صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب قَضَاءِ الصَّلاَةِ الْفَائِتَةِ وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا: باب: قضا نماز کا بیان اور ان کو جلد پڑھنے کا استحباب۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ، فَأَدْلَجْنَا لَيْلَتَنَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، عَرَّسْنَا فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا ، حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ : فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ ، وَكُنَّا لَا نُوقِظُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ ، إِذَا نَامَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ عُمَرُ ، فَقَامَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ ، قَالَ : ارْتَحِلُوا ، فَسَارَ بِنَا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ ، نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا فُلَانُ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا ؟ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ عَجَّلَنِي فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ نَطْلُبُ الْمَاءَ ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ ، إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ ، فَقُلْنَا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ قَالَتْ : أَيْهَاهْ ، أَيْهَاهْ ، لَا مَاءَ لَكُمْ ، قُلْنَا : فَكَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ ؟ قَالَتْ : مَسِيرَةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، قُلْنَا : انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : وَمَا رَسُولُ اللَّهِ ، فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا ، حَتَّى انْطَلَقْنَا بِهَا ، فَاسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا ، فَأَخْبَرَتْهُ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَتْنَا ، وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا مُوتِمَةٌ لَهَا صِبْيَانٌ أَيْتَامٌ ، فَأَمَرَ بِرَاوِيَتِهَ ، فَأُنِيخَتْ ، فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِرَاوِيَتِهَا ، فَشَرِبْنَا وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا عِطَاشٌ ، حَتَّى رَوِينَا وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا ، غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا ، وَهِيَ تَكَادُ تَنْضَرِجُ مِنَ الْمَاءِ ، يَعْنِي الْمَزَادَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : هَاتُوا مَا كَانَ عِنْدَكُمْ ، فَجَمَعْنَا لَهَا مِنْ كِسَرٍ وَتَمْرٍ ، وَصَرَّ لَهَا صُرَّةً ، فَقَالَ لَهَا : اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكِ ، وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ ، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا ، قَالَتْ : لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ الْبَشَرِ ، أَوْ إِنَّهُ لَنَبِيٌّ كَمَا زَعَمَ ، كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ذَيْتَ وَذَيْتَ ، فَهَدَى اللَّهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ ، فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا " .سلم بن زریر عطاری نے کہا: میں نے ابورجاء عطاری سے سنا، وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، ہم اس رات چلتے رہے حتی کہ جب صبح قریب آئی تو ہم (تھکاوٹ کے سبب) اتر پڑے، ہم پر (نیند میں ڈوبی) آنکھیں غالب آگئیں یہاں تک کہ سورج چمکنے لگا۔ ہم میں جو سب سے پہلے بیدار ہوئے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگایا نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بیدار ہو جاتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ جاگے، وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑے ہوگئے اور «اللہ اکبر» پکارنے لگے اور (اس) تکبیر میں آواز اونچی کرنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاگ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دیکھا کہ سورج چمک رہا ہے تو فرمایا: ”(آگے) چلو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لے کر چلے یہاں تک کہ سورج (روشن) ہو کر سفید ہو گیا، آپ اترے، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی الگ ہو گیا اور اس نے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی، جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”فلاں! تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا، اس نے مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند سواروں سمیت پانی کی تلاش میں جلدی اپنے آگے روانہ کیا، ہم سخت پیاسے تھے، جب ہم چل رہے تھے تو ہمیں ایک عورت ملی جس نے اپنے پاؤں دو مشکوں کے درمیان لٹکائے ہوئے تھے (بکری کی مشکوں سمیت پاؤں لٹکائے، اونٹ پر سوار تھی)، ہم نے اس سے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ کہنے لگی: افسوس! تمہارے لیے پانی نہیں ہے۔ ہم نے پوچھا: تمہارے گھر اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس نے کہا: ایک دن اور رات کی مسافت ہے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ کہنے لگی: اللہ کا رسول کیا ہوتا ہے؟ ہم نے اسے اس کے معاملے میں (فیصلے کا) کچھ اختیار نہ دیا حتی کہ اسے لے آئے، اس کے ساتھ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوئے، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے آپ کو اسی طرح بتایا جس طرح ہمیں بتایا تھا، اور آپ کو یہ بھی بتایا کہ وہ یتیم بچوں والی ہے، اس کے (زیر کفالت) بہت سے یتیم بچے ہیں۔ آپ نے اس کی پانی ڈھونے والی اونٹنی کے بارے میں حکم دیا، اسے بٹھایا گیا اور آپ نے کلی کر کے مشکوں کے اوپر کے دونوں سوراخوں میں پانی ڈالا، پھر آپ نے اس کی اونٹنی کو کھڑا کیا تو ہم سب نے اور ہم چالیس (شدید) پیاسے افراد تھے (ان مشکوں سے) پانی پیا یہاں تک کہ ہم سیراب ہوگئے اور ہمارے پاس جتنی مشکیں اور پانی کے برتن تھے سب بھر لیے اور اپنے ساتھی کو غسل بھی کرایا، البتہ ہم نے کسی اونٹ کو پانی نہ پلایا اور وہ یعنی دونوں مشکیں پانی (کی مقدار زیادہ ہو جانے کے سبب) پھٹنے والی ہو گئیں، پھر آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس جو کچھ ہے، لے آؤ۔“ ہم نے ٹکڑے اور کھجوریں اکٹھی کیں، اس کے لیے ایک تھیلی کا منہ بند کر دیا گیا تو آپ نے اس سے کہا: ”جاؤ اور یہ خوراک اپنے بچوں کو کھلاؤ اور جان لو! ہم نے تمہارے پانی میں کمی نہیں کی۔“ جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچی تو کہا: میں انسانوں کے سب سے بڑے ساحر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ وہ خود کو سمجھتا ہے، وہ نبی ہے، اور اس کا معاملہ اس طرح سے ہے۔ پھر (آخر کار) اللہ نے اس عورت کے سبب سے لوگوں سے کٹی ہوئی اس آبادی کو ہدایت عطا کر دی، وہ مسلمان ہوگئی اور (باقی) لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔ (یہ پچھلے واقعے سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ ہے۔)
