صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ: باب: سفر میں نمازوں کے جمع کرنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَكِبَ " .مفضل بن فضالہ نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو اس وقت تک موخر فرماتے کہ عصر کا وقت ہو جاتا، پھر آپ (سواری سے) اترتے، دونوں نمازوں کو جمع کرتے، اور اگر آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے۔
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا " .لیث بن سعد نے عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے تو ظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہو جاتا، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ ، يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ ، فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ ، حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ " .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک مؤخر کرتے اور دونوں کو جمع کر لیتے اور مغرب کو مؤخر کرتے اور جب شفق غروب ہو جاتا تو اسے اور عشاء کو جمع کر لیتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اگر تیزی مطلوب ہوتی تو پھر زوالِ آفتاب کے بعد ظہر کے ساتھ ہی عصر پڑھ لیتے جیسا کہ غزوہ تبوک کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔
1۔
علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں: لفظ صلاۃ کے اطلاق سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان نمازوں کو ان کے ارکان، شروط اور سنن وغیرہ سمیت پڑھتے تھے اور اذان و اقامت کی حیثیت نماز کے لیے سنت کی ہے، لہٰذا اس کے لیے اذان اور اقامت کا بھی اہتمام کرتے، مطلق شے سے مراد اس کا فرد کامل ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 750/2) (2)
ہمارے نزدیک امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عمر ؓ سے مروی حدیث کے ذریعے سے حضرت انس ؓ سے مروی حدیث کی تفسیر فرمائی ہے، کیونکہ حدیث انس ؓ میں اذان یا اقامت کا ذکر نہیں ہے، جبکہ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی حدیث میں مغرب اور عشاء کے لیے اقامت کہنے کی صراحت ہے، چنانچہ سنن دارقطنی کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ دوران سفر اذان نہیں دیتے تھے بلکہ اقامت کہنے کے بعد دونوں نمازوں کو ملا کر ادا کرتے تھے، یعنی ہر نماز کے لیے الگ اقامت کہتے تھے۔
(فتح الباري: 750/2) (3)
اس حدیث میں یہ وضاحت نہیں کہ نماز مغرب کو کسی حد تک مؤخر کیا جائے۔
ایک روایت میں ہے کہ غروب آفتاب کے بعد سرخی غائب ہونے تک اسے مؤخر کرتے، پھر پڑاؤ کر کے مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔
(صحیح البخاري، الجھادوالسیر، حدیث: 3000)
حضرت جابر ؓ سے مروی ایک طویل روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں ایک اذان اور دو دفعہ اقامت کے ساتھ نماز مغرب اور عشاء کو جمع کیا تھا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2950(1218)
راجح یہی ہے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت ہو، البتہ اذان ایک ہی کافی ہو گی۔
ایک روایت میں ہے کہ نماز ظہر کو اس حد تک مؤخر کرتے کہ عصر کا اول وقت شروع ہو جاتا، پھر پڑاؤ کرتے اور نماز ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھتے۔
ایک روایت میں ہے کہ دوران سفر نماز مغرب کو بھی مؤخر کرتے، پھر غروب شفق کے بعد مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھتے، بہرحال امام بخاری ظہر اور عصر میں جمع تاخیر کے قائل ہیں۔
جمع تقدیم کے متعلق امام بخاری ؒ کا موقف واضح نہیں ہے۔
(فتح الباري: 752/2)
اس روایت میں زوال آفتاب کے بعد سفر شروع کرنے کی صورت میں صرف نماز ظہر پڑھنے کا ذکر ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دو نمازوں کو جمع کرنے کی یہ صورت ہے کہ پہلی نماز کو دوسری نماز کے وقت میں ادا کیا جاتا ہے جسے اصطلاح میں جمع تاخیر کہتے ہیں۔
