صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ: باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ " .شعبہ نے ورقاء سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔“
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .امام صاحب نے دوسرے استاد سے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ " .روح نے کہا: ہمیں زکریا بن اسحاق نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عطاء بن یسار سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔“
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .امام صاحب نے دوسرے استاد سے بھی یہی روایت بیان کی ہے۔
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، قَالَ حَمَّادٌ : ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا ، فَحَدَّثَنِي بِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .حماد بن زید نے ایوب سے روایت کی، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند روایت کی۔ حماد نے کہا: پھر میں (براہ راست) عمرو (بن دینار) سے ملا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی لیکن انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول روایت کیا)
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 866]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب جماعت کھڑی ہو جائے ۱؎ تو فرض نماز ۲؎ کے سوا کوئی نماز (جائز) نہیں “ ۳؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 421]
1؎:
یعنی اقامت شروع ہو جائے۔
2؎:
یعنی جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے۔
3؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کے لیے تکبیر ہو جائے تو نفل پڑھنا جائز نہیں، خواہ وہ رواتب ہی کیوں نہ ہوں، بعض لوگوں نے فجر کی سنت کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے، لیکن یہ استثناء صحیح نہیں، اس لیے کہ مسلم بن خالد کی روایت میں کہ جسے انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے مزید وارد ہے، ((قِيْلَ يَارَسُوْلَ اللهِ وَلَا رَكَعَتَي الْفَجْرَ قَالَ وَلَا رَكَعَتَي الْفَجْرِ)) اس کی تخریج ابن عدی نے کامل میں یحییٰ بن نصر بن حاجب کے ترجمہ میں کی ہے، اور اس کی سند کو حسن کہا ہے، اور ابو ہریرہ کی روایت جس کی تخریج بیہقی نے کی ہے اور جس میں ((إلَّا رَكَعَتَي الصُّبْحَ)) کا اضافہ ہے: کا جواب یہ ہے کہ اس زیادتی کے متعلق بیہقی خود فرماتے ہیں ’’هذِهِ الزِّيَادَةُ لَا أَصْلَ لَهَا‘‘ یعنی یہ اضافہ بے بنیاد ہے اس کی سند میں حجاج بن نصر اور عباد بن کثیر ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں، اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ دوسری کوئی نماز نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم ج1 ص247 ح710]
اس صحیح حدیث کے مقابلے میں لکھا ہے: ’’فجر کی سنتیں جماعت کھڑی ہونے کی صورت میں بھی پڑھنی جائز ہیں۔“ [چهل حديث ص104!]
ابوعثمان الہندی کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ عمر (رضی اللہ عنہ) کے پاس ہم فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے آیا کرت تھے جب کہ آپ نماز پڑھا رہے ہوتے، ہم مسجد کے آخر میں دو رکعت سنت پڑھ کر پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاتے تھے۔ [شرح معاني الآثار 376/1، آثار السنن: 727]
اس کی سند جعفر بن میمون («ضعيف عند الجمهور» ) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دیکھئے میری کتاب: انوار السنن فی تحقیق آثار السنن [مخطوط ص146]
جعفر بن میمون کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ حدیث میں قوی نہیں ہے۔ [كتاب العلل و معرفة الرجال ص58 فقره: 4157]
لہٰذا نیموی کا اس سند کو حسن کہنا غلط ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اقامت کے وقت دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسے کنکریوں سے مارا اور فرمایا: کیا تو چار رکعتیں پڑھتا ہے؟ [السنن الكبري للبيهقي 483/2 و سنده صحيح]
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جس کی صبح کی دو سنتیں رہ جائیں اور وہ فرض نماز کے بعد فور اً پڑھ لے، تو جائز ہے۔
دیکھئے: [صحيح ابن خزيمه ج2 ص164 ح1116
صحيح ابن حبان الاحسان: 2462 اور المستدرك للحاكم 274/1۔ 275 ح1017]
اسے حاکم اور ذہبی نے بھی صحیح کہا ہے اور اس روایت پر ابن عبدالبر کی جرح مردود ہے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ جس شخص نے فجر کی دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں، تو اسے چاہئے کہ وہ ان کو سورج نکلنے کے بعد پڑھے۔
[سنن الترمذي: 423، المستدرك 307/1 ح1153]
اس کی سند قتادہ مدلس (تقدم: 31) کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو جائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1266]
اس حدیث سے بھی جماعت کے ہوتے ہوئے سنتیں پڑھنے کی ممانعت کا اثبات ہوتا ہے اور بیہقی کی یہ روایت کہ ’’جب جماعت کھڑی ہو جائے تو کوئی نماز نہیں سوائے فرض نماز کے الا یہ کہ صبح کی سنتیں ہوں۔“ بالکل بے اصل اور ضعیف ہے۔ دیکھیے: [عون المعبود]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں ہوتی۔“ اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم مثل حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1151]
فائدہگ: جب جماعت کھڑی ہو تو اس کے ساتھ مل جانا چاہیے۔
اس وقت کوئی سنتیں یا نفل پڑھنا درست نہیں۔
بنا بریں اگرکوئی شخص سنتیں پڑھ رہا ہو۔
اورجماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں چھوڑ کرجماعت کے ساتھ مل جاناچاہیے۔
یہی بات راحج اور أقرب إلی الصواب ہے۔
البتہ بعض علماء کہتے ہیں کہ اگرسنتیں یا نوافل جو وہ ادا کررہا ہے تکبیر تحریمہ سے قبل مکمل ہونے کا یقین ہو تو وہ مکمل کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔
واللہ أعلم۔