حدیث نمبر: 681
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ ، وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ ، لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ " ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ ، حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ ، قَالَ : فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ ، حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ ، مَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ ، حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ ، مَالَ مَيْلَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْمَيْلَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ حَتَّى كَادَ يَنْجَفِلُ ، فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ : مَتَى كَانَ هَذَا مَسِيرَكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : مَا زَالَ هَذَا مَسِيرِي مُنْذُ اللَّيْلَةِ ، قَالَ : حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَرَانَا نَخْفَى عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ ؟ قُلْتُ : هَذَا رَاكِبٌ ، ثُمَّ قُلْتُ : هَذَا رَاكِبٌ آخَرُ ، حَتَّى اجْتَمَعْنَا ، فَكُنَّا سَبْعَةَ رَكْبٍ ، قَالَ : فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ : احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ ، قَالَ : فَقُمْنَا فَزِعِينَ ، ثُمَّ قَالَ : ارْكَبُوا ، فَرَكِبْنَا ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ، ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ ، كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِّنْ مَاءٍ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ ، قَالَ : وَبَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ مِّنْ مَاءٍ ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي قَتَادَةَ : احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ ، فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ ، فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَكِبْنَا مَعَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتِنَا ؟ ثُمَّ قَالَ : أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، " إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ ، حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ الأُخْرَى ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ ، فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : مَا تَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَعْدَكُمْ لَمْ يَكُنْ لِيُخَلِّفَكُمْ ، وَقَالَ النَّاسُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ، فَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا ، قَالَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ ، وَحَمِيَ كُلُّ شَيْءٍ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا ، عَطِشْنَا ، فَقَالَ : لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ قَالَ : أَطْلِقُوا لِي غُمَرِي ، قَالَ : وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ ، وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ ، فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسِنُوا الْمَلَأَ ، كُلُّكُمْ سَيَرْوَى ، قَالَ : فَفَعَلُوا ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ ، حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي ، وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ صَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : اشْرَبْ ، فَقُلْتُ : لَا أَشْرَبُ حَتَّى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا ، قَالَ : فَشَرِبْتُ ، وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ : إِنِّي لَأُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ ، إِذْ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى ، كَيْفَ تُحَدِّثُ ، فَإِنِّي أَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : حَدِّثْ ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ .

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: تم آج زوال سے لے کر رات تک چلو گے اور کل صبح ان شاء اللہ پانی پر پہنچو گے تو لوگ چل پڑے کوئی کسی دوسرے کی طرف متوجہ نہیں ہو رہا تھا۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ چلتے رہے۔ میں بھی ساتھ تھا حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آ گئی اور اپنی سواری پر ایک طرف جھکے، میں نے آگے بڑھ کر آپﷺ کو جگائے بغیر سہارا دیا حتیٰ کہ آپﷺ اپنی سواری پر سیدھے ہو گئے۔ پھر آپﷺ چلتے رہے حتیٰ کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا تو آپﷺ اپنی سواری پر ایک طرف جھک گئے۔ پھر میں نے آپﷺ کو جگائے بغیر سہارا دیا۔ حتیٰ کہ آپﷺ سواری پر سیدھے بیٹھ گئے پھر چلتے رہے یہاں تک کہ رات کا آخری حصہ آ پہنچا تو آپﷺ پہلی دوبار سے زیادہ جھک گئے۔ قریب تھا کہ آپﷺ گر جائیں تو میں نے آپﷺ کے پاس آ کر آپ کو سہارا دیا۔ آپﷺ نے سر اٹھا کر پوچھا: ”یہ کون ہے؟‘‘ میں نے کہا میں ابو قتادہ ہوں، آپﷺ نے پوچھا تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا۔ رات بھر سے آپﷺ کے ساتھ اس طرح چل رہا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ تیری حفاظت فرمائے، کیونکہ تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے خیال میں ہم لوگوں سے اوجھل ہو سکتے ہیں؟‘‘ پھر فرمایا: ”کیا تمہیں کوئی نظر آ رہا ہے؟‘‘ میں نے کہا یہ ایک سوار ہے۔ پھر میں نے کہا: یہ دوسرا سوار ہے، حتیٰ کہ سات سوار جمع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ راستہ سے ایک طرف ہٹ گئے اور اپنا سر زمین پر رکھ لیا۔ یعنی سونے لگے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: تم لوگ ہماری نماز کی حفاظت کرنا۔ پھر سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے جبکہ سورج آپﷺ کی پشت پر آ چکا تھا اور ہم بھی گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ‘‘ تو ہم سوار ہو کر چل پڑے۔ حتیٰ کہ سورج بلند ہو گیا تو آپﷺ سواری سے اترے۔ پھر آپﷺ نے وضوء کا برتن طلب کیا جو میرے پاس تھا، اس میں تھوڑا سا پانی تھا تو آپﷺ نے اس سے تخفیف کے ساتھ وضوء کیا یعنی کم مرتبہ اعضاء دھوئے کہ کم پانی استعمال کیا اور برتن میں تھوڑا سا پانی بچ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے ابو قتادہ سے فرمایا: ”ہمارے لیے اپنے برتن کو محفوظ رکھنا، جلد یہ کہ ایک بڑی خیر کا سبب ہو گا۔‘‘ پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان کہی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر صبح کی نماز پڑھائی، اس کو اسی طرح پڑھایا جس طرح روزانہ پڑھاتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہو گئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سوار ہو گئے اور ہم ایک دوسرے سے سرگوشی کرنے لگے کہ نماز کے بارے میں جو ہم نے کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے لیے نمونہ نہیں ہوں؟‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”ہاں سو جانے کی صورت میں کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی تو اس صورت میں ہے کہ انسان نماز نہ پڑھے (حالانکہ پڑھ سکتا ہے) یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت ہو جائے۔ جس کو یہ صورت (کہ سویا رہے) پیش آ جائے تو وہ بیدار ہونے پر نماز پڑھ لے اور اگلے دن نماز اپنے وقت پر پڑھے (عمداً مؤخر نہ کرے) پھر آپﷺ نے پوچھا: ”تمہارے خیال میں لوگوں نے کیا کیا؟‘‘ پھر فرمایا: لوگوں نے صبح کے وقت اپنے نبی کو اپنے اندر نہیں پایا تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا رسول اللہ ﷺ تمہارے پیچھے ہیں وہ تمہیں اپنے پیچھے نہیں چھوڑ سکتے اور دوسرے لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ تمہارے آگے ہیں۔ پس اگر لوگ ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اطاعت کریں گے تو ہدایت پائیں گے (یعنی ان کی بات مان لیں گے تو میرے انتظار میں رکے رہیں گے کیونکہ میں تو پیچھے ہوں) پھر ہم لوگوں کے پاس اس وقت پہنچے جب دن کافی چڑھ آیا اور ہر چیز گم ہو گئی اور لوگ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم پیاسے مرگئے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”تم ہلاک نہیں ہوگے‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”میرا چھوٹا پیالہ لاؤ‘‘ اور آپﷺ نے وضو کا برتن منگوایا۔ رسول اللہ ﷺ پانی ڈالنے لگے اور ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پلا رہے تھے جوں ہی لوگوں نے برتن میں معمولی سا پانی دیکھا تو اس پر ٹوٹ پڑے (ہر ایک کی خواہش تھی کہ میں پانی سے محروم نہ رہوں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق اختیار کرو، سب سیراب ہو جاؤ گے‘‘ تو لوگوں نے آپ ﷺ کی بات پر عمل کیا۔ رسول اللہ ﷺ پانی انڈیلنے لگے اور میں انہیں پلانے لگا۔ حتیٰ کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی ڈالا اور مجھے فرمایا: ”پیو‘‘ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! جب تک آپﷺ نہیں پی لیں گے میں نہیں پیوں گا۔ آپﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو پانی پلانے والا آخر میں پیتا ہے‘‘ تو میں نے پی لیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی پی لیا۔ پھر سب لوگ سیراب ہو کر آرام کے ساتھ پانی تک پہنچ گئے۔ ثابت کہتے ہیں، عبداللہ بن رباح نے بتایا میں جامع مسجد میں یہ حدیث بیان کررہا تھا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے نوجوان! سوچ لو، کیسے بیان کر رہے ہو کیونکہ اس رات کے سواروں میں سے ایک میں بھی ہوں تو میں نے کہا تو آپ ﷺ واقعہ بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: تم کس خاندان سے ہو؟ میں نے کہا: انصار سے ہوں۔ انہوں نے کہا۔ بیان کرو تم اپنے واقعات کو بہتر جانتے ہو تو میں نے لوگوں کو پورا واقعہ سنایا۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں بھی اس رات موجود تھا اور میں نہیں سمجھتا کسی نے اس واقعہ کو اس طرح یاد رکھا ہے جیسا تو نے یاد رکھا ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 681
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: تم آج زوال سے لے کر رات تک چلو گے اور کل صبح ان شاء اللہ پانی پر پہنچو گے تو لوگ چل پڑے کوئی کسی دوسرے کی طرف متوجہ نہیں ہو رہا تھا۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ چلتے رہے۔ میں بھی ساتھ تھا حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آ گئی اور اپنی سواری پر ایک طرف جھکے، میں نے آگے بڑھ کر آپﷺ کو جگائے بغیر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1562]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
لَايَلْوْي أَحَدُ عَلٰي أَحَدٍ: کوئی ایک دوسرے کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتا تھا، سب سیدھے رخ چل رہےتھے۔
(2)
أَبْهَارُ الليل: تھوڑا اللیل۔
رات آدھی گزر گئی۔
(3)
نَعِسَ: آپ کو اونگھ آ گئی۔
(4)
دَعَمْتُه: میں نے آپﷺ کو سہارا دیا، تاکہ آپ سیدھے ہو جائیں۔
(5)
تَهَوَّرَالليل: رات کا اکثر حصہ گزرگیا۔
(6)
تَهَوَّرَ البِنَاء: سے مأخوذ ہے، عمارت گرنے لگی۔
(7)
يَنْجَفِل: گرنے لگی۔
بِمَا حَفِظْت میں با سببيہ ہے اور ما مصدریہ ہے۔
یعنی بسبب (8)
حفظكَ: تیرے حفاظت کرنے کے سبب، تیری حفاظت کی بنا پر۔
(9)
رَكْبٍ: راكب کی جمع ہے۔
سوار، مِيْضَأَةٍ: لوٹا، وضو کرنے کا برتن۔
(10)
وضو، دون وضوء: عام وضو سے ہلکا۔
عام وضوء سے کم پانی استعمال کیا۔
(11)
يَهْمِسُ إِلٰي بَعْضٍ: ایک دوسرے سے آہستگی کے ساتھ گفتگو کرنا۔
(12)
أُسْوَة: نمونہ ماڈل۔
(13)
لَيْسَ فِي النَّومِ تَفْرِيْط: سوئے سوئے غیر اختیاری طور پر نماز فوت ہو جائے تو یہ تقصیر اور کوتاہی نہیں ہے۔
(14)
مَاتَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا: ثُمَّ قَالَ: مقصد یہ ہے کہ جب آپﷺ نے سورج نکلنے کے بعد، ان پیچھے رہ جانے والے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھا دی تو ان سے پوچھا تمہارے خیال میں دوسرے ساتھیوں کا ہمارے بارے میں کیا خیال ہے کہ ہم کہاں ہیں؟ فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے سلسلے میں تمام ساتھیوں کو اعتماد میں لیا اور ان کو صورت حال سے پوری طرح آگاہ فرمایا تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار ہو جائیں اور اس سفر میں بہت سے معجزات ظہور پذیر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ پیش آنے والے واقعات سے بھی آگاہ فرمایا لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپﷺ کو ایسی قوت حاصل تھی جس چیز سے آپﷺ غیب کو جان لیتے تھے۔
