صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب صَلاَةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا: باب: مسافر کی نماز کا بیان۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ ، قَالَ : فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ رَحْلَهُ وَجَلَسَ ، وَجَلَسْنَا مَعَهُ ، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ نَحْوَ حَيْثُ صَلَّى ، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا ، فَقَالَ : مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ قُلْتُ : يُسَبِّحُونَ ، قَالَ : لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي ، " إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ " ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .عیسیٰ بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد (حفص) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کیا، انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعتیں پڑھائی، پھر وہ اور ہم آگے بڑھے اور اپنی قیام گاہ پر آئے اور بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ پھر اچانک ان کی توجہ اس طرف ہوئی جہاں انہوں نے نماز پڑھی تھی، انہوں نے (وہاں) لوگوں کو قیام کی حالت میں دیکھا، انہوں نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنتیں پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز (بھی) پوری کرتا (قصر نہ کرتا)۔ بھتیجے! میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ نے دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اور میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی بلا لیا، اور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی بلا لیا۔ پھر میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو سے زائد رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ نے انہیں بلا لیا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : مَرِضْتُ مَرَضًا ، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ يَعُودُنِي ، قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ " صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَمَا رَأَيْتُهُ يُسَبِّحُ ، وَلَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ " ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .عمر بن محمد نے حفص بن عاصم سے روایت کی، کہا: میں بیمار ہوا تو (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما میری عیادت کرنے آئے، کہا: میں نے ان سے سفر میں سنتیں پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: میں سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ آپ سنتیں نہیں پڑھتے، اور اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز ہی پوری پڑھتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔)
تشریح، فوائد و مسائل
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین نماز کے ساتھ سفر میں سنن مؤکدہ نہیں پڑھتے تھے لیکن صبح کی سنتیں پڑھتے تھے۔
اسی طرح وتر بھی پڑھتےتھے۔
اور عام نوافل بھی سواری پر بیٹھے بیٹھے پڑھتے تھے۔
اس لیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سنن مؤکدہ کا حکم نوافل والا ہو گا۔
ان کو نفل کی حیثیت سے پڑھ لیا جائے گا۔
حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی سفر میں فرض نماز سے پہلے اور بعد میں نفل پڑھا کرتے تھے۔
(زاد المعاد، طبع احیاء التراث الاسلامی: ج، ص: 456)
2۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ منیٰ کے سوا تمام مقامات پر سفر میں نماز قصر پڑھتے تھے۔
اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سفر میں آخر عمر تک دو رکعت سے زائد فرض نہیں پڑھے۔
3۔
احناف کے نزدیک مسافر اثنائے سفر میں سنت مؤکدہ نہ پڑھے اور حالت قیام میں پڑھ لے۔
صحبت ابن عمر في طریق مکة فصلی بنا الظھررکعتین ثم أقبل وأقبلنا معه حتی جاء رحله وجلسنا معه فحانت منه التفاتة فرأی ناساً قیاما فقال ما یصنع ھولاء قلت یسبحون قال لو کنت مسبحا لأ تممت۔
(قسطلاني)
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں مکہ شریف کے سفر میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے ساتھ تھا۔
آپ نے ظہر کی دو رکعت فرض نماز قصر پڑھائی پھر کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ سنت پڑھ رہے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ اگر میں سنتیں پڑھوں تو پھر فرض ہی کیوں نہ پورے پڑھ لوں۔
اگلی روایت میں مزید وضاحت موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سب کا یہی عمل تھا کہ وہ سفر میں نماز قصر کرتے اور ان دورکعتوں فرض کے علاوہ کوئی سنت نماز نہیں پڑھتے تھے۔
