیمت بھی تیری، اونٹ بھی تیرا، قیمت بھی تیری، اونٹ بھی تیرا۔‘‘
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ : أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ ، فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ ، فَأَرْجَحَ لِي " ،معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں میں اونٹ خریدا۔ جب آپ صرار (کے مقام پر) آئے تو آپ نے گائے (ذبح کرنے) کا حکم دیا، وہ ذبح کی گئی، لوگوں نے اسے کھایا، جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ آپ نے میرے لیے اونٹ کی قیمت (کے برابر سونے یا چاندی) کا وزن کیا اور میرے لیے پلڑا جھکا دیا۔ فائدہ: قیمت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے راوی محارب (بن وثار) کو وہم ہوا ہے جس طرح اگلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے، وہ اصل قیمت کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ سکے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب چاندی کے حساب سے اونٹ کی قیمت بتائی تو اس وقت چاندی کا ایک اوقیہ زائد دیے جانے کی بات کی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 4103) چاندی کے اس اوقیے کو غلطی سے سونے کے ایک اوقیے کے ساتھ ملا کر دو اوقیے کر دیا گیا ہے، ان احادیث میں قیمت یا سونے میں بیان کی گئی ہے یا اس کی قیمت کے برابر چاندی میں یا اسی کے برابر دیناروں میں۔ بعض نے اضافے کو قیمت کے ساتھ شامل کر دیا ہے جس سے التباس پیدا ہوا ہے۔ البتہ سب احادیث اصل مسئلہ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ ، وَقَالَ : أَمَرَ بِبَقَرَةٍ ، فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا .خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: آپ نے مجھ سے اونٹ قیمتاً خرید لیا جس کی انہوں (جابر رضی اللہ عنہ) نے تعیین بھی کی، (اس روایت میں) انہوں نے دو اوقیہ، ایک درہم اور دو درہموں کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا: آپ نے گائے کا حکم دیا تو اسے ذبح کیا گیا، پھر آپ نے اس کا گوشت تقسیم کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " .عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میں نے تمہارا اونٹ چار دینار (جو سونے کے ایک اوقیہ کے برابر ہے) میں لیا اور مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) کا حق تمہارا ہے۔“
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ ، فَقَالَ : " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ " .ہشیم نے سیار سے، انہوں نے (عامر) شعبی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم گھروں کے اندر داخل ہونے کے لیے جانے لگے تو آپ نے فرمایا: ”رک جاؤ، حتی کہ ہم (کچھ تاخیر سے) رات کے وقت، یعنی عشاء کے وقت جائین تاکہ بکھرے بالوں والی اپنے بال سنوار لے اور شوہر کی غیر موجودگی میں رہنے والی اپنی صفائی کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا ، فَلَا يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ " .عبدالصمد نے کہا: ہمیں شعبہ نے سیار سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت گھر واپس آئے تو رات کو (اچانک) اپنے گھر میں داخل نہ ہو (بلکہ اتنی دیر توقف کرے) کہ شوہر کی غیر موجودگی میں رہنے والی اپنی صفائی کر لے اور الجھے بالوں والی بال سنوار لے۔“