امام بخاری ؒ کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتا ہے لیکن اس روایت کو جب امام اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ہے تو اس کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ ﷺ اگر سفر میں ہوتے اور سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھ لیتے پھر سفر کا آغاز کرتے۔
اس روایت کا تقاضا ہے کہ جمع تقدیم بھی جائز ہے۔
اس کی تائید ایک دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے جسے امام حاکم ؒ نے اربعین میں بیان کیا ہے کہ اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر کو جمع کرتے اور پھر سوار ہوتے۔
اسے اسحاق بن راہویہ کی روایت کے لیے بطور متابعت پیش کیا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 753/2)
جمع تقدیم کے لیے حضرت معاذ بن جبل ؓ کی روایت بھی بطور دلیل پیش کی جاتی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ زوال آفتاب کے بعد سفر کا ارادہ فرماتے تو ظہر اور عصر کو اکٹھا ادا فرما لیتے۔
(مسند أحمد: 241/5)
رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر ایسا کیا تھا۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 163/3)
حضرت انس بن مالک ؓ سے بھی اس طرح کی ایک روایت مروی ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 164/3)
حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اس طرح کی ایک روایت مروی ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 164/3)
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی پسندیدہ جگہ پر پڑاؤ کرتے تو ظہر اور عصر ملا کر پڑھ لیتے، پھر سفر کا آغاز کرتے اور اگر مناسب جگہ میسر نہ آتی تو اپنے سفر کو جاری رکھتے، پھر کسی مناسب مقام پر اتر کر ظہر اور عصر کو جمع کر کے ادا فرما لیتے۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 163/3)
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں لیکن اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے، تاہم امام بیہقی ؒ نے اس روایت کو بڑے جزم و وثوق کے ساتھ موقوف بھی بیان کیا ہے۔
واضح رہے کہ دوران سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کے علاوہ بارش، بیماری یا کسی دوسری ہنگامی ضرورت کے پیش نظر بھی جمع کیا جا سکتا ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 169/3)
الغرض نمازوں کو ناگزیر قسم کے حالات اور شدید مجبوری کی صورت میں تو جمع کیا جا سکتا ہے جیسا کہ سفر، خوف، بیماری، بارش، سخت آندھی یا کسی ہنگامی ضرورت کے وقت دو نمازیں جمع کی جاتی ہیں، تاہم شدید ضرورت کے بغیر دو نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں، جیسا کہ ہمارے کاروباری حضرات کا عام معمول ہے کہ وہ سستی یا کاروباری مصروفیت کی وجہ سے ایسا کر لیتے ہیں۔
یہ صحیح نہیں بلکہ سخت گناہ ہے۔
بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ عذر کے بغیر نمازوں کو جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
(فتح الباري: 753/2)
اس سلسلے میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ بلا عذر نمازوں کو جمع کیا تھا، حالانکہ اس روایت میں منقول عذر کی وضاحت موجود ہے۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1636(705)
مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، انہوں نے کہا: جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے: سورج ڈھل گیا یا نہیں ۱؎ تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1204]
➊ نماز کے اوقات کی معرفت اور اس کا وقت ہو جانا، صحت نماز کی اہم شرطوں میں سے ہے اور اس سلسلے میں امام موذن ہی ذمہ دار ہیں کسی ایک فرد کے شبے کا کوئی اعتبار نہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جو شبہ ظاہر کیا ہے، وہ حقیقت میں شبہ ہی ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کبھی بھی زوال سے قبل نہیں پڑھی۔ اس لئے مقتدیوں کو اپنے امام پر اعتماد کرنا چاہیے۔
➋ اس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلتے ہی اول وقت میں نماز پڑھا کرتے تھے اور سفر میں بھی اسی کا اہمتام فرماتے تھے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب لدعوات تھے، وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1218]
