حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ : " كَيْفَ أَنْتَ ، إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ ، فَصَلِّ ، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ : عَنْ وَقْتِهَا .

خلف بن ہشام، ابوربیع زہرانی اور ابوکامل جحدری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کر دیں گے؟“ میں نے عرض کی تو آپ مجھے (اس کے بارے میں) کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمہیں ان کے ساتھ (بھی) نماز مل جائے تو پڑھ لینا، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ خلف نے «عن وقتھا» (اس کے وقت سے) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا ، كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً ، وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ " .

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پس اگر تم نے (دوبارہ ان کے ساتھ) وقت پر نماز پڑھ لی تو تمہاری نماز نفل ہو جائے گی، وگرنہ (اگر وہ وقت پر نہ پڑھیں) تم نے اپنی نماز کو بچالیا۔‘‘

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي ، أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا ، كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ ، وَإِلَّا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً " .

شعبہ نے ابوعمران سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے خلیل نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سنوں اور فرمانبرداری کروں، چاہے کٹے ہوئے بازوں والا غلام (ہی حکمران) ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”پھر اگر تم لوگوں کو اس حالت میں پاؤ کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تم اپنی نماز بچا چکے ہو (وقت پر پہلے پڑھ چکے ہو)، اور اگر (انہوں نے نہیں پڑھی اور تم ان کے ساتھ شریک ہوئے) تو تمہاری یہ نماز نفل ہو گی۔“

وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَضَرَبَ فَخِذِي ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ؟ قَالَ : قَالَ : مَا تَأْمُرُ ؟ قَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ ، فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلِّ " .

حضرت ابو ذر رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”تمہاری کیا حالت ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت کے بعد پڑھیں گے؟ تو انہوں نے پوچھا: آپ ﷺ کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھ لو۔ پھر اپنی ضرورت کے لیے چلے جاؤ، اگر تیری مسجد میں موجودگی میں تکبیر ہو جائے تو پڑھ لو۔‘‘

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ : أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ ، فَجَاءَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ ، وَضَرَبَ فَخِذِي ، وَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، وَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، وَقَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ ، فَصَلِّ ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ ، فَلَا أُصَلِّي " .

حضرت ابو عالیہ براء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ابن زیاد نے نماز میں تأخیر کر دی اور میرے پاس عبداللہ بن صامت تشریف لائے، میں نے انہیں کرسی پیش کی وہ اس پر بیٹھ گئے، میں نے انہیں ابن زیاد کی حرکت سے آگاہ کیا تو انہوں نے اپنا ہونٹ کاٹا اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا، جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے، اس طرح میں نے ابو ذر رضی اللہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پر ہاتھ مارا ہے۔ اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپﷺ نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا: ”نماز وقت پر پڑھو، پھر اگر ان کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقعہ ملے یا ان کے پاس موجود ہوتے ہوئے نماز تمہیں پا لے تو پڑھ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اور یہ نہ کہو میں نے نماز پڑھ لی ہے۔ اس لیے میں نہیں پڑھتا۔‘‘

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ ؟ أَوَ قَالَ : كَيْفَ أَنْتَ ، " إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلِّ مَعَهُمْ ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ " .

حضرت ابو ذر رضی اللہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”تمہاری کیا حالت ہو گی‘‘ یا آپﷺ نے فرمایا: ”تیری کیا حالت ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے، جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر لیں گے، تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر نماز اگر کھڑی کر دی جائے تو ان کے ساتھ پڑھ لینا، کیونکہ اس میں نیکی میں اضافہ ہے۔‘‘

وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ : نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي ، وَقَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنْ ذَلِكَ ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، وَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً " ، قَالَ : وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ .

مطر نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، کہا: میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ تو انہوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا: میں نے اس کے بارے میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے (بھی) میری ران پر ہاتھ مارا تھا اور کہا تھا: میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”نماز اس کے وقت پر ادا کر لو، پھر ان (حکمرانوں) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو۔“ کہا: عبداللہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 648
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 779 | سنن نسائي: 860 | صحيح مسلم: 648 | سنن ترمذي: 176 | سنن ابي داود: 431 | سنن ابن ماجه: 1256 | معجم صغير للطبراني: 261