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَطَالَ الرَّجُلُ الْغَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا " .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عاصم سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب کوئی انسان لمبا وقت گھر سے دور رہا ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رات کو اچانک گھر میں داخل ہونے سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .روح نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَال : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا يَتَخَوَّنُهُمْ أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ " .وکیع نے سفیان سے، انہوں نے محارب سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان رات کو (اچانک) گھر والوں کے پاس جا پہنچے اور ان کو خیانت (جس طرح خاوند نے کہا ہوا ہے، اس طرح نہ رہنے) کا مرتکب سمجھے اور ان کی کمزوریاں ڈھونڈے۔
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : قَالَ سُفْيَانُ : لَا أَدْرِي هَذَا فِي الْحَدِيثِ أَمْ لَا يَعْنِي أَنْ يَتَخَوَّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ .عبدالرحمٰن نے کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ عبدالرحمٰن نے کہا: سفیان نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ ”ان کو خیانت کا مرتکب سمجھے اور ان کی کمزوریاں تلاش کرے“ کے الفاظ حدیث میں ہیں یا نہیں۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِكَرَاهَةِ الطُّرُوقِ وَلَمْ يَذْكُرْ يَتَخَوَّنُهُمْ أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ .ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اچانک) رات کو گھر آنے کی کراہت بیان کی اور یہ جملہ بیان نہیں کیا: ان کو خائن سمجھے اور ان کی کمزوریاں تلاش کرے۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو حدیث جابر بن عبد اللہ سے جسے حضرت امام المحدثین ؒ نے یہاں نقل فرمایا ہےروز روشن کی طرح ثابت ہے۔
حضرت امام ترمذی ؒ نے باب في الرکعتین إذا جاءالرجل والإمام یخطب کے تحت اسی حدیث کو نقل فرمایا ہے، آخر میں فرماتے ہیں کہ ھذا حدیث حسن صحیح یہ حدیث بالکل حسن صحیح ہے، اس میں صاف بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ کی ہی حالت میں ایک آنے والے شخص (سلیک نامی)
کو دو رکعت پڑھنے کا حکم فرمایا تھا۔
بعض ضعیف روایتوں میں مذکور ہے کہ جس حالت میں اس شخص نے دو رکعت ادا کیں آنحضرت ﷺ نے اپنا خطبہ بند کر دیا تھا۔
یہ روایت سند کے اعتبار سے لائق حجت نہیں ہے اور بخاری شریف کی مذکورہ حدیث حسن صحیح ہے جس میں آنحضرت ﷺ کی حالت خطبہ ہی میں اس کے دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے۔
لہذا اس کے مقابلے پر یہ روایت قابل حجت نہیں۔
دیوبندی حضرات فرماتے ہیں کہ آنے والے شخص کو آنحضرت ﷺ نے دو رکعت نماز کا حکم بے شک فرمایا مگر ابھی آپ نے خطبہ شروع ہی نہیں فرمایا تھا۔
اس کا یہ مطلب ہے کہ حدیث کے راوی حضرت جابر بن عبداللہ ؓ جو صاف لفظوں میں النبی ﷺ یخطب الناس یوم الجمعة (یعنی آنحضرت ﷺ لوگوں کو خطبہ سنا رہے تھے)
نقل فرمارہے ہیں۔
نعوذباللہ ان کا یہ بیان غلط ہے اور ابھی آنحضرت ﷺ نے خطبہ شروع ہی نہیں فرمایا تھا۔
یہ کس قدر جرات ہے کہ ایک صحابی رسول کو غلط بیانی کامرتکب گردانا جائے اور بعض ضعیف روایات کا سہارا لے کر محدثین کرام کی فقاہت حدیث اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے بیان کی نہایت بے باکی کے ساتھ تغلیط کی جائے۔
حضرت امام ترمذی ؒ نے اس سلسلہ کی دوسری حدیث عبد اللہ بن ابی مسرح سے یوں نقل فرمائی ہے: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، دَخَلَ يَوْمَ الجُمُعَةِ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَجَاءَ الحَرَسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى حَتَّى صَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: رَحِمَكَ اللَّهُ، إِنْ كَادُوا لَيَقَعُوا بِكَ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لأَتْرُكَهُمَا بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ يَوْمَ الجُمُعَةِ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الجُمُعَةِ، فَأَمَرَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ.یعنی ابو سعید خدری ؓ صحابی رسول اللہ ؓ جمعہ کے دن مسجد میں اس حالت میں آئے کہ مروان خطبہ دے رہا تھا یہ نماز (تحیۃ المسجد)
