صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى: باب: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنَ الصَّلَاةِ ، إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ ، أَوْ مَرِيضٌ ، إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، حَتَّى ي?أْتِيَ الصَّلَاةَ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ ، الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ " .عبدالملک بن عمیر نے ابواحوص سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: ساتھیوں سمیت میں نے خود کو دیکھا کہ نماز سے کوئی شخص پیچھے نہ رہتا، سوائے منافق کے، جس کا نفاق معلوم ہوتا یا سوائے بیمار کے اور (بسا اوقات) بیمار بھی دو آدمیوں کے سہارے سے چلتا آ جاتا یہاں تک کہ نماز میں شامل ہو جاتا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ہدایت کے طریقوں میں سے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ ، أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا ، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى ، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ ، كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، لَضَلَلْتُمْ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً ، وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا ، إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ ، يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ، حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ " .علی بن اقمر نے ابواحوص سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: جو یہ چاہے کہ کل (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ جہاں سے ان (نمازوں) کے لیے بلایا جائے، ان نمازوں کی حفاظت کرے (وہاں مساجد میں جا کر صحیح طرح سے انہیں ادا کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر فرما دیے ہیں اور یہ (مساجد میں باجماعت نمازیں) بھی انہی طریقوں میں سے ہیں۔ کیونکہ اگر تم نمازیں اپنے گھروں میں پڑھو گے، جیسے یہ جماعت سے پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کی راہ چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی راہ کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ کوئی آدمی جو پاکیزگی حاصل کرتا ہے (وضو کرتا ہے) اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے، جو وہ اٹھاتا ہے، ایک نیکی لکھتا ہے، اور اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ کم کر دیتا ہے، اور میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی (بھی) جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا (بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ) ایک آدمی کو اس طرح لایا جاتا کہ اسے دو آدمیوں کے درمیان سہارا دیا گیا ہوتا، حتی کہ صف میں لا کھڑا کیا جاتا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد زریں میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جماعت کا اہتمام کرتے تھے کوئی بھی صحیح مسلمان جماعت سے پیچھے رہنے کا تصور نہیں کرتا تھا حتی کہ بیمار ہونے کی صورت میں اگر انسان دو آدمیوں کے سہارے چل کر مسجد پہنچ سکتا تھا تو وہ اس کا بھی انتظام کرتے تھے اور بیماری کو بہانہ بنا کر شدت میں بھی جماعت سے پیچھے نہیں رہتے تھے صرف ایسے لوگ ہی پیچھے رہتے تھے جن کا نفاق معروف و مشہور تھا یا وہ ایسے بیمار ہوتے کہ دو آدمیوں کے سہارے پر چل کر بھی نہیں آ سکتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نابینا ہونے کے باوجود جماعت سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
(بقول عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جماعت کا اہتمام کرنا مسلمان کی علامت و شناخت ہے)
اور ہدایت کا راستہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لائحہ عمل ہے جماعت کو نظر انداز کرنا ہدایت اور نبی کے راستہ کو چھوڑ کر گمراہی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔
(3)
جماعت کی حاضری کی خاطر مسجد میں جانے والے کو ہر قدم کے بدلہ میں ایک نیکی ملتی ہے ایک برائی مٹتی ہے اور اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور جماعت سے پیچھے رہنے والا ان تینوں خیرات و برکات سے محروم رہتا ہے۔
(4)
جماعت سے پیچھے رہنا منافق کی علامت ہے اور ہر ایک مسلمان کو ہر حالت میں اس دھبہ سے محفوظ رہنے کی کوشش کرنی چاہیے اگر ایک نابینے آدمی کو گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے تو آنکھوں والا کس طرح گھر میں نماز پڑھ سکتا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا تو کافروں جیسا کام کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 550]
➊ جماعت سے پیچھے رہنا منافقین کی علامات سے بتایا گیا ہے اور یہ اس کے کبیرہ گناہ ہونے سے بھی بڑھ کر ہے۔
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے اعراض کا نتیجہ بالآخر کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ «أعاذنا الله منه»