صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلاَةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ: باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو نمازوں میں بلند آواز سے قنوت پڑھنا اور اللہ کے ساتھ پناہ مانگنا مستحب ہے اور اس کا محل و مقام آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور صبح کی نماز میں قنوت پر دوام مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، مِنَ الْقِرَاءَةِ ، وَيُكَبِّرُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ : اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ ، وَرِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، ثُمَّ بَلَغَنَا ، أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " .یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور (رکوع میں جانے کے لیے) تکبیر کہتے تو سر اٹھانے کے بعد «سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد» (اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی، اے ہمارے رب! اور حمد تیرے ہی لیے ہے) کہتے، پھر حالت قیام ہی میں آپ فرماتے: ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنوں میں سے ان لوگوں کو جنہیں (کافروں نے) کمزور پایا، نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنے روندنے کو سخت کر، ان پر اپنے اس مؤاخذے کو یوسف رضی اللہ عنہ کے زمانے کے قحط کی طرح کر دے۔ اے اللہ! الحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، لعنت نازل کر۔“ پھر ہم تک یہ بات پہنچی کہ اس کے بعد جب آپ پر یہ آیت اتری: «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ» (آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں، (اللہ تعالیٰ) چاہے ان کو توبہ کا موقع عطا کرے، چاہے ان کو عذاب دے کہ وہ یقیناً ظلم کرنے والے ہیں) تو آپ نے یہ دعا چھوڑ دی۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ ، إِلَى قَوْلِهِ : وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .امام مسلم یہی روایت دوسری سند سے بیان کرتے ہیں لیکن اس میں الھم العن لحیان و رعلا سے آخر تک کا حصہ بیان نہیں کرتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا ، إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ : اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ ، فَقُلْتُ : أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ ، قَالَ : فَقِيلَ : وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا .ہمیں اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت (عاجزی سے دعا) کی، جب آپ «سمع اللہ لمن حمدہ» کہہ لیتے (تو) اپنی قنوت میں یہ (الفاظ) کہتے: ”اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! کمزور سمجھے جانے والے (دوسرے) مومنوں کو نجات عطا کر، اے اللہ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر، یوسف علیہ السلام کے (زمانے کے) قحط کے مانند کر دے۔“ مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی، میں نے (ساتھیوں سے) کہا: میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا چھوڑ دی ہے۔ کہا: (جواب میں) مجھ سے کہا گیا، تم انہیں دیکھتے نہیں، (جن کے لیے دعا ہوئی تھی) وہ سب آچکے ہیں۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ، إِذْ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ : اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ ، إِلَى قَوْلِهِ : كَسِنِي يُوسُفَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ (ایک روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے فرمایا: «سمع اللہ لمن حمدہ» تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے (دعا مانگتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما۔“ کے الفاظ تک اوزاعی کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی، بعد کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ (اوزاعی کے بجائے) شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ:۔
(لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ)
سےثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل یا مختار مطلق نہیں ہیں علامہ سعیدی نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے لیکن جواب کی بجائے غیر شعوری طور پر اس بات کو تسلیم کر لیا ہے علامہ آلوسی حنفی کی عبارت نقل کر کے ترجمہ لکھتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو توبہ کے لیے مجبور کرنے پر قادر نہیں نہ توبہ سے روکنے پر عذاب دینے پر قادر ہیں نہ معاف کرنے پر یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔
