صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب قَضَاءِ الصَّلاَةِ الْفَائِتَةِ وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا: باب: قضا نماز کا بیان اور ان کو جلد پڑھنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 683
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ ، اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ ، وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ ، نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ " .حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور رات (کے آخری حصے) میں آرام کے لیے لیٹتے تو دائیں پہلو پر لیٹتے اور جب صبح سے ذرا پہلے لیٹتے تو اپنی کہنی کھڑی کر لیتے اور سر ہتھیلی پر ٹکا لیتے۔ (تاکہ زیادہ گہری نیند نہ آئے۔ اس حدیث کے الفاظ بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اوپر بیان کیے گئے دو الگ الگ واقعات ہیں۔)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ سفر میں ہوتے اور رات کو پڑاؤ کرتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے اور جب صبح کے قریب پڑاؤ کرتے تو اپنا بازو زمین پر رکھ دیتے اور اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1565]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر انسان صبح کے قریب آرام کرنے کی ضرورت محسوس کرے تو اس انداز سے لیٹنے سے گریزکرے کہ نیند گہری آ جائے بلکہ اس طرح بیٹھ کرکچھ آرام کرے کہ نماز کے لیے بیدار ہونا آسان ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 683 سے ماخوذ ہے۔