پڑھنے کھڑے ہوگئے۔
یہ دیکھ کر سپاہی آئے اور ان کو زبردستی نماز سے باز رکھنا چاہا مگر یہ نہ مانے اور پڑھ کر ہی سلام پھیرا، عبد اللہ بن ابی مسرح کہتے ہیں کہ نماز کے بعد ہم نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے ملا قات کی اور کہا کہ وہ سپاہی آپ پر حملہ آور ہونا ہی چاہتے تھے۔
آپ نے فرمایا کہ میں بھی ان دو رکعتوں کو چھوڑنے والاہی نہیں تھا۔
خواہ سپاہی لوگ کچھ بھی کرتے کیونکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے آپ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی پریشان شکل میں داخل مسجد ہوا۔
آنحضرت ﷺ نے اس کو اسی حالت میں دو رکعت پڑھ لینے کا حکم فرمایا۔
وہ نماز پڑھتا رہا اور آنحضرت ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔
دو عادل گواہ!حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ ہر دو عادل گواہوں کا بیان قارئین کے سامنے ہے۔
اس کے بعد مختلف تاویلات یا کمزور روایات کا سہارا لے کر ان ہر دو صحابیوں کی تغلیط کے درپے ہونا کسی بھی اہل علم کی شان کے خلاف ہے۔
حضرت امام ترمذی ؒ آگے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عیینہ اور حضرت عبد الرحمن مقری ہر دو بزرگوں کا یہی معمول تھا کہ وہ اس حالت مذکورہ میں ان ہر دو رکعتوں کو ترک نہیں کیاکرتے تھے۔
حضرت امام ترمذی ؒ نے اس سلسلے کی دیگر روایات کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے جن میں حضرت جابر کی ایک اور روایت طبرانی میں یوں مذکور ہے: عن جابر قال دخل النعمان بن نوفل ورسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم علی المنبر یخطب یوم الجمعة فقال له النبي صلی اللہ علیه وسلم رکعتین وتجوز فیھما فإذا أتی أحدکم یوم الجمعة والإمام یخطب فلیصل رکعتین ولیخففھما کذا في قوت المعتذي وتحفة الأحوذي، ج: 2ص: 264 یعنی ایک بزرگ نعمان بن نوفل نامی مسجد میں داخل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔
آپ نے ان کو حکم فرمایا کہ اٹھ کر دو رکعت پڑھ کر بیٹھیں اور ان کو ہلکا کر کے پڑھیں اور جب بھی کوئی تمہارا اس حالت میں مسجد میں آئے کہ امام خطبہ دے رہاہو تو وہ ہلکی دو رکعتیں پڑھ کر ہی بیٹھے اور ان کو ہلکا پڑھے۔
حضرت علامہ نووی ؒ شارح مسلم شریف فرماتے ہیں: هَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا يَعْنِي الَّتِي رَوَاهَا مُسْلِمٌ صَرِيحَةٌ فِي الدَّلَالَةِ لِمَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَفُقَهَاءِ الْمُحَدِّثِينَ أَنَّهُ إِذَا دَخَلَ الْجَامِعَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ تَحِيَّةَ الْمَسْجِدِ وَيُكْرَهُ الْجُلُوسُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَهُمَا وَأَنَّهُ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَتَجَوَّزَ فِيهِمَا لِيَسْمَعَ بَعْدَهُمَا الْخُطْبَةَ وَحُكِيَ هَذَا الْمَذْهَبُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُتَقَدِّمِينَ۔
(تحفة الأحوذي)
یعنی ان جملہ احادیث سے صراحت کے ساتھ ثابت ہے کہ امام جب خطبہ جمعہ دے رہا ہو اور کوئی آنے والا آئے تو اسے چاہیے کہ دو رکعتیں تحیۃ المسجد ادا کر کے ہی بیٹھے۔
بغیر ان دو رکعتوں کے اس کا بیٹھنا مکروہ ہے اور مستحب ہے کہ ہلکا پڑھے تاکہ پھرخطبہ سنے۔
یہی مسلک امام حسن بصری وغیرہ متقدمین کا ہے۔
حضرت امام ترمذی ؒ نے دوسرے حضرات کا مسلک بھی ذکر فرمایا ہے جو ان دو رکعتوں کے قائل نہیں ہیں پھر حضرت امام ترمذی ؒ نے اپنا فیصلہ ان لفظوں میں دیا ہے: والقول الأول أصح۔