علامہ اسماعیل حقی کی عبارت نقل کر کے ترجمہ لکھتے ہیں۔
آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار کے معاملات کا اللہ تعالیٰ علی الاطلاق مالک ہے خواہ انہیں ہلاک کردے یا سزادے اسلام لانے پر ان کی توبہ قبول کرے یا اسلام نہ لانے پر ان کو عذاب اخروی دے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کے مالک نہیں ہیں(شرح صحیح مسلم2/329)
1۔
جن دنوں حضرت یوسف ؑ جیل میں قید تھے عزیز مصر کو ایک خواب آیا جسے حضرت یوسف ؑ کے سامنے ان الفاظ میں بیان کیا گیا: ’’اے راست باز ساتھی جناب حضرت یوسف ؑ! ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے۔
سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی گائیں کھائے جا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات دوسری خشک ہیں۔
حضرت یوسف ؑ نے فرمایا: "تم سات سال لگاتار کھیتی باڑی کروگے جو کھیتی تم کاٹو۔
اس میں سے کھانے کے لیے تھوڑا بہت اناج چھوڑ کر باقی کو بالیوں ہی میں رہنے دو۔
پھر اس کے بعد سات سال بہت سخت آئیں گے اور جو اناج تم نے ان سالوں کے لیے پہلے سے جمع کیا ہو گا وہ سب کھا لیا جائے گا سوائے اس تھوڑے سے اناج کے جو تم بچا لو گے۔
پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ اس میں رس نچوڑیں گے۔
‘‘ (یوسف: 12۔
47۔
49)
سیدنا یوسف ؑ نے قحط سالی اور اس سے محفوظ رہنے کی تدبیر بھی انھیں بتادی۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی قبیلہ مضر پر اسی طرح کے قحط اور خشک سالی کی بددعا کی جو قبول ہوئی۔
2۔
اس حدیث میں حضرت یوسف ؑ کی سیرت کا ایک پہلو بیان ہوا ہے امام بخاری ؒ نے اسی لیے یہاں اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
ان کو زورزبردستی سے ان کے کفر کے کاموں میں شریک رہتے ہوں گے لیکن آپ نے دعا میں ان کو مومن فرمایا کہ اکراہ کی حالت میں مجبوری عنداللہ قبول ہے۔
1۔
ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ اہل مشرق جو مضر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ان دنوں مسلمان نہ تھے بلکہ اسلام اور اہل اسلام کے مخالف تھے۔
(صحیح البخاري، الأذان حدیث 804)
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ دباؤ کی وجہ سے کفر اختیار کرنا حقیقی کفر نہیں اگرایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان بے بس اور مجبور لوگوں کے لیے دعا نہ فرماتے اور انھیں مومن قرارنہ دیتے،نیز اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جس پر جبر کیا جائے وہ کمزور ہی ہوتا ہے۔
3۔
واضح رہے کہ کمزور مسلمان ان دنوں مکہ مکرمہ میں کافروں کے ہاتھوں میں گرفتار تھے اور ان کے جبر کرنے سے وہ کفر کے کاموں میں بھی شریک رہتے ہوں گے لیکن اکراہ کی وجہ سے انھوں نے اسے اختیار کیا اور ایسی حالت میں مجبوری اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 394/12)
مضر قبیلہ کے لیے بد دعا اس واسطے کی کہ انہوں نے مسلمانوں کو خاص طور پر سخت نقصان پہنچایا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو کافر مسلمانوں کو ستائیں ان پر قحط اور بیماری کی بد دعا کرنا درست ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے چار ہجری میں ان کمزور اور بے بس مسلمانوں کی رہائی کے لیے دعا فرمائی جو مکہ مکرمہ میں کفار قریش کے ظلم وستم کا شکار تھے اور انھیں ہجرت سے بھی روک دیا گیا تھا۔
ان میں حضرت عیاش بن ابوربیعہ ؓ ابوجہل کے مادری بھائی جبکہ سلمان بن ہشام ؓ اس کے حقیقی بھائی تھے اور ولید بن ولید ؓ حضرت خالد بن ولید ؓ کے بھائی تھے۔
2۔
پہلے رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام لے کر رہائی اور خلاصی کے لیے دعا کی، پھرتمام کمزور مسلمانوں کے لیے دعا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی دعا کی برکت سے انھیں نجات دی اور ہجرت سے بھی مشرف فرمایا۔
3۔
قبیلہ مضر کے لوگ ان دنوں کافر تھے اور مسلمانوں کو سخت تکلیف دیتے تھے، اس لیے آپ نے ان کے خلاف بد دعا فرمائی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں قحط میں مبتلا کردیا۔
بعد میں یہ لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو کافر مسلمانوں کو تنگ کریں اور انھیں ستائیں تو ان پر قحط سالی اور بیماری کی بد دعا کرنا جائز ہے۔
واللہ اعلم۔
(1)
مذکورہ حدیث دو حصوں پر مشتمل ہے جس حصے میں کفار کے خلاف بددعا کرنے کا ذکر ہے۔