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم کیا کروگے جب تمہارے حکمران ایسے لوگ ہونگے جو نماز کو اس کے وقت (مختار) سے تاخیر کر کے پڑھیں گے یا نماز کو اس کے وقت سے نکال کر مار ڈالیں گے؟ تو میں نے عرض کیا تو آپﷺ کا میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نماز اپنے وقت پر پڑھ اور اگر دوبارہ ان کے ساتھ نماز پاؤ تو پڑھ، وہ تیرے لیے نفل ہو جائے گی۔‘‘ خلف نے عَنْ وَقْتِهَا کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1465]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
نماز اپنے وقت مختار میں سکون و اطمینان کے ساتھ خشوع وخضوع کو قائم رکھ پڑھنا نماز کو زندہ رکھنا ہے یعنی نماز کی روح اور مقصد کو ملحوظ رکھنا ہے اور نماز کو بلا وعذر مجبوری وقت کے ختم ہونے کے بعد یا وقت آخر میں پڑھنا یا اس میں بے پروائی اور نیم دلی کا مظاہرہ کرنا، جلدی جلدی بلا سکون واعتدال ٹھونگیں لگانا نماز کی روح اور اس کے مقصد کو ضائع کر کے اس کو مار ڈالنا۔
(2)
اگر کسی امام کا یہ وطیرہ اور عادت ہو کہ وہ نماز ہمیشہ وقت مختار کے بعد یا وقت کے آخر میں یا وقت نکلنے کے بعد نماز پڑھاتا ہے تو نماز انفرادی طور پر یا جماعتی جیسے ممکن ہو پڑھ لینی چاہیے اگر فتنہ و فساد کا خطرہ ہو تو دوبارہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لینی چاہیے یہ دوسری نماز نفل ہو گی اور عام طور پر امراء یہ تأخیر ظہر اور عصر کی نماز میں روا رکھتے تھے اس لیے یہ کہنا کہ عصر کی نماز دوبارہ نہیں پڑھی جا سکتی کیونکہ عصر کے بعد نفل نہیں ہیں، درست نہیں ہے کیونکہ یہ نفل اپنی خوشی سے نہیں پڑھے جا رہے ایک مجبوری اور ضرورت کے تحت پڑھے جا رہے ہیں بلا سبب عصر کے بعد نفل پڑھنا جائز نہیں۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بعد والی نماز نفل ہو گی اور پہلے پڑھی ہوئی نماز فرض ہو گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 648 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 779 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ظالم حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان۔`
ابوالعالیہ البراء کہتے ہیں کہ زیاد نے نماز میں دیر کر دی تو میرے پاس (عبداللہ ابن صامت) ابن صامت آئے میں نے ان کے لیے ایک کرسی لا کر رکھی، وہ اس پہ بیٹھے، میں نے ان سے زیاد کی کارستانیوں کا ذکر کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہونٹوں کو بھینچا ۱؎ اور میری ران پر ہاتھ مارا، اور کہا: میں نے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو انہوں نے میری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پہ مارا ہے، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پوچھا ہے، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ نے تمہاری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پہ مارا ہے، اور فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھ لیا کرو، اور اگر تم ان کے ساتھ نماز کا وقت پاؤ تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو، اور یہ نہ کہو کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، لہٰذا اب نہیں پڑھوں گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 779]
779۔ اردو حاشیہ: ➊ راویٔ حدیث «براء» ہیں (تیر ٹھیک کرنے والے) نہ کہ حضرت براء بن عازب صحابی رضی اللہ عنہ۔
➋ ہونٹ کاٹنا افسوس کی بنا پر تھا کہ امراء نماز وقت سے مؤخر کر دیتے ہیں اور ران پر ہاتھ مارنا متنبہ کرنے کے لیے تھا کہ امراء کے اس فعل کی بنا پر ان سے بغاوت جائز نہ ہو گی۔
➌ وہ (امراء) نماز کو اول اور معتاد وقت سے مؤخر کرتے تھے، تبھی وقت پر پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ وقت مختار سے مؤخر کرتے ہوں۔ وقت مختار سے تاخیر کبھی کبھار تو جائز ہے مگر ہمیشہ کے لیے عادت بنا لینا درست نہیں۔
➍ وقت پر نماز پڑھنا تو نماز کی حفاظت کے لیے ہے جب کہ بعد میں امراء کے ساتھ نماز پڑھنا فتنے سے بچنے کے لیے ہے کہ بغاوت کے جراثیم پرورش نہ پائیں۔ اگر امام مقرر کرنے کا اختار ہو تو صالح اور عالم شخص ہی کو مقرر کرنا چاہیے لیکن اگر یہ اختیار نہ ہو یا امام بالجبر مسلط ہو جائے اور اس کی مخالفت ممکن نہ ہو یا ممکن تو ہو مگر اس سے فتنے کا خدشہ ہو تو حدیث میں بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا جائے۔ مستقل طور پر گھر میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے کیونکہ جماعت سے محرومی بہت سے مفاسد کا ذریعہ بن سکتی ہے، لہٰذا بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹا اور تھوڑا نقصان قبول کر لیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 779 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 860 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز کا وقت نکل جانے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پہ ہاتھ مار کر مجھ سے فرمایا: جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے تو کیسے کرو گے؟ انہوں نے کہا: آپ جیسا حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اول وقت پر پڑھ لینا، پھر تم اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا، اور اگر جماعت کھڑی ہو چکی ہو اور تم (ابھی) مسجد ہی میں ہو تو پھر نماز پڑھ لینا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 860]
860۔ اردو حاشیہ: ➊ اس سے جماعت اور لزوم جماعت کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، خواہ لوگ افضل اور مستحب وقت کے بعد بھی جماعت کروائیں، تب بھی ان کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے۔ ہاں! اپنی نماز وقت پر محفوظ کر لے۔ گویا کسی حال میں جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں کیونکہ جماعت سے علیحدہ ہونے اور تفرد وشذوذ کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ بہت سے صحابہ نے اپنے اجتہاد پر جماعت کے عمل کو ترجیح دی ہے کیونکہ ایک میں غلطی کا امکان زیادہ ہے۔ جتنے اہل علم ہوں گے، اتنا ہی غلطی کا احتمال کم ہو جائے گا حتیٰ کہ جب اجماع (تمام معتبر اہل علم کا اتفاق جس کے خلاف کچھ منقول نہ ہو) ہو جاتا ہے تو غلطی کا احتمال بالکلیہ ختم ہو جاتا ہے۔
➋ ران پر ہاتھ مارنا تنبیہ کے لیے ہے کہ یہ بات تجھ سے متعلق ہے، اچھی طرح سمجھ لے۔ آپ نے اس قسم کے بہت سے مسائل میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو خصوصی ہدایات دیں۔ واقعتاً انہیں ایسے حالات سے سابقہ پیش آیا اور انہوں نے باوجود اختلاف کے جماعت کو نہیں چھوڑا۔ اگرچہ مفسدین اور امت مسلمہ کے بدخواہ انہیں اشتعال دلانے کی کوششیں کرتے رہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کی بنا پر وہ محفوظ رہے۔ رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 860 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 648 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل نے مجھے سننے اور ماننے کی تلقین کی، اگرچہ حکمران کٹے ہوئے اعضاء والا ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں: پھر اگر لوگوں کو پاؤں انہوں نے نماز (وقت کے بعد پڑھی ہے) تو تم اپنی نماز کو بچا لیا، وگرنہ (اگر انہوں نے وقت کے اندر پڑھ لی ہے) تو تیری یہ نماز نفلی ہو جائے گی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1467]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حکمران کیسا بھی ہو اس کی جائز بات سننی اور ماننی چاہیے اپنے ارادہ اور اختیار سے کسی اعضا بریدہ یا غلام کو حکمران نہیں بنایا جا سکتا لیکن اگر وہ زبردستی اقتدار حاصل کر لے یا خلیفہ ایسا حکمران مقرر کر دے تو اس کے جائز احکام مانیں جائیں گے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 648 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 176 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جب امام نماز دیر سے پڑھے تو اسے جلد پڑھ لینے کا بیان۔`
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میرے بعد کچھ ایسے امراء (حکام) ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے ۱؎، تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ۲؎ نماز اپنے وقت پر پڑھ لی گئی تو امامت والی نماز تمہارے لیے نفل ہو گی، ورنہ تم نے اپنی نماز محفوظ کر ہی لی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 176]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی اسے دیر کر کے پڑھیں گے۔