بہت سے ناواقف بھائیوں کو سفر میں دیکھا جاتا ہے کہ وہ اہل حدیث کے اس عمل پر تعجب کیا کرتے ہیں۔
بلکہ بعض تو اظہار نفرت سے بھی نہیں چوکتے، ان لوگوں کو خود اپنی ناواقفی پر افسوس کرنا چاہیے اور معلوم ہونا چاہیے کہ حالت سفر میں جب فرض نماز کو قصر کیا جارہا ہے پھر اس وقت سنت نمازوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
معلوم ہوا دوران سفر صرف نماز قصر پر اکتفا کرنا چاہیے۔
فرائض سے پہلے اور بعد میں سنت وغیرہ نہ پڑھی جائیں۔
اسوۂ نبوی یہی ہے۔
اس کی وضاحت ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔
راوئ حدیث کہتے ہیں: میں طریق مکہ میں حضرت ابن عمر ؓ کا ہم سفر رہا ہوں۔
آپ نے ہمیں ظہر کی دو رکعت پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ سنتیں پڑھ رہے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر قصر نماز کے بعد سنتیں پڑھنا ہوتیں تو بہتر تھا کہ قصر کے بجائے نماز کو پورا پڑھ لیا جاتا۔
‘‘ (صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1579(689)
اس کے بعد حضرت ابن عمر ؓ نے مذکورہ حدیث سنائی۔
اس تفصیلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ دوران سفر نماز قصر پڑھتے تھے اور اس سے پہلے اور بعد میں کوئی سنت وغیرہ ادا نہیں کرتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کا بھی یہی معمول تھا لیکن دیگر نوافل، مثلاً: تہجد یا اشراق وغیرہ پڑھا کرتے تھے، جیسا کہ آئندہ عنوان میں اس کے متعلق بیان ہو گا۔
امام بخاری ؒ نے منیٰ میں نماز کے متعلق واضح حکم بیان نہیں کیا کہ ان دنوں قصر پڑھنی ہے یا پوری ادا کرنی ہے کیونکہ اس میں اختلاف ہے، پھر اگر نماز قصر پڑھنی ہے تو سفر کی وجہ سے یا مناسک حج کی بنا پر۔
ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ ایام حج (منیٰ، عرفات اور مزدلفہ)
میں نماز قصر ہی پڑھی جائے، سفر حج کی وجہ سے یہ رعایت ہر حاجی کے لیے ہے، خواہ وہ مکہ مکرمہ ہی کا رہائشی ہو، البتہ حضرت عثمان ؓ نے خلافت کے 6 سال بعد کسی خاص عذر کی وجہ سے نماز پوری پڑھنی شروع کر دی تھی۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ایام منیٰ میں اگر اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعت، اگر امام کے ساتھ ادا کرتے تو چار رکعت پڑھتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(فتح الباري: 2/728، وصحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1592(694)
باقی مقامات پر دو رکعت ہی پڑھتے تھے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضر اور سفر دونوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے آپ کے ساتھ حضر میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد دو رکعتیں، اور سفر میں آپ کے ساتھ ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور عصر کی دو رکعتیں، اور اس کے بعد کوئی چیز نہیں پڑھی۔ اور مغرب کی سفر و حضر دونوں ہی میں تین رکعتیں پڑھیں۔ نہ حضر میں کوئی کمی کی نہ سفر میں، یہ دن کی وتر ہے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 552]
نوٹ:
(اس کے راوی ’’محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ‘‘ ضعیف ہیں، اور یہ حدیث صحیح احادیث کے خلاف ہے)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعںیی۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 551]
نوٹ:
(اس کے راوی ’’عطیہ عوفی‘‘ ضعیف ہیں)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ سفر کیا، یہ لوگ ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھتے تھے۔ نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھتے اور نہ اس کے بعد۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: اگر میں اس سے پہلے یا اس کے بعد (سنت) نماز پڑھتا تو میں انہی (فرائض) کو پوری پڑھتا۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 544]
1؎:
یہ حدیث 551 پر مؤلف کے یہاں آ رہی ہے، اور ضعیف و منکر ہے۔
2؎:
یہ صحیح بخاری کی روایت ہے، اور بیہقی کی روایت ہے کہ انہوں نے سبب یہ بیان کیا کہ پوری پڑھنی میرے لیے شاق نہیں ہے، گویا سفر میں قصر رخصت ہے اور اتمام جائز ہے، اور یہی راجح قول ہے۔
رخصت کے اختیار میں سنت پرعمل اور اللہ کی رضا حاصل ہوتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے بھی وہاں دو ہی رکعت پڑھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1452]
➋ مندرجہ بالا تمام روایات میں دو رکعت سے مراد صرف وہ نماز ہے جو اصل رباعی، یعنی چار رکعت والی ہے، ورنہ مغرب ہر حال میں تین رکعت ہے اور فجر ہر حال میں دو رکعت۔ اور یہ متفقہ بات ہے۔
