صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب صَلاَةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا: باب: مسافر کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ " ، حَتَّى رَجَعَ ، قُلْتُ : كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : عَشْرًا .ہشیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے تو آپ دو رکعت نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مدینہ واپس پہنچ گئے۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ مکہ کتنا عرصہ ٹھرے؟ انہوں نے جواب دیا: دس دن (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ مختلف مقامات پر دس دن گزارے۔)
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ .یہی حدیث انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : خَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْحَجِّ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ .شعبہ نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم حج کے لیے مدینہ سے چلے۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی۔
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح ، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَجَّ .یہی روایت ایک اور سند سے منقول ہے لیکن اس میں حج کا تذکرہ نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
پھر آٹھ ذوالحجہ کو صبح کے بعد منیٰ چلے گئے اور نو ذوالحجہ صبح کی نماز کے بعدعرفات چلے گئے۔
دس ذوالحجہ کی رات مزدلفہ میں گزاری اور سورج نکلنے سے پہلے منیٰ کی طرف واپس آ گئے اورتیرہ ذوالحجہ تک منیٰ میں رہے اور چودہ ذوالحجہ کو فجر سے پہلے مدینہ منورہ کی طرف سفر اختیار کر لیا۔
اس طرح آپﷺ نے مکہ مکرمہ اور اس کے گردونواح میں دس دن گزارے خاص طور پر مکہ میں آپﷺ نے بیس نمازیں ادا کیں۔
اس لیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قصر بیس نماز تک ہے۔
اگر اس سے زائد عرصہ قیام کرنا ہو تو شروع ہی سے نماز پوری پڑھنی ہو گی اور احناف نے فتح مکہ کے ایام سے استدلال کرتے ہوئے مدت سفر پندرہ دن مقرر کی ہے حالانکہ یہ ایامِ جنگ تھے جن میں انسان اقامت کی نیت نہیں کرتا۔
علامہ غلام رسول صاحب کہتے ہیں: یہ روایات ہمیں تب مضر ہوتیں جب ان میں تصریح ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ، سترہ یا انیس دن قیام کی نیت کی ہوتی اور پھر آپﷺ قصر کرتے رہتے کیونکہ اگرپندرہ دن قیام کی نیت نہ ہو، پھر قیام پندرہ دن سے زائد ہو جائے پھر بھی قصر پڑھی جاتی ہے۔
(ج: 2، ص: 378)
احناف کے پاس پندرہ دن کے لیے بطور دلیل کوئی مرفوع حدیث نہیں ہے۔
علامہ غلام رسول نے صرف حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فعل پیش کیا ہے اور ان سے اس سلسلہ میں مختلف افعال منقول ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاا: ’’اللہ!میری اُمت کے لیے صبح سویرے کام کرنے میں برکت عطا فرما۔
‘‘ (سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2606)
امام بخاری ؒنے اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ثابت کیا ہے کہ یہ حدیث صبح سویرے کےعلاوہ سفر کرنے میں رکاوٹ نہیں ہے۔
صبح سفر کرنے کی تخصیص اس لیے ہے کہ وہ نشاط اور خوشی کا وقت ہوتا ہے،اس بنا پر اس وقت کام کرنے میں برکت نازل ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 138/8)
کوفہ چھوڑتے ہی آپ نے قصر شروع کر دیا تھا۔
اسی طرح واپسی میں کوفہ کے مکانات دکھائی دے رہے تھے۔
لیکن آپ نے اس وقت بھی قصر کیا۔
جب آپ سے کہا گیا کہ اب تو کوفہ کے قریب آگئے! تو فرمایا کہ ہم پوری نماز اس وقت تک نہ پڑھیں گے جب تک ہم کوفہ میں داخل نہ ہو جائیں۔
رسول اللہ ﷺ حج کے ارادہ سے مکہ معظمہ جارہے تھے ظہر کے وقت تک آپ مدینہ میں تھے اس کے بعد سفر شروع ہوگیا پھرآپ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا اور وہاں آپ نے عصر چار رکعت کے بجائے صرف دو رکعت پڑھی۔
