حدیث نمبر: 653
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ كلهم ، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ أَعْمَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ ، فَرَخَّصَ لَهُ ، فَلَمَّا وَلَّى ، دَعَاهُ ، فَقَالَ : " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَجِبْ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو (ہاتھ سے پکڑ کر) مجھے مسجد میں لے آئے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔ آپ نے اسے اجازت دے دی، جب وہ واپس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم نماز کا بلاوا (اذان) سنتے ہو؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تو اس پر لبیک کہو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 653
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے مسجد میں لانے والا کوئی آدمی نہیں ہے تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی۔ کہ اسے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائیں تو آپﷺ نے اس کو اجازت دے دی جب اس نے پشت پھیر لی تو آپﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ’’کیا تم نماز کے لیے بلاوا سنتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تو اسے قبول کرو،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1486]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا تقاضا اور مفاد یہی ہے، کہ اس انسان کو نماز باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے جو مسجد میں آ سکتا ہے۔
اگرچہ اسے نابینا آدمی کی طرح محنت و مشقت برداشت کر کے آنا پڑے اگر جماعت چھوڑنے کی رخصت مل سکتی تو نابینا انسان جس کو لانے والا بھی موجود نہ ہو اس کا سب سے زیادہ حقدار تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی اجازت نہیں دی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 653 سے ماخوذ ہے۔