رسول اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور حفاظت میں ہوتا ہے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت ومصلحت کے تحت جس سے آگاہ کرنا چاہتا ہے آگاہ فرما دیتا ہے اور جس کو مخفی رکھنا چاہتا ہے۔
اپنی حکمت کے تحت پوشیدہ رکھتا ہے۔
آپﷺ کو صبح کے وقت سے آگاہ نہیں فرمایا۔
آپﷺ نے نماز کے اہتمام کی خاطر ڈیوٹی مقرر کی تھی۔
محافظ بھی سو گئے لیکن آپﷺ نے اس واقعہ سے آگاہ نہیں فرمایا کہ یہ واقعہ بھی پیش آئے گا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اونگھ اور ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بار بار سہارا دینے کا پتہ چلا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند کی مجبوری کے تحت ساتھیوں سے الگ ہو کر لیٹ گئے اور ساتھیوں کو نماز کے بارے میں تاکید فرمائی۔
لیکن سب نیند کے ہاتھوں مجبور ہو کر سو گئے۔
سورج کے کافی بلند ہونے کےبعد آپﷺ بیدار ہوئے۔
لیکن آپﷺ نے ساتھیوں کو سرزنش اور توبیخ نہیں فرمائی۔
بلکہ ساتھی جب اس سلسلہ میں پریشان ہوئے کہ اس کوتاہی کا کفارہ کیا ہو گا تو ان کو حوصلہ دیا۔

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کے ساتھ رہے۔
آپﷺ کی حفاظت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خدمت کا اعتراف فرمایا اور اس کو دعائے خیر دی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوت شدہ نماز کو پورے اہتمام کے ساتھ باجماعت ادا فرمایا اور غفلت والی جگہ کو چھوڑ کر نماز ادا کی اورساتھیوں کو بتا دیا۔
اگر غیر شعوری اور غیر ارادی طور پر سونے کی وجہ سے نماز کاوقت نکل جائے تو انسان معذور تصور ہو گا گناہ گار نہیں ہو گا۔
ہاں اس کو نیند سے بیدار ہونے کے بعد نماز پڑھ لینی چاہیے اور آئندہ نماز اپنے وقت پر پڑھے تاخیر کو عادت نہ بنا لے۔
یہ مقصد نہیں کہ اگلے دن دوبارہ وقت پر اس نماز کا اعادہ کرے جان بوجھ کر نماز میں تاخیر کرنا درست نہیں ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کے برتن سے تخفیف کے ساتھ وضوء کیا اوراس میں کچھ پانی رہنے دیا اور ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتا دیا کہ اس برتن کی حفاظت کرنا۔
یہ ایک عجیب خبر کا باعث بنے گا اور ایسے ہی ہوا کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پیاس سے ہلاکت کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا حوصلہ کرو۔
کسی قسم کی ہلاکت سے دوچار نہیں ہو گے۔
اس معمولی پانی میں اتنی برکت ہوئی کہ سب ساتھی اس سے سیراب ہو گئے اور جب سینکڑوں ساتھی معمولی پانی دیکھ کر ایک دوسرے سے پہلے پانی لینے کی کوشش کرنے لگے تو آپﷺ نے فرمایا آرام وسکون سے پانی لو۔
تم سب سیراب اور آسودہ ہو جاؤ گے اور ایسا ہی ہوا کہ سکون واطمینان سے اپنی اپنی باری پر پانی لے کر تمام لوگ سیراب ہو گئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ کر نماز پڑھی تو نماز پڑھنے کے بعد دوسرے ساتھیوں میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ فرمایا اور یہ بھی بتا دیا ابوبکر اورعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین نے صحیح بات کی ہے اگر لوگ ان کی بات مان کر ہمارا انتظار کریں گے تو یہی فیصلہ صحیح ہو گا اور ہم ان تک پہنچ جائیں گے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ لوگوں کو پانی پلا رہے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے آخر میں پانی نوش فرمایا اور اس بات کی عملی تعلیم دی کہ: (ساقي القوم آخرهم شربًا)
پانی پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس سفر کا واقعہ بیان کیا ہے۔
اگرچہ اس میں بھی عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے لیکن جو واقعہ انہوں نے خود بیان کیا ہے وہ اس سے الگ واقعہ ہے۔
لیکن یہ ممکن ہے دونوں واقعات ایک ہی سفرمیں پیش آئے ہوں۔
ایک واقعہ میں آپﷺ کے ساتھ صرف سات ساتھی تھے اور دوسرے واقعہ میں سب ساتھی ساتھ تھے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تم زوال کے بعد سے لے کر رات بھر چلنے کے بعد پانی پر پہنچو گے ایسے ہی ہوا جب لوگ پانی میں برکت کے بعد سیراب ہو کر آسودہ حالت میں چل پڑے تو پانی پر پہنچ گئے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں جتنی پیشن گوئیاں فرمائی تھیں پوری ہو گئیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 681 سے ماخوذ ہے۔