ذو الحلیفہ مدینہ سے چھ میل پر ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہو اکہ مسافر جب اپنے مقام سے نکل جائے تو قصر شروع کر دے باب کا یہی مطلب ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ پہنچ کر نماز عصر دو رکعت پڑھی۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1547)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذوالحلیفہ تک کا سفر قصر کے لیے حد مسافت ہے۔
دراصل رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ جانے کے لیے سفر کا آغاز کیا تھا اور آپ حج کرنے کا ارادہ کیے ہوئے تھے۔
جب آپ نے مدینہ کی آبادی کو چھوڑا اور ذوالحلیفہ پہنچے تو عصر کی دو رکعت ادا کیں، پھر آپ دوران سفر واپسی تک قصر ہی پڑھتے رہے، جیسا کہ حضرت انس ؓ سے مروی ایک دوسری حدیث میں ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مدینہ سے مکہ کا سفر کیا، آپ واپسی تک دو دو رکعت ہی ادا فرماتے رہے۔
(صحیح البخاري، التقصیر، حدیث: 1081)
(1)
واضح رہے کہ اس حدیث میں حجۃ الوداع کا سفر بیان ہوا ہے کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ ہم چار ذوالحجہ کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے مکہ پہنچے۔
(صحیح البخاري، التقصیر، حدیث: 1085)
رسول اللہ ﷺ چودہ ذوالحجہ کی صبح مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔
گویا مکہ مکرمہ اور اس کے مضافات میں آپ نے دس دن قیام فرمایا۔
اس سفر کی تفصیل اس طرح ہے کہ آپ چار ذوالحجہ صبح کے وقت مکہ مکرمہ آئے، پھر آٹھ ذوالحجہ کی نماز ظہر منیٰ میں ادا کی، اس طرح آپ نے مکہ مکرمہ میں تقریباً بیس نمازیں ادا کی ہیں، پہلے دن کی نماز فجر کے متعلق اختلاف ہے کہ آپ نے راستے میں ادا کی یا مکہ میں، البتہ بیس نمازوں کا مکہ مکرمہ میں ادا کرنا یقینی ہے۔
4 ذوالحجہ: ظہر اور عصر۔
6 ذوالحجہ: مغرب، عشاء، فجر، ظہر اور عصر۔
7 ذوالحجہ: مغرب، عشاء، فجر، ظہر اور عصر۔
8 ذوالحجہ: مغرب، عشاء اور فجر۔
یہ کل بیس نمازیں ہیں جو آپ نے مکہ مکرمہ میں ادا کی ہیں۔
آٹھویں ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ کر منیٰ روانہ ہوئے اور ظہر کی نماز وہاں مسجد خیف میں ادا فرمائی۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ حدیث انس اقامت کی نیت سے ٹھہرنے کی دلیل ہے، کیونکہ اس دوران میں آپ کو کوئی اندیشہ نہ تھا بلکہ آپ ان دنوں پختہ نیت سے ٹھہرے ہیں۔
(فتح الباري: 726/2)
مدت اقامت کے متعلق ہمارے نزدیک راجح مسلک یہ ہے کہ جو آدمی آمد اور روانگی کے دونوں دن چھوڑ کر صرف چار روز قیام کا ارادہ رکھتا ہو اسے پوری نماز پڑھنی ہو گی کیونکہ مکہ مکرمہ میں آپ کی مدت اقامت آمد اور روانگی کا دن نکال کر تین دن ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے عمل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے اس مدت سے زیادہ قیام فرمایا ہو اور نماز قصر ادا کی ہو یا اس مدت سے کم قیام کیا ہو اور پوری نماز پڑھی ہو۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں آمد اور روانگی کا دن نکال کر پانچ چھ اور سات ذوالحجہ تک تین دن مکمل قیام فرمایا اور یہ قیام اتفاقی نہیں بلکہ حسب پروگرام تھا۔
اس دوران آپ نماز قصر پڑھتے رہے۔
دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ دوران سفر اگر کسی مقام پر بیس نمازیں ادا کرنے تک قیام رکھنا ہو تو نماز قصر کرنے کا ثبوت خود رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ملتا ہے۔
اس موقف کی تائید رسول اللہ ﷺ کے ایک اور فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے مہاجرین کو مناسک حج ادا کرنے کے بعد تین دن مکہ مکرمہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی تھی۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ حج ادا کرنے کے بعد مہاجر تین دن تک مکہ میں ٹھہر سکتا ہے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3298(1352)
