حدیث نمبر: 641
وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ ، نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي ، وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي أَمْرِهِ ، حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ ، حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِهِمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ عَلَى رِسْلِكُمْ : " أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا ، أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ، أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ " ، أَوَ قَالَ : مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ، لَا نَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور میرے (وہ) ساتھی جو میرے ساتھ بڑی کشتی میں (حبشہ سے واپس) آئے تھے، بطحان کے نشیبی میدان میں اترے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے اور ہر رات ان میں سے ایک جماعت باری باری عشاء کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یوں اتفاق پیش آیا کہ آپ اپنے کسی معاملے میں (اتنے) مشغول ہو گئے کہ آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا حتی کہ آدھی رات ہو گئی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو ان لوگوں سے جو آپ کے سامنے حاضر تھے، فرمایا: ”ذرا ٹھہرو میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم خوش ہو جاؤ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ لوگوں میں اس وقت، تمہارے سوا، کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا۔“ یا آپ نے فرمایا: ”اس وقت تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔“ ہمیں یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سا جملہ کہا تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 641
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 567

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 567 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´نماز عشاء (کے لیے انتظار کرنے) کی فضیلت`
«. . . عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ، فَأَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ عَلَى رِسْلِكُمْ: " أَبْشِرُوا إِنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ، أَوْ قَالَ مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ "، لَا يَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: فَرَجَعْنَا فَفَرِحْنَا بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . .»
. . . ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ` میں نے اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جو کشتی میں میرے ساتھ (حبشہ سے) آئے تھے ’’ بقیع بطحان ‘‘ میں قیام کیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف رکھتے تھے۔ ہم میں سے کوئی نہ کوئی عشاء کی نماز میں روزانہ باری مقرر کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ اتفاق سے میں اور میرے ایک ساتھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے۔ (کسی ملی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گفتگو فرما رہے تھے) جس کی وجہ سے نماز میں دیر ہو گئی اور تقریباً آدھی رات گزر گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ نماز پوری کر چکے تو حاضرین سے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر وقار کے ساتھ بیٹھے رہو اور ایک خوشخبری سنو۔ تمہارے سوا دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو اس وقت نماز پڑھتا ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تمہارے سوا اس وقت کسی (امت) نے بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔ یہ یقین نہیں کہ آپ نے ان دو جملوں میں سے کون سا جملہ کہا تھا۔ پھر راوی نے کہا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر بہت ہی خوش ہو کر لوٹے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ فَضْلِ الْعِشَاءِ:: 567]
تشریح:
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہجرت حبشہ سے واپسی کے بعد بقیع بطحان میں قیام فرمایا۔ بقیع ہر اس جگہ کو کہا جاتا تھا، جہاں مختلف قسم کے درخت وغیرہ ہوتے۔ بطحان نام کی وادی مدینہ کے قریب ہی تھی۔
امام سیوطی فرماتے ہیں کہ امم سابقہ میں عشاء کی نماز نہ تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ بشارت فرمائی جسے سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نہایت خوشی حاصل ہوئی۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ مدینہ شریف کی دیگر مساجد میں لوگ نماز عشاء سے فارغ ہو چکے لیکن مسجد نبوی کے نمازی انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے اس لیے ان کو یہ فضیلت حاصل ہوئی۔ بہرحال عشاء کی نماز کے لیے تاخیر مطلوب ہے۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرمیری امت پر شاق نہ گزرتا تو میں عشاء کی نماز تہائی رات گزرنے پر ہی پڑھا کرتا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 567 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 567 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
567. حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اور میرے وہ رفقاء جو میرے ساتھ کشتی میں آئے تھے، وادی بطحان میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے جبکہ نبی ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف فر تھے۔ چنانچہ ہر رات عشاء کی نماز کے لیے چند آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں باری باری حاضر ہوتے۔ ایک دن میں اور میرے ساتھی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ اس دن کسی کام میں مصروف تھے اور آپ نے نماز عشاء میں اس قدر تاخیر فرمائی کہ آدھی رات ہو گئی۔ آخر نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ نماز سے فراغت کے بعد آپ نے حاضرین سے فرمایا: ’’ذرا ٹھہرو، تمہیں مبارک ہو کیونکہ تم پر اللہ کی یہ نعمت ہے کہ اس وقت تمہارے علاوہ لوگوں میں سے اور کوئی نماز نہیں پڑھ رہا ہے۔’’ یا فرمایا:‘‘ اس وقت تمہارے سوا کسی نے یہ نماز نہیں پڑھی۔‘‘ معلوم نہیں آپ نے ان دو باتوں میں سے کون سی بات ارشاد فرمائی۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:567]
حدیث حاشیہ:
(1)
مسجد نبوی میں نماز عشاء سے متعلق متعدد واقعات مختلف اوقات میں پیش آئے: حضرت عائشہ ؓ کا بیان کردہ واقعہ آغاز اسلام میں پیش آیا، جیسا کہ سابقہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
اس کے کافی عرصے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور ان کے رفقاء کا مذکورہ واقعہ پیش آیا کیونکہ وہ یمن سے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کے لیے نکلے تھے مگر سمندری سفر کے دوران میں انھیں تیز آندھی نے حبشہ پہنچا دیا۔
وہاں سات سال حضرت جعفر طیار ؓ کے ہمراہ قیام فرمایا، پھر وہاں ان کی معیت میں مدینہ منورہ پہنچے اور وادئ بطحان میں پڑاؤ کیا۔
وہاں سے باری باری کچھ افراد ہررات عشاء کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔
مذکورہ واقعہ اسی دور کا ہے۔
(صحیح البخاري، المغازی، حدیث: 4230)
اس کے بعد اسی طرح کا ایک اور واقعہ پیش آیا جسے حضرت ابن عباس ؓ کرتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ ہجرت کے آٹھویں سال مدینہ طیبہ میں حاضر ہوئے تھے۔
ظاہر ہے ان کا چشم دید واقعہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے واقعے کے بعد پیش آیا ہوگا۔
(صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 571)
ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عشاء میں تاخیر مسجد نبوی ہی میں ہوا کرتی تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مختلف اطراف سے علوم دینیہ کی تحصیل کے لیے حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم آتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کی ہمہ وقت مشغولیت اور شبانہ روز تعلیم و تربیت کے اہتمام کی وجہ سے نماز عشاء میں تاخیر ہوجاتی ہوگی۔
ظاہر ہے کہ اتنی تاخیر کی ضرورت مسجد نبوی کے علاوہ کسی اور مسجد میں پیش نہیں آتی ہوگی۔
والله أعلم۔
(2)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عشاء کے متعلق یہ غیر معمولی تاخیر کسی لشکر کی ترتیب کی بنا پر تھی۔
بہر حال جب آپ نے آدھی رات کے بعد نماز عشاء پڑھائی تو اپ نے حاضرین کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ اس وقت تمھارے علاوہ کوئی بھی نماز پڑھنے والا نہیں ہے، یعنی تمھارا انتظار اسلام کی ایک مخصوص اور امتیازی نماز کے لیے تھا، اس لیے یہ اجرو ثواب سے خالی نہیں بلکہ اس میں تمھارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر اس قدر خوش ہوکر واپس ہوئے جس کی انتہا نہیں، کیونکہ ہمیں نماز عشاء کے عمل اور اس کے انتظار پر رسول اللہ ﷺ نے خوش خبری سنائی تھی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 567 سے ماخوذ ہے۔