یعنی ان ہی حضرات کا مسلک صحیح ہے جو ان دو رکعتوں کے پڑھنے کے قائل ہیں۔
اس تفصیل کے بعد بھی اگر کوئی شخص ان دورکعتوں کو ناجائز تصور کرے تو یہ خود اس کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں حجۃ الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کا ارشاد گرامی بھی سن لیجیے آپ فرماتے ہیں: فَإِذا جاءو الإِمَام يخْطب فليركع رَكْعَتَيْنِ، وليتجوز فيهمَا رِعَايَة لسنة الرَّاتِبَة وأدب الْخطْبَة جَمِيعًا بِقدر الْإِمْكَان، وَلَا تغتر فِي هَذِه الْمَسْأَلَة بِمَا يلهج بِهِ أهل بلدك فَإِن الحَدِيث صَحِيح وَاجِب اتِّبَاعه. (حجة اللہ البالغة، جلد: دومص: 101)
یعنی جب کوئی نماز ی ایسے حال میں مسجد میں داخل ہو کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو دو رکعت ہلکی خفیف پڑھ لے تاکہ سنت راتبہ اور ادب خطبہ ہر دو کی رعایت ہو سکے اور اس مسئلہ کے بارے میں تمہارے شہر کے لوگ جو شور کرتے ہیں اور ان رکعتوں کے پڑھنے سے روکتے ہیں؟ ان کے دھوکا میں نہ آنا کیونکہ اس مسئلہ کے حق میں حدیث صحیح وارد ہے جس کا اتباع واجب ہے۔
وبا للّٰہ التوفیق۔
(1)
علامہ زین بن منیر ؒ مذکورہ عنوانات میں بایں الفاظ فرق بیان کرتے ہیں کہ پہلے عنوان میں آنے والے کو دو رکعت ادا کرنے کا حکم دینا اس بات سے مشروط ہے کہ امام اسے دوران خطبہ میں دیکھے اور اس سے پوچھے کہ تو نے نماز پڑھی ہے یا نہیں اور یہ سب معاملات خطیب کے ساتھ خاص ہیں۔
دوسرا عنوان مسجد میں آنے والے سے متعلق ہے کہ اسے چاہیے کہ دوران خطبہ میں دو رکعت پڑھ کر خطبہ سننے کے لیے بیٹھے۔
امام بخاری ؒ نے اپنے قائم کردہ عنوانات میں ان تمام باتوں کو ملحوظ رکھا ہے، حالانکہ دونوں میں حدیث ایک ہی بیان کی ہے، (فتح الباري: 530/2)
نیز اس عنوان میں ہلکی پھلکی دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے جبکہ پیش کردہ حدیث میں اس قسم کی کوئی وضاحت نہیں ہے؟ اصل میں امام بخاری ؒ کی یہ عادت ہے کہ وہ عنوان کے ذریعے سے کسی ایسی حدیث کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں جو صحیح ہوتی ہے لیکن ان کی شرائط کے مطابق نہیں ہوتی، چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے ہلکی پھلکی دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا۔
(صحیح مسلم، الجمعة، حدیث: 2018 (875) (2)
دوران خطبہ میں آنے والا شخص سلیک بن ہدیہ غطفانی تھا جیسا کہ صحیح مسلم کی روایات میں اس کی صراحت ہے۔
بعض روایات میں آنے والے کا نام نعمان بن نوفل بتایا گیا ہے لیکن محدثین نے اسے کسی راوی کا وہم قرار دیا ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دوران خطبہ میں حضرت ابوذر ؓ آئے تھے تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا تھا۔
اس روایت میں ابن لبیعہ راوی نے ’’دوران خطبہ میں‘‘ کے الفاظ شاذ طور پر بیان کر دیے ہیں کیونکہ محفوظ الفاظ یہ ہیں کہ حضرت ابوذر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ قیس قبیلے کا ایک شخص آپ کے پاس آیا تھا۔
اس سے مراد بھی سلیک ہے کیونکہ قبیلۂ غطفان قیس کی ایک شاخ ہے۔
ابن بشکوال نے اس آدمی کا نام ابو ہدیہ لکھا ہے۔
اگر یہ الفاظ محفوظ ہیں تو ممکن ہے کہ سلیک ؓ کی کنیت ابو ہدیہ ہو۔
اتفاق سے اس کے باب کا نام بھی ہدیہ ہے۔
(فتح الباري: 524/2)
واللہ أعلم (3)
یہ احادیث اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جمعہ کے دن دوران خطبہ میں اگر کوئی شخص آئے تو اسے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھنا چاہیے لیکن فقہائے کوفہ نے بعض ضعیف روایات کا سہارا لے کر اس موقف کی تردید کی ہے۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا خطبہ بند کر دیا تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں ان تمام حیلوں بہانوں کا ذکر کیا ہے جن کے سہارے یہ حضرات اس سنت کا انکار کرتے ہیں، پھر دلائل و براہین سے محدثین کے موقف کو ثابت کیا ہے۔
