صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا وَهُوَ التَّغْلِيسُ وَبَيَانِ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِيهَا: باب: صبح کی نماز کے لئے سویرے جانے اور اس کی قرأت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا ، وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ ، كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ ، وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ ، وَالصُّبْحَ كَانُوا ، أَوَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ " .محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے اور انہوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی (بن ابی طالب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حجاج مدینہ منورہ آیا (اور تاخیر سے نمازیں پڑھنے لگا) تو ہم نے (نماز کے اوقات کے بارے میں) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کو (زوال کے فوراً بعد) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف (اور روشن) ہوتا تھا اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے اور عشاء کی نماز کو کبھی مؤخر کرتے اور کبھی جلدی ادا کرتے، جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب انہیں دیکھتے کہ دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے۔ اور صبح (کی نماز) یہ لوگ یا کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ الْحَجَّاجُ ، يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ .معاذ عنبری نے شعبہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حجاج نمازوں میں تاخیر کر دیتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا (آگے غندر کی روایت کی طرح ہے۔)
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . نْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ . . .»
”. . . سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو سے جو حسن بن علی بن ابی طالب کے بیٹے ہیں، فرمایا کہ` ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نماز ظہر دوپہر میں پڑھتے تھے۔ اور جب نماز عصر پڑھتے تو سورج صاف روشن ہوتا۔ مغرب کی نماز واجب ہوتے ہی ادا فرماتے، اور ’’ عشاء ‘‘ میں اگر لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر آنے والوں کی تعداد کم ہوتی تو دیر کرتے۔ اور صبح کی نماز منہ اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ أَوْ تَأَخَّرُوا:: 565]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ باب اور ان میں آمدہ احادیث سے ان لوگوں کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ عشاء کی نماز اگر جلدی ادا کی جائے تو اسے عشاء ہی کہیں گے اور اگر دیر سے ادا کی جائے تو اسے «عتمه» کہیں گے، گویا ان لوگوں نے دونوں روایتوں میں تطبیق دی ہے۔ اور ان پر رد اس طرح ہوا کہ ان احادیث میں دونوں حالتوں میں اسے عشاء ہی کہا گیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اول وقت میں نماز ادا کی جائےتو بھی عشاء اور اگر آخر وقت میں ادا کی جائے تب بھی، یعنی تقدیم وتاخیر سے اس کے نام میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، نیز عشاء کےلیے اول وآخر دونوں وقت پسندیدہ ہیں۔
اس میں نمازی حضرات کا خیال رکھنا ہوگا، اگر وہ جلدی آجائیں تو اول وقت میں اسے پڑھ لیاجائے، بصورت دیگر کچھ مؤخر کردیا جائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ نمازیوں کی سہولت اور انتظامی امور کے لیے جواوقات مقرر کیے جاتے ہیں وہ صحیح نہیں بلکہ اگر اوقات مقرر نہ ہوں تو نمازیوں کے لیے پریشانی میں اضافے کا باعث ہے۔
البتہ امام بخاری ؒ اس حدیث کے پیش نظر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں نماز عشاء کےلیے اول وقت کا انتخاب نہیں تھا بلکہ حسب ضرورت اس میں تقدیم و تاخیرکی جاتی تھی، چنانچہ علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں کہ نماز عشاء کےلیے لوگوں کے جمع ہونے کا انتظار کرنا مستحب ہے اور جب جمع ہوجائیں تو بلاوجہ تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
(شرح الکرماني: 209/2)
نماز عشاء کی تاخیر کے متعلق کہ اسے تہائی رات، نصف رات یا طلوع فجر تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، اس کا بیان آئندہ آئے گا۔
بإذن الله.