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الأَعْرَابِيُّ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَسَرَيْنَا لَيْلَةً ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قُبَيْلَ الصُّبْحِ ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ الَّتِي لَا وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَلْمِ بْنِ زَرِيرٍ ، وَزَادَ وَنَقَصَ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ ، وَكَانَ أَجْوَفَ جَلِيدًا ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشِدَّةِ صَوْتِهِ بِالتَّكْبِيرِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ضَيْرَ ، ارْتَحِلُوا ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .عوف بن ابی جمیلہ اعرابی نے ابورجاء عطاری سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک سفر کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہم ایک رات چلے، جب رات کا آخری حصہ آیا، صبح سے تھوڑی دیر پہلے ہم اس طرح پڑ کر سو گئے کہ اس سے زیادہ میٹھی نیند ایک مسافر کے لیے اور کوئی نہیں ہو سکتی، ہمیں سورج کی حرارت ہی نے جگایا۔ پھر سلم بن زریر کی حدیث کی طرح حدیث سنائی اور کچھ کمی بیشی بھی اور (اپنی روایت کردہ) حدیث میں انہوں نے کہا: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جاگے اور لوگوں کی صورت حال دیکھی، اور وہ بلند آواز آدمی تھے تو انہوں نے اونچی آواز سے «اللہ اکبر» کہا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اونچے اللہ اکبر کہنے سے جاگ گئے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاگ گئے تو لوگوں نے اپنے اس معاملے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی (بڑا) نقصان نہیں ہوا، (آگے) چلو۔“ آگے وہی حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
أَدْلَجْنَا: ہم تقریباً رات بھر چلتے رہے۔
(2)
بَزَغَتِ الشَّمْسُ: سورج نکل آیا۔
(3)
سَادِلَةٍ: لٹکائے ہوئے۔
(4)
مَزَادَتَيْنِ: مَزَادَۃ بڑی مشک، مَزَادَتَيْنِ وہ مشکیں جو اونٹ کے اوپر لادی جاتی ہیں۔
أَيْهَاهْ أَيْهَاهْ بہت دور جہاں پہنچنے کی جلد امید نہ ہو۔
(5)
فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا: ہم نے اس کو اپنی مرضی نہ کرنے دی۔
(6)
مُوتِمَةٌ: یتیم بچوں والی جن کا باپ فوت ہوچکا ہے۔
(7)
رَاوِيَة: پانی ڈھونے والے اونٹ۔
(8)
عَزْلَاوَيْنِ: عَزْلَاء کی تثنیہ ہے، پانی نکالنے والا منہ کبھی مشکیزے کے نچلے کی بجائے اوپر والے منہ کو بھی کہہ دیتے ہیں، جس سے پانی ڈالا جاتا ہے۔
اس لیے یہاں اس کی صفت علیا لائی گئی ہے۔
(9)
تَنْضَرِجُ مِنَ الْمَاءِ: پانی کی زیادتی سے پھٹنا۔
(10)
كِسَرٍ: كسرةکی جمع ہے، ٹکڑے۔
(11)
صَرَّ لَهَا صُرَّةً: اس کےلیےتھیلی باندھی۔
(12)
صُرَّةً: تھیلی۔
(13)
لَمْ نَرْزَأْ: ہم نے کچھ کم نہیں کیا۔
(14)
ذَيْتَ ذَيْتَ: كيت وكيت ياكذا وكذا کے ہم معنی ہے۔
یعنی یہ کام کیے یا اس اس طرح کیا۔
(15)
صَرْمَ: گھروں کا اجتماع، جماعت اور گروہ۔
فوائد ومسائل: 1۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے بشری تقاضا کی بنا پر ہی آپﷺ پر غلبہ پایا اور آپﷺ نے نیند سے مجبور ہو کر رات کےآخری حصے میں آرام کے لیے پڑاؤ کیا اور نماز کے لیے آپﷺ نے یہ انتظام کیا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ جاگ کر صبح کا انتظار کریں اور جب فجر طلوع ہو تو ساتھیوں کو جگا دیں لیکن سفر کی تھکاوٹ کیوجہ سے وہ بھی سو گئے حتیٰ کہ سورج نکل آیا۔
2۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادب واحترام کی بنا پر جگاتے نہیں تھے اور یہ بات بھی ملحوظ ہوتی تھی کہ ممکن ہے آپﷺ پر نیند کی حالت میں وحی کا نزول ہو رہا ہو اور آپﷺ کو بیدار کرنا اس میں خلل اندازی کا سبب بنے اور سورج کے بلند ہونے کی صورت میں جب آپﷺ کو بیدار کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مقصد کے لیے بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا شروع کیا۔
آپﷺ کو براہ راست بیدار نہیں کیا۔
اس سے معلوم ہوا کسی بزرگ اور واجب الاحترام شخصیت کو نماز کے لیے بیدار کرنا بے ادبی یا گستاخی نہیں ہے۔
3۔
نیند کی وجہ سے اگر نماز قضا ہو جائے تو باعث افسوس تو ہے لیکن گناہ اور جرم نہیں ہے۔
4۔
جو شخص مسلمانوں کے ساتھ جماعت میں شریک نہ ہو۔
اس سے اس کا سبب معلوم کرنا چاہیے۔