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1458]
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ (اب) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1459]
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز (بغیر خوف کے) کیسے قصر کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم» ” اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں “ (النساء: ۱۰۱) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا: بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 458]
➋حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس اصولی جواب کے علاوہ بھی جوابات دیے گئے ہیں، مثلاً 1۔ جب قصر کی آیت اتری، اس وقت خوف بھی تھا، لہٰذا آیت میں واقعہ کی مناسبت سے خوف کا ذکر کر دیا گیا ورنہ یہ شرط مقصود نہ تھی، سفر ہی شرط تھا۔ 2۔ قرآن مجید میں صلاۃ خوف ہی کا ذکر ہے۔ صلاۃ سفر کا ذکر صرف احادیث میں ہے۔ قرآن مجید میں سفر کی نماز کا ذکر ہی نہیں۔ 3۔ (ان خفتم۔۔۔ الخ) سے صلاۃ خوف کا ذکر ہے اور اس سے پہلے صلاۃ سفر مذکور ہے، گویا (ان خفتم) کا تعلق ماقبل سے نہیں مابعد سے ہے، دونوں الگ الگ جملے ہیں۔
➌ امرنا سے مراد وجوبی حکم نہیں بلکہ استحبابی حکم مراد ہے جیسا کہ پیچھے گزرا۔
حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھے، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہم ان کے ساتھ لوٹے، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنت پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا: اگر مجھے نفلی نماز (سنت) پڑھنی ہوتی تو میں پوری نماز پڑھتا، میرے بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1071]
فوائد ومسائل: (1)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان للہ عنہم اجمعین کا عمل یہی ہے کہ سفر کے دوران میں فرض نماز سے پہلے یا بعد سنتیں نہ پڑھی جایئں۔
(2)
سفر کے دوران میں دیگر نفل نمازیں ادا کرنا جائز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران میں سواری پر نماز نفل ادا کرتے تھے۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نما ز پڑھتے تھے۔
خواہ سواری کا منہ کسی طرف ہو۔ (نماز شروع کرنے کے بعد صرف شروع میں ایک مرتبہ رخ ہوکر نیت باندھتے)
پھر جب فرض ادا کرنے کا ارادہ فرماتے تو (سواری سے)
اتر کر قبلہ رو ہوجاتے۔ (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب التوجه نحو القبلة حیث کان، حدیث: 400)
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد وعمل معلوم ہونے کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔
تاہم اگر تاکید کے لئے دیگر علماء کاعمل یا فرما ن بھی ذکرکردیا جائے تو جائز ہے۔
جیسے حضرت عبدا للہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلفائے راشدین رضوان للہ عنہم اجمعین کا عمل بیان کیا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تو دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے یہاں تک کہ آپ یہاں لوٹ آتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1067]
فائدہ: مذکورہ حدیث میں قصر نماز کی مسافت کی بابت اجمال ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں تفصیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ کا سفر کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے۔ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: 691)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت فرماتے ہیں کہ مسافت قصر کے بارے میں صحیح ترین اور صریح ترین روایت یہی ہے۔ (فتح الباري، 567/2)
تاہم اس مسئلہ کی بابت تمام روایات اوراقوال کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز قصر کرنے کےلئے مذکورہ حدیث میں جو مسافت بیان ہوئی ہے وہ محض احتیاط کی بنا پر ہے۔
کہ آدمی اگر تین فرسخ یعنی 23، 22 کلومیٹر شہر کی حدود سے باہر جائے تو وہ نماز قصر ادا کرسکتا ہے۔
کیونکہ اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے۔
کہ رسول اللہ ﷺ تین میل یا تین فرسخ سے کم سفر کرتے تو اس میں قصر نہ کرتے اور نہ ہی شریعت میں مسافت قصر کی کوئی تحدید کی گئی ہے۔
بلکہ عرف میں اگر دو یا تین میل کی مسافت کو بھی سفر کہا جاتا ہو تو شرعاً اس میں بھی قصر جائز ہوگی۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اسی مسافت قصر کی بابت فرماتے ہیں۔
کہ نماز قصر کی ابتداء کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ اس کےلئے کسی مسافت کی قید نہیں بلکہ شہر کی حدود پار کرنے سے ہی سے قصر شروع ہوجاتی ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (فتح الباری 567/2)