(1)
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی شہادت کے بعد 74ھ میں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینے کا گورنر تعینات کیا۔
حرمین کا تمام علاقہ اس کے زیر نگیں تھا۔
خلفائے بنو امیہ کو نمازیں دیر سے پڑھنے کی عادت تھی۔
حجاج بھی انھی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نمازوں کو بہت دیر سے پڑھتا تھا۔
ان حالات کے پیش نظر چند درد مند حضرات نے سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے نمازوں کے اوقات کے متعلق سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ نماز پنجگانہ کن اوقات میں ادا کرتے تھے؟ تو اپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصود صرف نماز مغرب کا وقت بیان کرنا ہے کہ سورج کی ٹکیہ آنکھوں سے اوجھل ہوجائے تو نماز مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے بشرطیکہ دیکھنے والے اور سورج کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نماز مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوجاتا۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 417)
واضح رہے کہ نماز عشاء کے وقت تولوگوں کا خیال رکھا جاتا تھا کہ اگر جمع ہوجاتے تو جلدی پڑھ لیتے، بصورت دیگر ان کے آنے کا انتظار کیا جاتا لیکن صبح کے وقت لوگوں کا انتظار نہ ہوتا بلکہ اسے اندھیرے میں پڑھ لیا جاتا تھا۔
(فتح الباري: 56/2)
محمد بن عمرو سے روایت ہے (اور وہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے لڑکے ہیں) وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جابر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اوقات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے تھے، عصر ایسے وقت پڑھتے کہ سورج زندہ رہتا، مغرب سورج ڈوب جانے پر پڑھتے، اور عشاء اس وقت جلدی ادا کرتے جب آدمی زیادہ ہوتے، اور جب کم ہوتے تو دیر سے پڑھتے، اور فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 397]
اہل بیت نبوی ہم تمام مسلمانوں کے محبو ب و مکرم افراد ہیں، ان پر اللہ کی بےحد و بےشمار رحمتیں ہوں، ان کا خاندان کرہ ارضی پر بےمثل و بےمثال خاندان ہے، ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اسوہ رسول کے حامل اور مبلغ تھے جیسے کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے جناب محمد بن عمرو رحمہ اللہ نے نقل کی ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج میں منی سے مزدلفہ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ۱؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ۲؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 605]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر (کی روشنی) پھیل گئی، صبح ہو گئی، اور ستارے نمودار ہو گئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ” ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا (اور آپ سوار ہو کر چلے) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 656]
➋ جب دو نمازوں کو پہلی کے وقت میں جمع کریں گے تو صرف پہلی کے لیے اذان کہیں گے۔ ہاں، دونوں نمازوں کے لیے اقامت الگ الگ ہو گی کیونکہ اقامت صرف جماعت کی اطلاع دینے کے لیے ہے، نیز جمع کی صورت میں دوسری اذان کی ضرورت اس لیے بھی نہیں کہ لوگ پہلے سے جمع ہیں۔
➌ دو نمازوں کے جمع کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ درمیان میں نوافل نہ پڑھے جائیں۔
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں (سورج ڈھلتے ہی) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
➋عشاء کی نماز میں ثلث لیل (تہائی رات) تک تاخیر مستحب ہے مگر نمازیوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر لوگ کام کاج والے ہوں جنھیں جلدی نیند آجاتی ہے تو اول وقت میں پڑھ لی جائے تاکہ وہ نماز باجماعت سے محروم نہ ہوں۔ اگر فارغ قسم کے لوگ ہیں جو دیر سے سوتے ہیں تو ثلث لیل تک تاخیر کرلی جائے، مزید مجبوری ہو تو نصف رات تک تاخیر کر لیں۔ اس سے زیادہ تاخیر تو صرف اضطراری حالت ہی میں ہو سکتی ہے، مثلاً: کسی کو نیند آگئی اور وہ سویا رہ گیا اور نماز نہ پڑھی گئی تو وہ صبح تک پڑھ لے۔ گویا وقت مستحبات ثلث لیل تک، وقت جواز نصف لیل تک اور وقت اضطرار فجر طلوع ہونے تک ہے۔ واللہ اعلم۔
۱؎۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد نماز پڑھائی «وكان الفيئ قدر الشراك» ”(زوال) فی تسمے کے برابر تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی «حين كان الغيئ قدر الشراك وظل الرجل» ”جس وقت (زوال فی کا) سایہ تسمے اور آدمی کے سائے کے برابر تھا۔“
[صحيح: صحيح نسائي 510، كتاب الصلاة: باب آخر وقت المغرب، نسائي 525]
۲؎۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی امامت والی حدیث میں ہے کہ «فصلي بي الظهر فى اليوم الثاني حين صار ظل كل شيئ مثله» ”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ) حضرت جبرئیل علیہ السلام نے دوسرے روز مجھے نماز ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا۔“ [صحيح: صحيح ترمذي 127، صحيح أبو داود 416، المشكاة 583]
(جمہور) اس کے قائل ہیں۔
(ابوحنیفہؒ) ظہر کا آخری وقت وہ ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو جائے۔ (واضح رہے کہ امام ابوحنیفہؒ کی اس رائے کو خود علمائے احناف نے بھی قبول نہیں کیا اور نہ ہی کسی مرفوع حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔)
[المغنى: 370/1، الأم 153/1، حلية العلماء فى معرفة مذاهب الفقهاء 29/2، المهذب 51/1، فتح القدير 151/1، مغني المحتاج 121/1، اللباب 59/1، الدر المختار 331/1، القوانين الفقهية ص/43]
(راجح) جمہور کا موقف رائج ہے۔ گذشتہ صحیح حدیث اس کا ثبوت ہے۔
[تفصيل كے ليے ملاحظه هو: نيل الأوطار 438/1، الفقه الإسلامي وأدلته 66531، تحفة الأحوذي 489/1، السيل الحرار 183/1]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 302
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ” تم میرے ساتھ نماز پڑھو “، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر (دوسرے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
➋عصر کے اول وقت کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے حدیث: 503۔
➌صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شوق اور اہتمام کا پتہ چلتا ہے کہ وہ احکام شرعیہ کو سیکھنے میں کس قدر سرگرم تھے۔
➍عالم دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناواقف لوگوں کو مسائل شرعیہ سے آگاہ کرے اور تفہیم کا ایسا انداز اختیار کرے کہ جس سے مسئلہ آسانی سے اور جلدی سمجھ میں آجائے اور عوام کے ذہنوں میں راسخ ہو جائے۔