یہ قابل قدر بحث، صفحہ 526 سے 529 تک پھیلی ہوئی ہے۔
ہم اس سلسلے میں حجۃ الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کا فیصلہ نقل کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: جب کوئی نمازی ایسے حالات میں آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے تاکہ سنت راتبہ اور ادب خطبہ ہر دو کی رعایت ہو سکے۔
اور اس مسئلے کے متعلق تمہارے شہر کے لوگ جو شوروغوغا کرتے ہیں ان کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس مسئلے کے متعلق صحیح احادیث ہیں جن کی اتباع ضروری ہے۔
(حجة اللہ البالغة: 29/2، طبع المکتبة السلفیة، لاھور)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کا واقعہ بھی بیان کر دیا جائے جسے امام ترمذی ؒ نے بیان کیا ہے: عبداللہ بن ابی سرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ جمعہ کے دن مسجد میں اس وقت آئے جب مروان بن حکم خطبہ دینے میں مصروف تھا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو مروان کے سپاہی آئے اور آپ کو زبردستی نماز سے باز رکھنا چاہا مگر حضرت ابو سعید ؓ نے نماز توڑنے سے انکار کر دیا اور مکمل کر کے سلام پھیرا۔
نماز کے بعد ہم نے حضرت ابو سعید ؓ سے ملاقات کی اور عرض کیا کہ وہ سپاہی آپ پر حملہ آور ہونا ہی چاہتے تھے۔
آپ نے فرمایا کہ میں بھی ان دو رکعات کو چھوڑنے والا نہیں تھا، خواہ سپاہی کچھ بھی کر گزرتے کیونکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، ایک پراگندہ حال آدمی مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ نے اسی حالت میں اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، وہ نماز پڑھتا رہا جبکہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے میں مصروف رہے۔
(جامع الترمذي، الجمعة، حدیث: 511)
1۔
مذکورہ عنوان انھی الفاظ کے ساتھ کتاب الصلاۃ(باب: 59)
میں گزرچکا ہے۔
وہاں اس حدیث کے الفاظ میں تھوڑا سافرق ہے۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر سے واپس آنے کےکے بعد نماز پڑھنا سنت ہے، نیز اپنے گھر جانے سے پہلے اللہ کے گھر سے ابتدا کرنی چاہیے۔
اس باب میں امام اور خطیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اگر کسی کو دیکھے کہ دوران خطبہ میں تحیۃ المسجد ادا کیے بغیر بیٹھ گیا ہے تو اسے دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دے۔
اس کی تفصیل ہم آئندہ باب میں بیان کریں گے۔
کہ جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اس وقت پہنچے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہے تووہ دو مختصررکعت پڑھے۔
اب اس صریح اور صحیح روایت کی موجودگی میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔
اس لیے یا تو انسان کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ خطیب کے منبر سے بیٹھنے سے اس قدر پہلے پہنچے کہ وہ کم از کم دو رکعت پڑھ لے اور بہتر صورت یہی ہے۔
وگرنہ اگر وہ خطبہ کے دوران آیا ہے تو وہ دو مختصر رکعت پڑھ لے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور تمام محدثین کا مؤقف اس حدیث کے مطابق ہے اور مالکیوں اور احناف کے نزدیک اس صورت میں تحیۃ المسجد پڑھنا جائز نہیں ہے وہ اس کی خاطر حدیث کی ناقابل قبول توجیہات کرتے ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: (قَاعد على الْمِنْبَر)
اور دوسری میں ہے: (رسول الله صلي الله عليه وسلم يخطب)
مطلب ہے کہ آپﷺ منبر پر تشریف فرما تھے اور خطبہ دینے کے لیے تیار ہو چکے تھے۔