اگر اس کا عذر شرعی ہو تو اسے قبول کر لینا چاہیے جیسا کہ جنبی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عدم واقفیت کی بنا پر تیمم نہ کیا۔
اس لیے نماز میں شریک نہ ہوا تو آپﷺ نے اس سے اس کا سبب پوچھا بتانے پر مسئلہ اس کو سمجھا دیا جس سے ثابت ہوا پانی اگر نہ ملے تو جنبی تیمم کر کے نماز پڑھ لے گا اور بعد میں پانی جب مل جائےگا تو غسل کر لے گا۔
5۔
ضرورت کے تحت اجنبی عورت سے بات چیت کرنا جائز ہے اور کافر کی چیز سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور کافر کے ساتھ احسان بھی کیا جا سکتا ہے۔
6۔
پیاس کی ضرورت غسل جنابت پرمقدم ہے۔
پانی پینے کی ضرورت سے زائد ہو تو اس سے غسل کیا جائے گا۔
7۔
اس واقعہ میں بھی آپﷺ کے اس معجزہ کا ظہور ہوا کہ آپﷺ نے مشکیزہ کا منہ کھول کر اس میں کلی فرمائی۔
اس مشکیزہ سے چالیس صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے وضو کیا۔
پانی پیا اور اپنے پانی کے تمام برتن بھر لیے۔
جنبی صحابی کو غسل کروایا۔
بعض مشکیزہ کے پانی میں کسی قسم کی کمی نہ ہوئی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ بھرا معلوم ہوتا تھا۔
8۔
نیند کی حالت میں دل اگرچہ بیدار ہوتا تھا لیکن آنکھیں سو جاتی تھیں۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کے طلوع ہونے اور سورج کے نکلنے کا پتہ نہ چل سکا کیونکہ سورج کا تعلق دیکھنے سے ہے جو آنکھوں کا فعل ہے، دل کا نہیں۔
9۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صبح کی نماز فوت ہو گئی تو آپﷺ نے صبح کی نماز سے پہلے صبح کی سنتیں پڑھیں، جس سے معلوم ہوا کہ قضاء شدہ نماز کے ساتھ اس کی سنتیں پڑھنا بہتر ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا یہی موقف ہے احناف کے نزدیک سنتوں کی قضائی نہیں ہے۔
بعض احناف کا خیال ہے اگر نماز کے ساتھ سنتیں قضا ہو جائیں تو پھر ان کی قضائی ہے۔
اگرصرف سنتیں رہ جائیں تو قضائی نہیں ہے۔
10۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قضا ہونے والی نماز کے لیے اذان کہی جائے گی اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول جدید کے مطابق تکبیر کہہ لینا ہی کافی ہے۔
پس لفظ صابی اسی سے بنا ہے جس کے معنی دوسری طرف جھک جانے کے ہیں۔
سفر مذکور کون سا سفر تھا؟ بعض نے اسے سفرخبیر، بعض نے سفرحدیبیہ، بعض نے سفرتبوک اور بعض نے طریق مکہ کا سفر قراردیا ہے۔
بہرحال ایک سفر تھا جس میں یہ واقعہ پیش آیا۔
چونکہ تکان غالب تھی اور پچھلی رات، پھر اس وقت ریگستان عرب کی میٹھی ٹھنڈی ہوائیں، نتیجہ یہ ہوا کہ سب کو نیند آگئی، آنحضرت ﷺ بھی سوگئے۔
حتیٰ کہ سورج نکل آیا، اور مجاہدین جاگے۔
حضرت عمر ؓ نے یہ حال دیکھا توزور زور سے نعرہ تکبیر بلند کرنا شروع کیاتاکہ حضور ﷺ کی آنکھ بھی کھل جائے۔
چنانچہ آپ ﷺ بھی جاگ اٹھے اور آپ ﷺ نے لوگوں کو تسلی دلائی کہ جو ہوا اللہ کے حکم سے ہوا فکر کی کوئی بات نہیں۔
پھر آپ ﷺ نے وہاں سے کوچ کا حکم دیا اور تھوڑی دورآگے بڑھ کر پھر پڑاؤ کیاگیا اور آپ ﷺ نے وہاں اذان کہلواکر جماعت سے نماز پڑھائی اور نماز کے بعد ایک شخص کو علیحدہ بیٹھے ہوئے دیکھا تومعلوم ہواکہ اس کو غسل کی حاجت ہوگئی ہے اور وہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے نماز نہ پڑھ سکا ہے۔
اس پر آپ نے فرمایا کہ اس حالت میں تجھ کو مٹی پر تیمم کرلینا کافی تھا۔
ترجمۃ الباب اسی جگہ سے ثابت ہوتا ہے۔
بعد میں آپ ﷺ نے پانی کی تلاش میں حضرت علی ؓ اور حضرت عمران بن حصین ؓ کومقرر فرمایا اور انھوں نے اس مسافرعورت کو دیکھا کہ پانی کی پکھالیں اونٹ پر لٹکائے ہوئے جارہی ہے، وہ اس کو بلا کر حضور ﷺ کے پاس لائے، ان کی نیت ظلم وبرائی کی نہ تھی بلکہ عورت سے قیمت سے پانی حاصل کرنا یا اس سے پانی کے متعلق معلومات حاصل کرنا تھا۔
آپ نے اس کی پکھالوں کے منہ کھلوادیے اور ان میں اپنا ریق مبارک ڈالا جس کی برکت سے وہ پانی اس قدر زیادہ ہو گیا کہ مجاہدین اور ان کے جانورسب سیراب ہوگئے اور اس جنبی شخص کو غسل کے لیے بھی پانی دیا گیا۔
