صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا وَهُوَ التَّغْلِيسُ وَبَيَانِ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِيهَا: باب: صبح کی نماز کے لئے سویرے جانے اور اس کی قرأت کے بیان میں۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : آنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : كَأَنَّمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : كَانَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا ، قَالَ : يَعْنِي الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ ، حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، قَالَ : وَالْمَغْرِبَ ، لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَكَرَ ، قَالَ : ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ ، فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ ، قَالَ : وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " .سیار بن سلامہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا، شعبہ نے پوچھا، کیا تو نے خود سنا؟ اس نے کہا: گویا کہ میں ابھی سن رہا ہوں، اس نے کہا، میں نے اپنے باپ کو ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے بتایا کہ آپﷺ عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور نماز سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں بعد میں میری ان سے پھر ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے (سیار نے) بتایا، آپﷺ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے۔ اور عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ (کی آبادی) کے آخر پر ایسے وقت میں پہنچ جاتا جبکہ سورج ابھی زندہ ہوتا تھا (یعنی اس میں روشنی اور حرارت باقی ہوتی تھی وہ زرد اور ٹھنڈا نہیں ہوا ہوتا تھا) اور انہوں نے کہا، میں نہیں جانتا۔ انہوں نے مغرب کے لیے کونسا وقت بتایا تھا۔ شعبہ کہتے ہیں میں بعد میں پھر سلامہ سے ملا اور اس سے پوچھا تو اس نے بتایا صبح کی ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیر کر اپنے ساتھی کے چہرے کو دیکھتا جو اس کا آشنا ہوتا تھا۔ تو اس کو پہچان لیتا اور آپﷺ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ : أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ .معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انہوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ میں نے ابوبرزہ کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں کچھ (یعنی) آدھی رات تک تاخیر کی پروا نہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ شعبہ نے کہا: پھر میں انہیں دوبارہ ملا تو انہوں نے کہا: یا تہائی رات تک۔
وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الأَسْلَمِيَّ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ " .حضرت ابو منہال سیار بن سلامہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونا اور بعد میں گفتگو کرنا، ناپسند کرتے تھے اور صبح کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے اور ایسے وقت میں سلام پھیرتے کہ لوگ ایک دوسرے کے چہرے پہچان لیتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس روایت سے امام بخاری ؒ کا اصل مقصود نماز ظہر کا اول وقت بیان کرنا ہے کہ نماز ظہر کا وقت زوال آفتاب کے بعد شروع ہوجاتا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ زوال آفتاب کے بعد فورا نماز ظہر پڑھ لیتے۔
مذکورہ رویت میں سردی اور گرمی کے موسم کا فرق بھی بیان نہیں ہوا۔
دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ گرمی کی شدت میں نماز ظہر کو اول وقت کے بجائے اسے ٹھنڈا کرکے ادا کرتے۔
روایت کے مطابق نماز مغرب کے متعلق راوی بھول گیا کہ کس وقت ادا کرتے؟ اس کی وضاحت حضرت جابر بن عبدالله ؓ کرتے ہیں کہ جب سورج غروب ہوجاتا تو نماز مغرب پڑھی جاتی۔
(صحیح البخاری، مواقیت الصلاة، حدیث: 560) (2)
نماز فجر میں اسفار، یعنی اس قدر روشنی کہ ایک دوسرے کو پہچانا جا سکے۔
ایسا سلام پھیرنے کے بعد ہوتا تھا۔
جیسا کہ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ جب ہم صبح کی نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوتے تو جان پہچان والے کو دیکھتے اور اس کے چہرے سے پہچان لیتے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث 1462(647)
جب سلام پھیرنے پر بمشکل اتنی ہی روشنی ہوتی تھی کہ قریب بیٹھا ہوا ساتھی ہی پہچانا جا سکے اور آپ قراءت بھی ساٹھ سے سو آیات تک کرتے تھے تو یقینا نماز کا آغاز غلس، یعنی منہ اندھیرے میں ہواکرتا تھا۔
وهو المقصود (3)
امام کرمانی ؒ فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عشاء کاوقت تہائی یا نصف رات تک ہے جبکہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح کی نماز سے پہلے پہلے عشاء کی نماز پڑھی جا سکتی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سونے میں کوتاہی نہیں بلکہ کوتاہی کامرتکب وہ شخص ہے جس نے دوسری نماز کا وقت شروع ہونے تک نماز نہ پڑھی۔
‘‘ ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ مذکورہ حدیث میں نماز عشاء کا مستحب اور افضل وقت بتایا گیا ہے کہ وہ ایک تہائی یا نصف رات تک ہے۔
(شرح الکرماني: 190/4)
(4)
نماز عشاء کے بارے میں وضاحت ہے کہ اس کے متعلق پروا نہیں کی جاتی تھی کہ ایک تہائی رات کے بعد پڑھی جائے یا نصف شب تک ادا کی جائے؟ دراصل نمازیوں کو دیکھا جاتا تھا اگر وہ جلدی نماز کے لیے جمع ہوجاتے تو اسے جلدی ادا کرلیا جاتا اور اگر کسی وجہ سے وہ دیر سے آتے تو نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کردیا جاتا، جیسا کہ احادیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ اسوۂ مبارکہ منقول ہواہے۔
(صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 565.)
نماز عشاء کے آخری وقت کے تعین کی وضاحت آئندہ ہوگی۔
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 949]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ (۶۰) آیات سے سو (۱۰۰) آیات تک پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 818]
فوائد و مسائل:
(1)
یہ ایک عمومی اندازہ ہے۔
یہ مطلب نہیں کہ اس سے کم یا زیادہ مقدار جائز نہیں۔
آیتیں لمبی ہوں تو ساٹھ آیات پڑھ لی جایئں۔
مثلا سورہ سجدہ اور سورہ ملک دونوں میں تیس تیس آیات ہیں۔
تو دو رکعتوں میں دو سورتیں پڑھنے سے ساٹھ آیات ہوجایئں گی۔
اور مختصرآیات والی سورتوں میں سے سو آیات تلاوت کرلی جایئں، مثلا سورہ واقعہ دونوں رکعتوں میں تقسیم کرکے پڑھ لی جائے۔
جس کی چھیانوے آیات ہیں۔
اگر آیات زیادہ لمبی ہوں جیسے سورہ بقرة وغیرہ میں تو تعداد اس س بھی کم ہوسکتی ہے۔
جس قدر تلاوت آسانی سے ہوسکے اور مقتدی آسانی سے سن سکیں جائز ہے۔