صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ: باب: مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ ، أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا بَنِي سَلِمَةَ ، " دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ " .حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، مسجد کے گرد کچھ جگہیں خالی ہوئیں تو بنو سلمہ کے لوگوں نے چاہا مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں، رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کا پتہ چل گیا تو آپﷺ نے انہیں فرمایا: ”مجھے اطلاع ملی ہے تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا، جی ہاں! اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے اس کا ارادہ کیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا: اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے نقش قدم لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔‘‘
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ ، أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلِمَةَ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ " ، فَقَالُوا : مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا .کہمس نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، کہا: اور (مسجد کے قریب) جگہیں (بھی) خالی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: (اس کے بعد) ہمیں یہ بات اچھی (بھی) نہ لگتی کہ ہم منتقل ہو چکے ہوتے۔