اس کے بعد آپ نے پکھالوں کے منہ بندکرادیے اور وہ پانی سے بالکل لبریز تھیں۔
ان میں ذرا بھی پانی کم نہیں ہوا تھا۔
آپ نے احسان کے بدلے احسان کے طور پر اس عورت کے لیے کھانا غلہ صحابہ کرام سے جمع کرایا اور اس کو عزت واحترام کے ساتھ رخصت کردیا۔
جس کے نتیجہ میں آگے چل کر اس عورت اور اس کے قبیلہ والوں نے اسلام قبول کرلیا۔
حضرت امام المحدثین ؒ کا مقصد اس روایت کی نقل سے یہ ہے کہ پانی نہ ملنے کی صورت میں مٹی پر تیمم کرلینا وضو اور غسل ہر دو کی جگہ کافی ہے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اس عنوان کے تحت دو مسئلے بیان کیے ہیں، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:۔
تیمم طہارت اصلیہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت نے نماز کے لیے طہارت کو ضروری قراردیا ہے اور طہارت دو الگ الگ صورتوں میں دو طرح سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اگر پانی میسر ہو اور اس کے استعمال پر قدرت نہ ہوتو پانی کے ذریعے سے طہارت حاصل کی جائے۔
اگر پانی نہ ہو یا اس کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو مٹی اس کا بدل ہے گویا حصول طہارت میں پانی اصل ہے اور مٹی اس کا بدل ہے اصل کے نہ ملنے سے بدل سے وہ تمام کام لیے جائیں گے جو اصل سے لیے جاتے ہیں۔
شریعت نے ان دونوں کو ایک ہی درجہ دیا ہے جس طرح ایک وضو سے ہر قسم کی نمازیں: فرائض، نوافل فوت شدہ نمازیں عیدین اور نماز جنازہ وغیرہ ادا کیا جا سکتا ہے، اسی طرح ایک تیمم سے بھی سب کام لیے جائیں گے اور یہ ہر وقت کے ختم ہونے سے ختم نہیں ہو گا۔
البتہ نواقض تیمم میں ایک چیز نواقض وضو سے زائد ہے اور وہ ہے پانی کا دستیاب ہونا، یعنی پانی دستیاب ہوتے ہی تیمم ختم ہوجائے گا۔
بعض حضرات کے نزدیک تیمم طہارت ضروریہ ہے، یعنی تیمم کے ذریعے سے طہارت حاصل کرنا مجبوری کے درجے کی چیز ہے جتنی ضرورت ہو، اتنے وقت تک تیمم سے کام لے سکتے ہیں، ضرورت پوری ہوتے ہی یہ طہارت ختم ہو جائے گی۔
ایک تیمم سے وقت کے دوران میں صرف وقتی فریضہ ہی ادا کیا جا سکتا ہے، کسی دوسرے فریضے کی قضا بھی نہیں دے سکتے، اس کے لیے دوسرا تیمم کرنا ہوگا۔
دوسرے لفظوں میں تیمم رافع حدث نہیں بلکہ صرف استباحت صلاۃ کا کام دے سکتا ہے۔
امام بخاری ؒ اس رائے سے متفق نہیں وہ فرماتے ہیں کہ پاک مٹی مومن کے حق میں وضو کی جگہ ہے، اگر پانی میسر نہ ہوتو یہ اس سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ تیمم مطلق طور پر وجہ ارض سے جائز ہے، خواہ وہ زرخیز ہو یا بنجر بعض حضرات یہ فرق کرتے ہیں کہ تراب منبت (زرخیز مٹی)
سے جائز ہے، غیر منبت سے جائز نہیں، امام بخاری ؒ اس فرق کو قبول نہیں کرتے۔
وہ فرماتے ہیں: زمین شور(بنجر زمین)
پر بھی تیمم کیا جا سکتا ہے، اس کی وضاحت بھی پہلے ہو چکی ہے۔
ہم نے اس سلسلے میں امام ابن خزیمہ ؒ کے ایک وقیع استدلال کا بھی حوالہ دیا تھا۔
2۔
اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز فجر نیند کی وجہ سے قضا ہو گئی تھی جبکہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ کی آنکھیں بند ہو جاتی تھیں دل بیدار رہتا تھا، بظاہر ان دونوں روایات میں تعارض ہے اس تعارض کو دو طرح سے دور کیا گیا ہے۔
دل کے بیدار رہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے محسوسات کا ادراک کرتا ہے جو اس سے براہ راست متعلق ہیں، جیسے حدث وغیرہ لیکن جو محسوسات آنکھ یا کسی اور چیز سے متعلق ہیں، ان کا ادراک دل نہیں کرتا، یہاں طلوع سحر کے ادراک کا تعلق دل سے نہیں آنکھ سے ہے جو اس وقت سو چکی تھی۔
دل کی دو حالتیں ہیں ایک بیداری جو عام طور پر رہتی تھی دوسری نیند جو کبھی کبھار پیش آتی تھی، اتفاق سے یہ واقعہ دل کی حالت نیند میں پیش آگیا۔
بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بعض اوقات بیداری کی حالت میں بعض مصالح کے پیش نظر سہو ہوتا تھا۔
پھر جب بیداری میں سہو کی صورت پیش آسکتی ہے تو نیند کی حالت میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔
(فتح الباري: 583/1)
2۔
آخر میں امام بخاری ؒ نے لفظ صابي کی لغوی تحقیق فرمائی ہے، اس مناسبت سے قرآن کریم میں جو صابئین آیا ہے اس کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں انھوں نے ابو العالیہ کے قول کا حوالہ دیا ہے، جسے ابن ابی حاتم ؒ نے موصولاً بیان کیا ہے۔
ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے بإسناد حسن نقل کیا ہے کہ صابئین اہل کتاب نہیں تھے۔
امام بخاری ؓ نے یہ وضاحت اس لیے کی ہے کہ حدیث میں آنے والے لفظ صابي کی وضاحت ہو جائے کہ اس سے مراد وہ طائفہ نہیں جس کا ذکر قرآن میں ہے۔
(فتح الباري: 588/1)
1۔
صحیح بخاری ؒ کے متعدد نسخوں میں یہاں لفظ باب نہیں ہے۔
چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ لکھتے ہیں کہ اکثر صحیح نسخوں میں لفظ باب نہیں ہے اور ایسا ہی صحیح معلوم ہو تا ہے، اس بنا پر حدیث کی مناسبت باب سابق سے بایں طور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے حق میں فرمایا کہ تو مٹی کو استعمال کر لیتا وہ تیرے لیے کافی تھی۔
جس طرح یہ جملہ مٹی کی تمام انواع کے لیے عام ہے، اسی طرح اس کا عموم تیمم کی کیفیت کے لحاظ سے بھی ہے کہ وہ ایک ضرب کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور دو کے ساتھ بھی (شرح تراجم بخاري)
لیکن یہ توجیہ امام بخاری ؒ کے عنوان کے خلاف ہے، حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ اگر اسے باب سابق کا تتمہ خیال کیا جائے تو وہ بایں طورہے کہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اسے مطلق طور پر مٹی استعمال کرنے کے متعلق فرمایا ہے اور مطلق کا کم ازکم فرد کامل ایک ہوتا ہے، اس سے امام بخاری نے اپنا مدعا ثابت کیا ہے۔
(فتح الباری: 593/1)
2۔
امام بخاری ؒ کا باب بلا عنوان کئی ایک اغراض کے پیش نظر ہوتا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے پہلے عنوان ہی کی فصل شمار کہا جائے۔
چنانچہ حدیث مذکور میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، اس لیے ایک بار ہاتھ مار کر مسح کر لینا بھی کافی ہے۔
وھوالمقصود باب بلا عنوان کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے طلباء کا امتحان اور تشخید اذہان (ذہنی آزمائش)
مراد ہو، یعنی قارئین خود اس حدیث پر کوئی عنوان قائم کریں، چنانچہ اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا جا سکتا ہے: (باب الجنب إذا لم يجد الماء تيمم وصلى)
یعنی جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرے اور نماز پڑھے۔
3۔
بعض شارحین نے اس مقام پر ایک عجیب نکتہ بیان کیا ہے، وہ اس طرح کہ امام بخاری ؒ اس حدیث سے ایک اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں، اشکال یہ ہے کہ اگر حضرت عمار ؓ کو آیت تیمم معلوم تھی تو وہ زمین پر لوٹ پوٹ کیوں ہوئے اور اگر معلوم نہ تھی تو انھیں کیسے معلوم ہوا کہ مٹی پانی کے قائم مقام ہے؟ امام بخاریؒ نے اس کا جواب اس طرح دیا کہ حضرت عمار نے رسول اللہ ﷺ سے صرف (عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ)
سن رکھا تھا کہ: ’’ تجھے مٹی استعمال کرنی چاہیے۔
‘‘ اس بنا پر انھوں نے اس کے عموم کو دیکھتے ہوئے تیمم کو غسل پر قیاس کیا اور زمین پر لوٹ پوٹ ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ان کی اصلاح فرما دی۔
4۔
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں امام بخاری ؒ ہر کتاب کے آخر میں کوئی ایسی روایت لاتے ہیں جس کے کسی لفظ سے انتہائے کتاب کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
چنانچہ یہاں لفظ (يَكْفِيكَ)
ہے، یعنی تیمم کے متعلق تجھے اتنا ہی کافی ہے۔
(فتح الباری: 593/1)
5۔
