حدیث نمبر: 655
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ : " كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي ، فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ ، حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَمَّا هَذَا ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

ابو شعثاء بتاتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دے دی تو ایک آدمی مسجد سے اٹھ کر چلنے لگا، حضرت ابو ہریرہ ؓ نے اس پر اپنی نظریں جما دیں حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکل گیا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس آدمی نے ابوالقاسمﷺ کی نافرمانی کی ہے۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " وَرَأَى رَجُلًا ، يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ ، خَارِجًا بَعْدَ الأَذَانِ ، فَقَالَ : " أَمَّا هَذَا ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

اشعث بن ابی شعثاء: اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا جبکہ انہوں نے ایک آدمی کو مسجد سے باہر نکلتے دیکھا تو انہوں نے یہ کہا۔ رہا یہ تو اس نے ابوالقاسمﷺ کی نافرمانی کی ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 655
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابو شعثاء بتاتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دے دی تو ایک آدمی مسجد سے اٹھ کر چلنے لگا، حضرت ابو ہریرہ ؓ نے اس پر اپنی نظریں جما دیں حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکل گیا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس آدمی نے ابوالقاسمﷺ کی نافرمانی کی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1489]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جب انسان مسجد میں موجود ہو تو بلا کسی ضرورت اور بغیر کسی عذر کے جماعت چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے ہاں اگر کسی نے دوسری جگہ جماعت کرانی ہے یا مسجد میں پانی نہیں ہے اور پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہے یا وضو کر کے واپس آنے کی نیت ہے تو پھر وہ مسجد سے نکل سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 655 سے ماخوذ ہے۔