یہ حصہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔
اور قبیلۂ غفار اور قبیلۂ اسلم کے متعلق حصہ ہجرت کے بعد کا ہے۔
ان دونوں واقعات کو یکجا کر کے بیان کر دیا گیا ہے۔
شاید امام بخاری ؒ نے اسی طرح اپنے شیوخ سے سنا ہو۔
امام بخاری ؒ کا آخری حصے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صرف ان مشرکین کے لیے بددعا کرنی چاہیے جن سے صلح کا معاہدہ نہ ہو۔
ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ قبیلۂ غفار تو مسلمان ہو چکا تھا اور قبیلۂ اسلم نے آپ کے ساتھ صلح کر لی تھی۔
ایک روایت میں قبیلۂ عصیہ کا ذکر ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو کتاب الاستسقاء میں "استدلال بالأضداد" کی غرض سے بیان کیا ہے کہ جب بددعا کرنا جائز ہے جو شانِ رحمت کے خلاف ہے تو دعا کرنا تو بالاولیٰ جائز ہونا چاہیے۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے مقصود تنبیہ کرنا ہے کہ جب اہل ایمان کے لیے بارانِ رحمت کی دعا کرنا مشروع ہے تو اہل کفروشرک کے لیے قحط سالی کی بددعا کرنا بھی جائز ہے، تاکہ ان کے دلوں میں کچھ نرمی پیدا ہو جائے۔
(فتح الباري: 636/2)
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر بد دعا کرنے سے آپ ﷺ کو منع فرمایا تھا، بڑوں کے اشارے بھی بڑی گہرائیاں رکھتے ہیں۔
1۔
ولید بن ولید، حضرت خالد بن ولید ؓ کے بھائی ہیں، جنگ بدر میں مشرکین کے ساتھ قیدی بن کر مسلمانوں کے پاس آئے۔
فدیہ دے کر رہائی پائی، پھر اسلام قبول کیا اس کی پاداش میں انھیں مکہ میں محبوس کردیا گیا، پھرانھوں نے سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کے ساتھ وہاں سے بھاگ نکلنے کا پروگرام بنایا، چنانچہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔
2۔
ولید بن ولید رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہی وفات پاگئے تھے۔
سلمہ بن ہشام ابوجہل کے بھائی اور ولید کے چچا کے بیٹے ہیں۔
عیاش بن ابی ربیعہ بھی ولید کے چچازاد ہیں۔
بہرحال اس آیت کی شان نزول کے متعلق مختلف واقعات کتب احادیث میں مروی ہیں، ممکن ہے کہ ان تمام واقعات کے پیش آنے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی ہو کیونکہ ایک آیت کے نازل ہونے کا سبب مختلف واقعات ہوسکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی بددعا کہ اے اللہ! ان پر اپنی پکڑ سخت کردے اور انھیں ایسے قحط میں مبتلا کردے جو حضرت یوسف ؑکے وقت پڑا تھا۔
یہ الفاظ اس قدر جامع ہیں جو کفار کے شکست کھانے اور ان کے پاؤں پھسلنے کو شامل ہیں۔
مقصد یہ ہے کہ دوران جنگ میں بھی اس قسم کی بددعا کی جا سکتی ہے۔
(1)
اس طریقۂ نماز کو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ قرار دیا ہے بلکہ قبل ازیں ایک حدیث میں بعینہٖ اس کیفیت کو رسول اللہ ﷺ کی طرف صراحت کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے کہ خود آپ نے اس انداز سے نماز ادا کی۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 789)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: يهوي بالتكبير حين مسجد جبکہ روایت کے الفاظ اس کے برعکس ہیں، یعنی يكبر حين يهوي ساجدا، چونکہ یہاں سے سجدے کا بیان شروع ہوتا ہے اور امام بخاری ؒ نے اللہ أکبر کہنے اور سجدے کے لیے جھکنے کو لازم ملزوم قرار دیا ہے، یعنی اللہ أکبر کو سجدے کے لیے جھکتے ہی شروع کر دیا جائے، پھر اسے پوری حرکت انتقال پر پھیلا دیا جائے جیسا کہ فقہاء نے کہا ہے: اللہ أکبر جھکنے کے ساتھ اور جھکنا اللہ أکبر کے ساتھ ہو، چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں کہ اللہ أکبر جھکنے کے ساتھ ساتھ ہو۔
اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اکمال و تکمیل کے پیش نظر دوسری حدیث ذکر کی ہے۔
باب کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قنوت کا محل رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے، نیز نماز میں کسی کا نام لے کر دعا یا بددعا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی جیسا کہ بعض فقہاء نے یہ موقف اختیار کیا ہے۔
(فتح الباري: 377/2)
اس حدیث سے متعلقہ دیگر مباحث ہم آئندہ حدیث: (4560)
میں بیان کریں گے۔
إن شاءاللہ۔
کفار نے ان کو ہجرت سے روک کر مقید کر دیا تھا۔
ولید بن ولید حضرت خالد بن ولید کے بھائی ہیں۔
سلمہ بن ہشام ابو جہل کے بھائی ہیں جو قدیم الاسلام ہیں اور عیاش بن ابی ربیعہ ماں کی طرف سے ابو جہل کے بھائی ہیں۔
مضر قبیلہ قریش سے ایک قبیلہ تھا جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا فرمائی تھی۔
