صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ وَخَذْلِهِ وَاحْتِقَارِهِ وَدَمِهِ وَعِرْضِهِ وَمَالِهِ: باب: مسلمان پر ظلم کرنا یا اس کو ذلیل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ ، وَلَا يَخْذُلُهُ ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا ، وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ ، حَرَامٌ دَمُهُ ، وَمَالُهُ ، وَعِرْضُهُ " .داؤد بن قیس نے ہمیں عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان (دوسرے) مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا، (پھر فرمایا): ”کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہیں۔“
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ ، وَزَادَ وَنَقَصَ ، وَمِمَّا زَادَ فِيهِ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ ، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ .امام صاحب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ایک دوسرے استاد سے کمی وبیشی کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں،اس میں اضافہ یہ ہے،"اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا،لیکن وہ تو تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے،"اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ ، وَأَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ ، وَأَعْمَالِكُمْ " .یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4143]
فوائد و مسائل:
(1)
خوبصورت یا بد صورت ہونا بندے کے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ یہ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے۔
کوشش کرنی چاہیے کہ عمل اچھے ہوں تاکہ اللہ تعالی کو راضی کیا جاسکے۔
(2)
اللہ کے ہاں مالدار اور بے زر برابر ہیں۔
مال دار کو محض دولت مند ہونے کی وجہ سے معافی نہیں مل سکتی اور نادار کو محض اس کی مفلسی کی بناء پر مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
(3)
مالدار ہونا بھی اللہ کی آزمائش ہےاور مفلس ہونا دوسری طرح کی آزمائش۔
اگر مال دار شکر کرے تو اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے۔
اسی طرح نادار آدمی صبر کرے تو اللہ کا پیارا ہےاور بے صبری کرے اور حرام کمائی کی کوشش کرے تو اللہ کے قرب سے محروم ہے۔
(4)
انسان اگر نیکی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہوتو اس کی نیت اور خواہش ضرور رکھنی چاہیے، ایسی نیت پر بھی ثواب ملتا ہے۔