اس حدیث سے کچھ لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ ”جمع تقدیم“ صحیح نہیں (یعنی عصر کو ظہر کے وقت میں نہ پڑھا جائے) مگر دیگر کئی صحیح احادیث سے ”جمع تقدیم“ ثابت ہے، جیسے کہ سابقہ حدیث معاذ رضی اللہ عنہ سنن ابی داود حدیث [1208] میں گزرا ہے۔ ان مختلف احادیث کو مختلف احوال پر محمول کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتے، اور مغرب کو شفق کے ڈوب جانے تک مؤخر کرتے، اور پھر اسے اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 595]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو عصر تک ظہر کو مؤخر کر دیتے، پھر سواری سے نیچے اترتے اور جمع بین الصلاتین کرتے یعنی دونوں صلاتوں کو ایک ساتھ پڑھتے ۱؎، اور اگر سفر کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 587]
➋مذکورہ حدیث کے بارے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس میں جمع صوری کا بیان ہے لیکن الفاظ حدیث اس کی تائید نہیں کرتے۔ اس میں ظہر کو عصر کے وقت پڑھنے کا ذکر ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ آپ نے جمع تاخیر کی ہے، یعنی ظہر کو عصر کے وقت میں عصر کے ساتھ پڑھا ہے اور اس سے بھی مزید تصریح کے ساتھ الفاظ آتے ہیں، فرمایا: «أخر الظهر الی أن یدخل وقت العصر» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کو اس حد تک مؤخر کیا کہ عصر کا وقت داخل ہو گیا۔“ دیکھیے: [صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 704]
اسی طرح دیگر روایات میں آتا ہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد آپ سفر کا آغاز فرماتے تو ظہر کے ساتھ عصر کی نماز بھی پڑھ لیتے (یعنی جمع تقدیم کر لیتے)۔ اس حدیث میں اختصار ہے جس کی وضاحت دوسری احادیث سے ہو جاتی ہے۔ اگلی احادیث میں ان ساری صورتوں کا بیان آرہا ہے، البتہ حج کے دوران عرفات میں ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت میں پڑھنا متفق علیہ ہے اور یہ جمع تقدیم ہو گی۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زوال آفتاب سے پہلے سفر کا آغاز فرماتے تو ظہر کی نماز کو عصر کی نماز تک مؤخر کر لیتے تھے۔ پھر سواری سے نیچے تشریف لاتے اور ظہر و عصر دونوں نمازوں کو اکٹھا ادا فرماتے اور جب آفتاب آغاز سفر سے پہلے زوال پذیر ہو جاتا تو پھر نماز ظہر ادا فرما کر سوار ہو کر سفر پر روانہ ہوتے۔ (بخاری و مسلم)
اور حاکم کی اربعین میں سند صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نمازیں پڑھیں پھر سواری پر سوار ہوئے۔ ابونعیم کی ” مستخرج “ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ہوتے اور آفتاب زوال پذیر ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر دونوں اکٹھی ادا فرما کر وہاں سے کوچ کرتے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 347»
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب يؤخر الظهر إلي العصر إذا ارتحل قبل أن تزيغ الشمس، حديث: 1111، ومسلم، صلاة المسافرين، باب جواز الجمع بين الصلاتين في السفر، حديث:704، وأبو نعيم في المستخرج:2 /294.»
تشریح: اس حدیث کی رو سے سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھنا جائز ثابت ہوتا ہے۔
اس میں جمع تقدیم ہو یا تاخیر دونوں طرح ثابت ہے۔
احناف جمع حقیقی کے قائل نہیں‘ جمع صوری کے قائل ہیں۔
مگر جامع ترمذی کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جمع صوری نہیں بلکہ جمع حقیقی تھی‘ چنانچہ اس کا مفہوم ہے کہ جب آفتاب زوال پذیر ہونے سے پہلے آپ سفر پر روانہ ہوتے تو ظہر کو مؤخر کر کے عصر کے ساتھ ملا کر دونوں کو اکٹھا ادا فرماتے اور جب سورج ڈھلنے کے بعد سفر کا آغاز فرماتے تو عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر دونوں کو اکٹھا ادا فرماتے۔
(جامع الترمذي‘ الجمعۃ‘ حدیث:۵۵۳) امام ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔
اور مستخرج ابونعیم کی حدیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے جسے مصنف رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔
اور یہی بات راجح ہے۔
واللّٰہ أعلم۔