2؎:
یہی صحیح ہے اور باب کی حدیث اس بارے میں نص صریح ہے، اور جو لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔

3؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام جب نماز کو اس کے اوّل وقت سے دیر کر کے پڑھے تو مقتدی کے لیے مستحب ہے کہ اسے اوّل وقت میں اکیلے پڑھ لے، ابو داود کی روایت میں ((صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّهَا فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ)) ’’تم نماز وقت پر پڑھ لو پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو دوبارہ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہوگی‘‘ ظاہر حدیث عام ہے ساری نمازیں اس حکم میں داخل ہیں خواہ وہ فجر کی ہو یا عصر کی یا مغرب کی، بعضوں نے اسے ظہر اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے، وہ کہتے ہیں فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہو جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 176 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 431 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جب امام نماز کو دیر سے پڑھے تو کیا کرنا چاہئے؟`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حاکم و سردار ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے؟ یا فرمایا: نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس سلسلے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز وقت پر پڑھ لو، پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو (دوبارہ) پڑھ لیا کرو ۱؎، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 431]
431۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام فتنہ کی خبر دی ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار میں حکام وقت پر ثابت ہو چکی ہے اور اب حکام اور عوام سب ہی اس میں مبتلا ہیں۔ «إلا من رحم ربي»
➋ نماز کو بے وقت کر کے پڑھنا اس کی روح نکال دینے کے مترادف ہے، گویا اسے مار ڈالا گیا ہو اور ایسی نماز اللہ کے ہاں کوئی وزن نہیں رکھتی۔
➌ ایسی صورت میں جب حاکم یا اہل مسجد افضل اور مختار وقت کے علاوہ میں نماز ادا کرتے ہوں تو متبع سنت کو صحیح اور مختار وقت میں اکیلے ہی نماز پڑھنی چاہیے۔
➍ اگر انسان مسجد میں یا ان کی مجلس میں موجود ہو تو ان کے ساتھ مل کر بھی پڑھ لے تاکہ فتنہ نہ ہو اور وحدت قائم رہے۔
➎ غیر معصیت کے امور میں حکام وقت کی اطاعت واجب ہے۔
➏ مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں معلوم ہوا کہ کوئی شرعی سبب موجو د ہو تو عصر اور فجر کے بعد بھی نماز جائز ہے۔
➐ اس کی پہلی نماز فرض ہو گی اور دوسری نفل، خواہ باجماعت ہی کیوں نہ پڑھی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 431 سے ماخوذ ہے۔