صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب جَوَازِ صَلاَةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ: باب: سفر میں سواری پر نفل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 701
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ ، عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ " .حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہیں ان کے والد نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ سفر میں رات کے وقت سواری پر نفل پڑھتے تھے جدھر کا بھی وہ رخ کر لیتی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1093 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1093. حضرت عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو اپنی سواری پر نماز پڑھتے دیکھا، سواری کا جدھر بھی منہ ہوتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1093]
حدیث حاشیہ: ثابت ہوا کہ نفل سواری پر درست ہیں اسی طرح وتر بھی۔
امام شافعی اور امام مالک اور امام احمد اور اہل حدیث کا یہی قول ہے اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وتر سواری پر پڑھنی درست نہیں۔
امام شافعی اور امام مالک اور امام احمد اور اہل حدیث کا یہی قول ہے اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وتر سواری پر پڑھنی درست نہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1093 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1104 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1104. حضرت عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی ﷺ کو دوران سفر میں رات کے وقت اپنی سواری پر نوافل پڑھتے دیکھا وہ جدھر بھی متوجہ ہو جاتی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1104]
حدیث حاشیہ: اس سےآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر میں نفل پڑھنا ثابت ہوا، نیز چاشت کی نماز بھی ثابت ہوئی اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر بھر کوئی کام صرف ایک ہی دفعہ کرنا ثابت ہو تو وہ بھی امت کے لئے سنت ہے اور چاشت کے لئے تو اور بھی ثبوت موجود ہیں۔
حضرت ام ہانی نے صرف اپنے دیکھنے کا حال بیان کیا ہے۔
ظاہر ہے کہ حضرت ام ہانی کو ہروقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔
حضرت ام ہانی نے صرف اپنے دیکھنے کا حال بیان کیا ہے۔
ظاہر ہے کہ حضرت ام ہانی کو ہروقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1104 سے ماخوذ ہے۔