صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب يَجِبُ إِتْيَانُ الْمَسْجِدِ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ: باب: جو اذان سنتا ہے اس پر مسجد میں پہنچنا لازم ہے۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ كلهم ، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ أَعْمَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ ، فَرَخَّصَ لَهُ ، فَلَمَّا وَلَّى ، دَعَاهُ ، فَقَالَ : " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَجِبْ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو (ہاتھ سے پکڑ کر) مجھے مسجد میں لے آئے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔ آپ نے اسے اجازت دے دی، جب وہ واپس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم نماز کا بلاوا (اذان) سنتے ہو؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تو اس پر لبیک کہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اگرچہ اسے نابینا آدمی کی طرح محنت و مشقت برداشت کر کے آنا پڑے اگر جماعت چھوڑنے کی رخصت مل سکتی تو نابینا انسان جس کو لانے والا بھی موجود نہ ہو اس کا سب سے زیادہ حقدار تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی اجازت نہیں دی۔