یعنی خطبہ دینا چاہ رہے تھے اور پھر آپﷺ نے اٹھ کر اس کو مخاطب فرمایا۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی (مسجد میں) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: " کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟ " اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: " تو پڑھ لو " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1401]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی (مسجد) آئے اور امام (خطبہ کے لیے) نکل چکا ہو ۱؎ تو چاہیئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے۔" شعبہ کی روایت میں ہے: " جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے۔" [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1396]
➋ "امام (خطبے کے لیے) نکل چکا ہو" یعنی امام صاحب خطبہ شروع کرچکے ہوں، تب بھی یہ دو رکعتیں پڑھنی چاہییں کیونکہ بہت سی صحیح روایات میں ان کے پڑھنے کا خصوصی حکم ہے، لہٰذا احناف کا یہ کہنا کہ "خطبہ شروع ہونے کے بعد نماز شروع نہیں کی جا سکتی" صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص بغیر دو رکعت پڑھے بیٹھ گیا تو آپ نے اسے اٹھنے اور دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا۔ [صحیح البخاري، الجمعة، حدیث: 930، 931، و صحیح مسلم، الجمعة، حدیث: 875] البتہ دو رکعت ہلکی پڑھنی چاہییں۔
➌ خطیب دوران خطبہ مقتدیوں سے کوئی بات پوچھ سکتا ہے اور وہ اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ اس سے مقتدیوں کے استماع پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن مقتدی آپس میں ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے۔ یہ آداب خطبہ کے منافی ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے پوچھا: " کیا تم نے نماز ادا کر لی؟ " انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " دو رکعت پڑھ لو " ۱؎۔ عمرو بن دینار نے سلیک کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1112]
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہوا کی خطبے دوران میں آنے والے کو بھی دو رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے تو دوسرے اوقات میں آنے والے کو بدرجہ اولیٰ دو رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے۔
(2)
ان دو رکعتوں کو تحیۃ المسجد بھی قرار دیا گیا ہے۔
اور جمعے کی سنتیں بھی تاہم مذکورہ بالا صورت میں دو رکعت سے زیادہ پڑھنا درست نہیں۔
ہاں خطبہ شروع ہونے سے پہلے (دودو رکعت کرکے)
جتنی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے۔ (صحیح البخاري، الجمعة، باب الدھن للجمعة، حدیث: 883)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جمعہ کے روز ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے سے دریافت فرمایا " نماز (تحیۃ المسجد) پڑھی ہے؟ " وہ بولا " نہیں! " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تو اٹھو اور دو رکعت نماز ادا کر۔ " (بخاری ومسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 364»
«أخرجه البخاري، الجمعة، باب من جاء والإمام يخطب صلي ركعتين، حديث:931، ومسلم، الجمعة، باب التحية والإمام يخطب، حديث:875.»
تشریح: 1. معلوم ہوا کہ خطبۂجمعہ کے دوران میں دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے۔
اس میں استماع خطبہ کے عام حکم کی تخصیص ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خطیب خطبۂجمعہ کے علاوہ بھی ضرورت کے وقت بات چیت کر سکتا ہے بلکہ نئے آنے والے کو دو رکعت نماز پڑھنے کی تلقین بھی کر سکتا ہے۔
3.احناف ان دو رکعتوں کے قائل نہیں۔
یہ حدیث ان کی تردید کرتی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خطبہ کے دوران نماز پڑھنا درست ہے، اور خطیب کسی کو جو بغیر نماز پڑھے بیٹھ جائے، نماز کا کہہ سکتا ہے، اور مقتدی کو بات ماننی چاہیے۔ اس حدیث سے تحیۃ المسجد کی تاکید ثابت ہوتی ہے، فرضیت نہیں۔