واعظین حضرات کا کہنا ہے کہ امام بخاریؒ کتاب کے آخر میں کوئی ایسا لفظ لاتے ہیں جس سے انسان کے خاتمے اور فکر آخرت کی طرف واضح اشارہ ہوتا ہے۔
اس مقام پر بھی امام بخاری نے(عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ)
کے لفظ سے موت یاد دلائی ہے، یعنی خود پر مٹی کو لازم کر لو۔
اس سے قبر کی طرف بھی اشارہ ہے۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ﴾ ’’اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا اور اسی میں تمھیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمھیں دوبارہ نکالیں گے۔
‘‘ (طٰہ: 20۔
55)
واللہ أعلم وعلمه أتم۔
مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ واقعہ خیبر سے نکلنے کے بعد پیش آیا اور ابوداود میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹے تھے اور مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ یہ تبوک کے سفر کا واقعہ ہے اور ابوداود میں ایک اور روایت کی روسے اس واقعہ کا تعلق غزوہ جیش الامراءسے معلوم ہوتا ہے۔
ایک جماعت مؤرخین نے کہا ہے کہ ا س نوعیت کا واقعہ مختلف اوقات میں پیش آیا ہے یہی ان روایات میں تطبیق ہے (توشیح)
.... یہاں آپ کی دعا سے پانی میں برکت ہوگئی۔
یہی معجزہ وجہ مطابقت باب ہے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے معجزات کے بجائے علامات کا لفظ استعمال کیا ہے تاکہ معجزات اور کرامات دونوں کی شامل ہو۔
معجزے میں نبی کو جھٹلانے والوں کے لیے چیلنج ہوتا ہے کہ میں نے ایسا کام کردکھایا ہے جو خرق عادت ہے اور انسانی طاقت سے باہر ہے۔
2۔
اس عنوان کے تحت معجزات،کرامات،آئندہ پیش آنے والے واقعات اور قیامت کی علامات بیان ہوں گی۔
3۔
دور نبوت میں خرق عادت پیش آنے والے واقعات کو معجزہ اور قبل از نبوت عادت کے خلاف واقعات کو ارہاص کہا جاتا ہے۔
4۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاسے پانی میں برکت ہوگئی۔
یہ آپ کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ قلیل پانی سے چالیس آدمی سیراب ہوگئے اور انھوں نے اپنے مشکیزے اور برتن بھی بھرلیے لیکن مشکوں کا پانی ذرا بھربھی کم نہ ہوا۔
5۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پانی کو زیادہ کرنے کے متعدد واقعات پیش آئے،چنانچہ خیبر سے نکلنے کےبعد،حدیبیہ سے لوٹنے کے بعد،تبوک کو جاتے ہوئے اور غزوہ جیش الامراء(غزوہ موتہ)
میں اس قسم کے واقعات پیش آئے،یعنی ایک ہی نوعیت کا واقعہ مختلف اوقات میں پیش آیا۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کا نکلنا،پتھر سے پانی نکلنے کی نسبت زیادہ وزنی ہے کیونکہ پتھر سے پانی نکل آنا خلاف عادت نہیں،البتہ گوشت اور خون کے درمیان سے پانی کا نکلنا عام عادت کے خلاف ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 715/6)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ “ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) ” مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 322]
«. . . ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم واصحابه توضئوا من مزادة امراة مشركة . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ایک مشرکہ عورت کے مشکیزہ سے پانی لے کر اس سے وضو کیا . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 20]
«مَزَادَة» ”میم“ کے فتحہ اور زائے معجمہ کے ساتھ ہے۔ چمڑے کے مشکیزے کو کہتے ہیں جو دو چمڑوں سے بنایا جاتا ہے اور ان کے درمیان تیسرے کو بھی لگا دیا جاتا ہے تاکہ وہ وسیع ہو جائے۔
فائدہ:
اس حدیث سے اہل کتاب کے علاوہ مشرکین کے زیر استعمال برتنوں کے پاک ہونے کی رہنمائی ملتی ہے اور یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ مردہ جانوروں کی کھال دباغت کے بعد پاک ہو جاتی ہے کیونکہ جس مشکیزے سے آپ نے پانی لیا وہ ایک مشرکہ عورت کے قبضے میں تھا اور مشرکین کے ذبح کردہ جانور کی کھال سے تیار کیا گیا تھا اور ان کے ذبائح تو مردار ہی ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کے ایسے برتن جن میں نجاست وغیرہ کا اندیشہ نہ ہو، ان کا استعمال بغیر کسی تردد و تذبذب کے جائز اور درست ہے۔