اس فرمان نبوی کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرین نے چونکہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے مکہ مکرمہ چھوڑا تھا، اس لیے فتح ہونے کے باوجود ان کی مسافرانہ حیثیت برقرار رہنی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق تین دن اور تین راتوں کے قیام سے ایک مسافر انسان مقیم کے حکم میں نہیں آتا بلکہ اس قدر قیام کرنے سے اس کی مسافرانہ حالت برقرار رہتی ہے۔
اس بنا پر محدثین کی اکثریت کا موقف ہے کہ آمد اور روانگی کے دن نکال کر اگر پورے تین دن اور تین راتیں قیام کا پختہ ارادہ ہو تو نماز قصر پڑھی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ دن قیام کرنا ہو تو نماز پوری پڑھنی ہو گی۔
واللہ أعلم۔
(1)
ذوالحلیفہ میں رات گزارنا سننِ حج میں سے نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے صرف سہولت کے پیش نظر وہاں قیام فرمایا تاکہ پیچھے رہنے والے لوگ آسانی سے ساتھ مل سکیں اور جو آپ کے ساتھ نہیں آ سکے وہ آ جائیں، نیز اگر کوئی چیز یا اہم امور رہ گئے ہوں تو جلدی ان کی تلافی کی جا سکے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے علامہ ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میقات میں رات گزارنا تاخیر احرام ہے اور ایسا کرنا میقات سے احرام کے بغیر گزرنے کے مترادف ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس وہم کی تردید کے لیے یہ عنوان قائم کیا ہے، اس لیے میقات میں رات گزارنا جائز ہے۔
(فتح الباري: 513/3)
واللہ أعلم۔
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو آئندہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1551)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے سفر فرمائے ہیں۔
1۔
عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر جہاد کی خاطرکیا ہے۔
2۔
سفر ہجرت۔
3۔
سفر عمرہ۔
4۔
سفرحج اور یہ چاروں سفر طویل تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی سفر بھی ایسا نہیں ہے جو صرف نو یا دس میل تک کا ہو۔
2۔
اما مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مسافت قصرایک دن کی مسافت ہے جو عام طور پر چوبیس میل بنتے ہیں۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مسافت قصر دو دن کی مسافت ہے۔
جیسے امام نووی اور امام ابن قدامہ نےچار برد (یعنی اڑتالیس میل)
قرار دیا ہے کیونکہ ایک برید میں چار فرسخ ہوتے ہیں اور ایک فرسخ میں تین میل ہوتے ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مسافت قصر تین دن کی مسافت ہے۔
لیکن احناف عام طور پر میلوں میں اس کو اڑتالیس میل قرار دیتے ہیں۔
اس طرح ان تینوں اماموں کے نزدیک اگر اڑتالیس میل تک سفر کرنا ہو تو پھر انسان قصر کر سکتا ہے لیکن یہ تحدید اور تعین کسی صحیح اور مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطلق سفر میں بلا تحدید و تعین قصر ثابت ہے، اس لیے عرف عام میں جتنی مسافت کو سفر سمجھا جاتا ہے اس میں انسان نماز قصر کر سکتا ہے مسافت کے تعین کی ضرورت نہیں ہے، انسان جب اپنے آپ کو مسافر سمجھے اور اس کا ضمیر مطمئن ہو کہ واقعی مسافر ہوں تو وہ قصر نماز پڑھے۔
3۔
انسان جب گھر سے سفر پر روانہ ہو جائے اور آبادی سے نکل جائے تو نماز کا وقت ہو جانے پر وہ قصر نماز پڑھے گا۔
حجۃ الوداع کے موقع پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری سفر ہے۔
آپﷺ نے ظہر کی نماز مدینہ میں پوری پڑھی اورعصر کی نماز ذوالحلیفہ میں قصر کی صورت میں ادا کی اورذوالحلیفہ مدینہ منورہ سے تقریباً چھ میل کے فاصلہ پر ہے۔
بعض حضرات نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جواب سے قصر کی مسافت تین فرسخ یعنی نو میل قرار دی ہے۔
حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی سفر بھی اتنی کم مسافت کا ثابت نہیں ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کتنے دن رہے، انہوں نے کہا دس دن ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 548]
1؎:
یہ حجۃ الوداع کے موقع کی بات ہے، آپ اس موقع سے 4؍ ذی الحجہ کی صبح مکہ میں داخل ہوئے، 8؍ کو منی کو نکل گئے، پھر 14؍ کوطواف وداع کے بعد مدینہ روانہ ہوئے یہ کل دس دن ہوئے، مگر ان دس دنوں میں مستقل طور پر آپ صرف 4 دن مکہ میں رہے، باقی دنوں میں ادھر ادھر منتقل ہی ہوتے رہے، اس لیے امام شافعی وغیرہ نے یہ استدلال کیا ہے جب 4؍ دنوں کی اقامت کی نیت کر لے تب پوری نماز پڑھے۔
2؎:
حجۃ الوداع، فتح مکہ، یا جنگ یرموک میں یہی ہوا تھا، اس لیے آپ نے 17، 18 دنوں یا دس دنوں تک قصر کیا، اس لیے امام شافعی وغیرہ کا خیال ہی راجح ہے کہ 4 دنوں سے زیادہ اقامت کی اگر نیت بن جائے تو قصر نہ کرے، مہاجرین کو عمرہ میں تین دنوں سے زیادہ نہ ٹھہرنے کے حکم میں بھی یہی حکمت پوشیدہ تھی کہ وہ چوتھے دن مقیم ہو جاتے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں ۱؎ اور ذی الحلیفہ ۲؎ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 546]
1؎:
جب حج کے لیے مدینہ سے نکلے تو مسجد نبوی میں چار پڑھی، جب مدینہ سے نکل کر ذوالحلیفہ میقات پر پہنچے تو وہاں دو قصر کر کے پڑھی۔
2؎:
ذوالحلیفہ: مدینہ سے جنوب میں مکہ کے راستہ میں لگ بھگ دس کیلو میٹر پر واقع ہے، یہ اہل مدینہ کی میقات ہے۔
یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1201]
تین میل کی مسافت کو فرسخ (فارسی میں فرسنگ) کہتے ہیں۔ اس طرح قصر کے لئے کم از کم مسافت نو میل ہوئی۔ تین میل کی بات چونکہ مشکوک ہے، اس لئے حجت نہیں اور تین فرسخ کی مسافت احتیاط و یقین پر مبنی ہے اس لئے سفر کی مسافت (اپنے شہر کی حد چھوڑ کر) کم از کم نو میل یعنی 22، 23 کلو میٹر ہو گی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1202]
یعنی سفر شروع ہو جانے کے بعد شہر سے نکل کر نماز قصر پڑھی جائے گی۔ ذوالحلیفہ موجودہ نام (آبار علی) مدینے سے مکہ کی جانب پہلا پڑاؤ ہے اور فاصلہ چھ میل ہے، خیال رہے کہ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کی بابت ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے نکلے تھے اور کوئی بعید نہیں کہ پچھلی حدیث میں اسی واقعہ کو دوسرے اسلوب میں بیان کیا گیا ہو۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ (اس سفر میں) دو رکعتیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے تو ہم لوگوں نے پوچھا: کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے؟ انہوں نے جواب دیا: مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1233]
یہ حجۃ الوداع کا قصہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کی اقامت مکہ اور اس کے مضافات میں عمل حج کی تکمیل کے سلسلے میں، کل دس دن اور صرف مکہ ہی میں چار دن ہے۔ اس سے امام شافعی رحمہ اللہ کا استدلال و فتویٰ یہ ہے کہ جو شخص کہیں چار دن کی اقامت کا عزم رکھتا ہو، تو وہ قصر کرے اور اگر اس سے زیادہ کا ارادہ ہو تو مکمل نماز پڑھے۔ اور تین دن کے قائلین کی بنیاد بھی یہی حدیث ہے، وہ اس میں سے خروج اور دخول کا دن نکال دیتے ہیں، جس کے بعد اقامت کے دن تین ہی ہوتے ہیں۔ بہرحال تین دن اور چار دن دونوں ہی مسلک صحیح ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلا تو آپ برابر قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ آئے، آپ نے وہاں دس دن تک قیام کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1439]