اس حدیث سے ولید نام رکھنا جائز ثابت ہوا۔
باب سے یہی مطابقت ہے۔
(1)
کتب حدیث میں مروی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید نام کو پسند نہیں کیا بلکہ اسے تبدیل کیا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاں ایسی تمام روایات معیار صحت پر پوری نہیں اترتیں بلکہ انہوں نے اس نام کا جواز ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ولید بن ولید رضی اللہ عنہ کے لیے نماز میں دعا کرتے تھے، پھر جب ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام تبدیل نہیں کیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولید نام رکھنے میں کوئی خرابی اور حرج نہیں۔
(2)
بہرحال ولید نام رکھا جا سکتا ہے اور اس کی ممانعت سے متعلق جتنی روایات ہیں وہ صحیح نہیں بلکہ سخت ضعیف ہیں۔
(فتح الباري: 711/10، 712)
مشرکین مکہ آخر میں مسلمان ہوئے اور بہت سے تباہ ہو گئے۔
(1)
وَطْأَتَكَ: وَطْأً پامالی کرنا، روندنا، مقصد یہ ہے ان کا مؤاخذہ فرما۔
(2)
سِنِين: سنة کی جمع ہے یہ لفظ قحط سالی کے لیے استعمال ہوتا ہے، مقصد یہ ہے کہ ان کو قحط سالی سے دوچار فرما۔
(3)
قَدِمُوا: وہ آ چکے ہیں، بعض حضرات نے اس کا ترجمہ مَاتُوا کیا ہے، جو درست نہیں ہے کیونکہ سلمہ بن ہشام 14 ہجری میں فوت ہوئے ہیں اور عیاش بن ابی ربیعہ 15 ہجری میں، صرف ولید بن ولید آپﷺ کی خدمت میں پہنچتے ہی وفات پا گئے تھے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسلمان قیدیوں کی خلاصی اور نجات کے لیے نماز میں دعا کی جا سکتی ہے۔
ولید بن ولید، خالد بن ولید کے بھائی ہیں۔
سلمہ بن ہشام ابوجہل کا بھائی ہے اور عیاش بن ابی ربیعہ بھی ابوجہل کا ماں کی طرف سے بھائی ہے۔
یہ تینوں مشرکین مکہ کی قید میں تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں مشرکوں کی قید سے چھوٹ کر بھاگ آئے اور ان کی آمد کے بعد آپﷺ نے دعا چھوڑ دی اس لیے دعا چھوڑنے سے اس کا منسوخ ہونا کیسے ثابت ہوا یہ تو مقصد پورا ہونے کی بنا پر ترک کر دی گئی تھی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے دعا کی: ” اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور لوگوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان کے اوپر یوسف علیہ السلام (کی قوم) جیسا سا قحط مسلط کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1074]
➋ یوسف علیہ السلام کے قحط سے تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ کئی سال جاری رہا اور ایسا ہی ہوا، ان کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول ہوئی، ان پر قحط سالی آئی اور مضر والے کئی برس تک قحط کی بلا میں گرفتار رہے یہاں تک کہ وہ ہڈیاں، چمڑے اور مردار تک کھانے لگے۔ پھر جب قریش اس قحط سے عاجز آگئے تو ان کا نمائندہ اور سردار ابوسفیان مدینہ منورہ حاضر ہوا اور قحط کے خاتمے کے لیے دعا کی اپیل کی تو نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مشروط طور پر قحط کے خاتمے کی دعا فرما دی اور قحط دور ہو گیا۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، الاستسقاء، حدیث: 1007]
➌ صبح کی نماز میں قنوت نازلہ جائز ہے۔
➍ قنوت نازلہ رکوع کے بعد ہو گی۔
➎ کسی کا نام لے کے دعا یا بددعا کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی جیسا کہ احناف کا موقف ہے۔
➏ قنوت نازلہ بلند آواز سے کرنا مستحب ہے۔ صحیح بخاری میں صراحت ہے کہ آپ بلند آواز سے قنوت کراتے تھے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4560] نیز سنن أبي داود کی روایت میں ہے: «يُؤَمِّنُ مَن خَلفَه» ”آپ کے پیچھے والے آمین کہتے تھے۔“ [سنن أبي داود، الوتر، حدیث: 1443]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف» ” اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور حال مسلمانوں کو نجات دیدے، اے اللہ! تو اپنی پکڑ قبیلہ مضر پر سخت کر دے، اور یوسف علیہ السلام کے عہد کے قحط کے سالوں کی طرح ان پر بھی قحط مسلط کر دے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1244]
فوائد و مسائل:
(1)
قنوت نازلہ آخری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
(2)
اس میں امام بلند آواز سے مناسب دعایئں کرتا ہے۔
(3)
قنوت نازلہ میں مظلوم مسلمانوں کا نام لے کر ان کے حق میں اور کافروں کا نام لے کر ان کے خلاف دعا کی جا سکتی ہے۔
دیکھئے: (صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْئٌ﴾ حدیث: 4560 وصحیح المسلم، المساجد، باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات۔
۔
۔
، حدیث: 675)