صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا: باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ ، أَلَا إِنَّهَا الْعِشَاءُ ، وَهُمْ يُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ " .زہیر نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابولبید سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تمہاری نماز کے نام پر تمہارے گنوار لوگ غالب نہ آجائیں، خبردار! یہ عشاء ہے، وہ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے اندھیرا کر دیتے ہیں (اور اندھیرے (عتمہ) کی بنا پر اس وقت پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ العتمہ، یعنی اندھیرے کی نماز کہتے ہیں۔)“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ ، فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ ، وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلَابِ الإِبِلِ " .وکیع نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری صلاۃ عشاء کے نام پر بدو تم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہے اور بدو اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
هُمْ يُعْتِمَونُ بِالْاِبِل: وہ اونٹ دوہنے کی خاطر اندھیرا کرتے ہیں، عتمة رات کی تاریکی کو کہتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: ” تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں، جان لو اس کا نام عشاء ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 543]
➋اعراب(بدوی لوگ) صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے تھے کہ عشاء کو عتمہ کہتے تھے بلکہ وہ مغرب کی نماز کو عشاء کہتے تھے۔ یہ تو قطعاً درست نہیں کیونکہ پھر عشاء کی نماز کے احکام مغرب پر جالگیں گے اور بہت پیچیدگی پیدا ہو جائے گی۔ عشاء کو عتمہ کہنا تو وصف کی بنا پر ہے، اس لیے اس میں کچھ نرمی ہے مگر مغرب کو عشاء کہنا قطعاً درست نہیں ہے۔
➌اعراب سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحرا میں الگ تھلگ رہتے تھے۔ شہروں اور بستیوں سے دور اور ان کی تہذیب سے نفور۔ انہیں بدوی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ فصاحت و بلاغت اور خالص عربی زبان کے ماہر تھے۔
حَلَاب: مصدر ہے اور معنی تھن سے دودھ نکالنا۔
فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو عام طور پر عتمہ کہنے سے روکا ہے کہ اس کا غالب نام عتمہ ہو جائے کبھی کبھار عتمہ کہنے سے منع نہیں فرمایا، اس لیے بعض مواقع پر آپ نے خودعشاء کو عتمہ کے نام سے تعبیر فرمایا ہے اور عتمہ نام رکھنے کا آپﷺ نے سبب بھی بتا دیا ہے کہ گنوار چونکہ اونٹ دوہنے میں دیر کر دیتے ہیں اور اس کام میں اندھیرا پھیل جاتا ہے اس لیے وہ اس کو عتمہ کے نام سے پکارتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ عتمہ کہنا نہ شروع کر دینا کہ عشاء کا نام متروک یا مغلوب ہو جائے۔
قرآن مجید میں ہے: ﴿وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ﴾ (النور: 58)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم پر «أعراب» (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں، سنو! اس کا نام عشاء ہے ۱؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4984]
ہمارے ہاں دیہاتوں میں بعض لوگ عشاء کی نماز کو سوتےکی نماز ظہر کو پیشی یا پییش (پہلی) اور عصر کو دیگر (دوسری) کہتے ہیں۔
لیکن اس فرمان کا مطلب یہ ہےکہ ایمانیات سے متعلق شرعی اصطلاحات غالب اور زبان زد عام ہونی چاہییں عرف سے مغلوب نہ ہونے پائیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” اعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں، اس لیے کہ (کتاب اللہ میں) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 704]
قرآن مجید میں عشاء کی نماز کا ذکر اس کے نام کے ساتھ آیا ہے جہاں یہ حکم ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد بچے اور غلام بھی اجازت لیکر گھر اور کمرے میں آئیں۔ (سورہ النور: 57)
اعرابیوں نے مغرب کی نماز کو عشاء اور عشاء کی نماز کو عتمہ کہنا شروع کردیا تھا۔
اس سے خطرہ ہوا کہ لوگ اس حکم کو عشاء کے بجائے، مغرب کی نماز کے متعلق نہ سمجھ لیں، اس لیے شرعی اصطلاح کو اس طرح تبدیل کردینا کہ غلط فہمی کا اندیشہ ہو درست نہیں۔
(2)
عتمہ اندھیرے کو کہتے ہیں چونکہ وہ لوگ شام کو کافی تاخیر سے یعنی اندھیرا ہونے پر اونٹنیوں کا دودھ دوہتے تھے اسی وجہ سے انھوں نے نماز عشاء کو عتمہ کہنا شروع کردیا۔
بعض احادیث میں نماز عشاء کو عتمہ کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے، اس لیے اس نہی کو تنزیہی قرار دینا چاہیے یعنی عشاء کو عتمہ کہنے سے بچنا بہتر ہے، واللہ اعلم۔
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ نمازوں کے نام بھی بذریعہ وحی رکھے گئے ہیں، ان کو اصل ناموں کے ساتھ ہی پکارنا چاہیے، عالمی لوگ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ دین اسلام کی اصطلاحات کو اپنے ماحول کے مطابق تبدیل کردیں، مثلاً ا آج کل نماز عشاء کو” سوتے “ کی نماز کہتے ہیں، اور ظہر کی نماز کو ” پیشی“ کی نماز اور عصر کی نماز کو ”ڈیگر“ کی نماز کہنا درست نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض لوگوں نے نماز عشاء کو اصل نام سے تبدیل کر کے ”عتمہ“ کہنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، آج بھی ضرورت ہے کہ عامی لوگوں کو ان کی بری عادات پر ڈانٹنا چاہیے، اور انھیں قرآن و حدیث پر ہی پابند کرنا چاہیے۔