راویٔ حدیث:
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما: آپ خزاعی اور کعبی تھے۔ آپ کا شمار اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے۔ آپ کی کنیت ابونجید تھی۔ غزوہ خیبر کے زمانے میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ بصرہ میں سکونت پذیر ہوئے اور وہیں 52 یا 53 ہجری میں وفات پائی۔
«. . . فقال:«إنما يكفيك ان تقول بيديك هكذا» ، ثم ضرب بيديه الارض ضربة واحدة ثم مسح الشمال على اليمين وظاهر كفيه ووجهه . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تجھے اپنے ہاتھ سے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا پھر بائیں کو دائیں پر ملا اپنے ہاتھوں کی پشت اور چہرے پر . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 110]
«فَأَجْنَبْتُ» میں جنبی ہو گیا۔
«فَتَمَرَّغْتُ» لوٹ پوٹ ہوا۔
فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث قول و فعل دونوں اعتبار سے یہ فائدہ دے رہی ہے کہ تیمّم کے لیے ایک ہی ضرب کافی ہے اور صرف ہتھیلیوں کی اندرونی و بیرونی سطح پر مسح کرنا ہے، کہنیوں تک نہیں، اس مسئلے میں یہ حدیث صحیح ترین ہے۔ اس کے مقابلے میں جو دوسری روایات ہیں وہ یا تو ضعیف ہیں یا پھر موقوف، جو اس حدیث کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ [سبل السلام]
➋ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تیمّم میں چہرے اور ہاتھوں کے لیے ایک ہی ضرب کافی ہے۔ جمہور محدثین و فقہاء کا یہی مذہب ہے، البتہ احناف اور شوافع دو ضربوں کے قائل ہیں۔ ایک ضرب چہرے کے لیے اور دوسری ہاتھوں کے لیے۔
➌ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے مروی مذکورہ حدیث جمہور کی دلیل ہے۔ اس مسئلے میں صحیح ترین روایت ہونے کے اعتبار سے اسی پر عمل ہے۔
➍ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے پانی نہ ملنے پر اپنی عقل و دانش سے زمین پر لوٹ پوٹ ہونے کا عمل اختیار کیا کہ جب پانی سے غسل کیا جاتا ہے تو سارا بدن دھویا جاتا ہے اور مٹی بھی چونکہ پانی کے قائم مقام ہے، اس لیے سارے جسم پر مٹی لگنی چاہیے۔
➎ نص کا علم نہ ہونے کی بنا پر انہوں نے ایسا عمل کیا ورنہ نص کی موجودگی میں مجتہد کے قیاس کی کوئی حیثیت نہیں، لہٰذا جب قیاس، نص کے مخالف ہو تو اس صورت میں کسی کے لیے بھی یہ روا نہیں کہ وہ نص کو چھوڑ کر قیاس پر عمل کرے۔
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے زمین پر اپنی ہتھیلیاں ماریں اور ان پر پھونک ماری، لہٰذا ضرب لگانے کے بعد پھونک مارنا بھی مسنون ہے۔
➐ ایک جنبی کے لیے پانی کی عدم موجودگی میں اتنا تیمّم کر لینا کفایت کر جاتا ہے۔
راویٔ حدیث:
(سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما) ”عین“ پر فتحہ اور ”میم“ پر فتحہ اور تشدید ہے۔ ان کی کنیت ابویقظان تھی۔ سابقین اولین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شمار ہوتے ہیں۔ مکہ میں انہیں طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں مگر ان کے پایہ ثبات میں ذرہ بھر لرزش نہ آئی۔ دونوں ہجرتیں، یعنی ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کیں۔ غزوہ بدر سمیت سارے معرکوں میں شمولیت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا: ”افسوس، اے عمار! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔“ 36 ہجری میں معرکہ صفین میں یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرف داروں میں سے تھے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکریوں میں سے ایک باغی اور سرکش گروہ نے ان کو قتل کر دیا۔ اس وقت ان کی عمر 73 برس تھی۔