➋ کم از کم وہ کتنی مسافت ہے جس کا ارادہ ہو تو انسان اس دوران میں نماز قصر کر سکتا ہے؟ اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اگر کسی کا اڑتالیس میل سفر کا قصد ہو تو وہ اپنے شہر یا بستی کی حدود سے نکلنے کے بعد قصر کر سکتا ہے۔ بطور دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی جاتی ہے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’اے اہل مکہ! چار برید (اڑتالیس میل) سے کم سفر میں نماز قصر نہ کرو، جیسے مکہ سے عسفان تک۔" (سنن الدارقطني مع التعلیق المغني: 387/2، و السنن الکبریٰ للبیھقی: 137/3، 138) لیکن یہ روایت ضعیف اور ناقابل حجت ہے۔ اس کی سند میں ایک تو اسماعیل بن عیاش ہیں، غیر شامیوں سے ان کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ دوسرے عبدالوہاب بن مجاہد ہیں۔ یہ بھی ضعیف ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: «إرواء الغلیل، حدیث: 565» لہٰذا قصر کے لیے کم از کم اڑتالیس میل کی شرط درست نہیں، نیز کسی اور مستند دلیل سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی۔ اس کے متعلق صحیح اور صریح ترین جو حدیث منقول ہے وہ حضرت انس بن مالک کی حدیث ہے۔ یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر جاتے تو دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ یہ شک شعبہ کو ہوا ہے۔ تین میل کی مسافت کو فرسخ (فارسی میں فرسنگ) کہتے ہیں۔ اس طرح قصر کے لیے کم از کم مسافت نو میل ہوئی۔ تین میل کی بات چونکہ مشکوک ہے، اس لیے حجت نہیں اور تین فرسخ کی مسافت احتیاط و یقین پر مبنی ہے، اس لیے سفر کی مسافت (اپنے شہر کی حد چھوڑ کر) کم از کم نو میل، یعنی تقریباً 22 کلومیٹر ہو گی کیونکہ عربی میل کی مسافت انگریزی میل کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ اور یہی موقف راحج ہے۔ واللہ أعلم۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1448]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے، تو آپ ہمیں دو رکعت پڑھاتے رہے یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے مکہ میں قیام کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1453]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت، اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر دو رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 478]
ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 470]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے اور واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں تک مکہ میں رہے؟ کہا: دس دن تک۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1077]
فائده:
تردد کی صورت میں مدت کا تعین نہیں جتنا عرصہ بھی ٹھہریں نمازقصر اداکرسکتے ہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل کر مدینہ سے مکہ تک کا سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپسی تک دو، دو رکعتیں ہی ادا فرماتے رہے۔ (بخاری و مسلم) البتہ متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 345»
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب ما جاء في التقصير، حديث:1081، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين، حديث:693.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب آدمی اپنے گھر سے سفر کی نیت سے نکل پڑے تو وہ مسافر کی تعریف میں آجاتا ہے۔
حدود شہر‘ یعنی موجودہ اصطلاح میں میونسپلٹی کی حدود سے نکلنے کے بعد‘ خواہ ایک میل کا سفر طے کیا ہو‘ نماز قصر ادا کرنا شروع کر سکتا ہے اور واپسی تک دوگانہ نماز پڑھ سکتا ہے۔
سفر شروع کرنے سے ہی نماز قصر ہو جاتی ہے، خواہ آدمی شہر سے یا محلے سے باہر ہی نکلا ہو، کیونکہ ذوالحلیفہ مدینہ سے 6 میل دور ہے۔ (اكـمـال الـمعلم: 3/ 9) رہا یہ مسئلہ کہ قصر نماز کتنی مسافت سفر کرنے سے شروع ہوتی ہے، اس میں راجح بات یہ ہے کہ عرف جس کو سفر کہتا ہے، وہ سفر ہے، «ما يطلق عليه اسم الشفر فهو السّفر» جس پر سفر کے نام کا اطلاق کیا جا تا ہو، پس وہ سفر ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج قرآن جائز ہے، اور کسی کے پیچھے سوار ہونا بھی جائز ہے۔