حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جميعا ، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ إِلَى قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " ، فَقُلْتُ لَهُ : فَقَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : فَقَالَ : إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ .

عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے حبیب بن عبید سے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں شرجیل بن سمط (الکندی) کی معیت میں ایک بستی کو گیا جو سترہ یا اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی، میں نے ان سے پوچھا، انہوں نے جواب دیا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھتے دیکھا ہے، تو میں نے ان (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) سے پوچھا، انہوں نے جواب دیا: میں اسی طرح کرتا ہوں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : عَنِ ابْنِ السِّمْطِ وَلَمْ يُسَمِّ شُرَحْبِيلَ ، وَقَالَ : إِنَّهُ أَتَى أَرْضًا ، يُقَالُ لَهَا : دُومِينَ مِنْ حِمْصَ ، عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا .

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا: ابن سمط سے روایت ہے اور انہوں نے شرجیل کا نام لیا اور کہا: وہ حمص کی دومین نامی جگہ پر پہنچے جو اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی (اور وہاں نماز قصر پڑھی)۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 692
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ میں شرحبیل بن سمط کی معیت میں ایک بستی میں گیا جو سترہ یا اٹھارہ میل کے فاصہ پر تھی تو انہوں نے نماز دو رکعت ادا کی تو میں نے ان سے پوچھا، انہوں نے جواب دیا۔ میں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا: میں ویسے ہی کرتا ہوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1584]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ بات اوپر گزر چکی ہے کہ ذوالحلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منتہائے سفر نہیں تھا کہ آپﷺ اس سے آگے نہ گئے ہوں۔
دوران سفر مختلف اوقات میں آپﷺ نے وہاں عارضی طور پر قیام فرمایا اور نماز قصرادا کی کیونکہ آپﷺ مسافر تھے اور مسافر آتے جاتے وقت آبادی سے باہر قصر کر سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1584 سے ماخوذ ہے۔