صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا: باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ : مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلَامُ فِي النَّاسِ " ، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةِ ، وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ .نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کسی رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز، جسے عتمہ کے نام سے پکارا جاتا ہے، کے لیے آنے میں تاخیر کر دی، رسول اللہ ﷺ گھر سے نہ نکلے حتیٰ کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، (مسجد میں آنے والی) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا: ”اہل زمین سے تمہارے سوا اس نماز کا کوئی بھی منتظر نہیں ہے۔‘‘ یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ ابھی لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا تھا، حرملہ نے اپنی روایات میں ابن شہاب سے یہ اضافہ بیان کیا: مجھے بتایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے روانہ تھا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے‘‘ یہ اس وقت فرمایا جب عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند آواز سے پکارا۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ ، وَذُكِرَ لِي وَمَا بَعْدَهُ .عقیل نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہری کا قول: «وذکر لی» (مجھے بتایا گیا) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كلاهما ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالُوا جَمِيعًا : عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : لَوْلَا أَنَّ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي .محمد بن بکر، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق، سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں۔ سب نے کہا: ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انہوں نے انہیں (مغیرہ کو) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ باہر تشریف لے گئے، نماز پڑھائی اور فرمایا: ”اگر (مجھے) یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا (بہترین) وقت ہے۔“ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: ”اگر یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے باب کا مطلب یوں نکالاکہ اس وقت عشاء کی نماز پڑھنے کے لیے بچے بھی آتے رہتے ہوں گے، جبھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔
پس جماعت میں عورتوں کا مع بچوں کے شریک ہونا بھی ثابت ہوا والظاھر من کلام عمر رضی اللہ عنہ أنه شاھد النساء اللاتی حضرن في المسجد قد نمن وصبیانھن معھن (حاشیہ بخاری)
یعنی ظاہر کلام عمر سے یہی ہے کہ انہوں نے ان عورتوں کا مشاہدہ کیا جو مسجد میں اپنے بچوں سمیت نماز عشاءکے لیے آئی تھیں اور وہ سو گئیں جب کہ ان کے بچے بھی ان کے ساتھ تھے۔
«. . . أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ، فَقَالَ: مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ، قَالَ: وَلَا يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ . . .»
”. . . عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عشاء کی نماز میں دیر فرمائی۔ یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پکارا، نماز! عورتیں اور بچے سب سو گئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔ راوی نے کہا، اس وقت یہ نماز (باجماعت) مدینہ کے سوا اور کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی۔ صحابہ اس نماز کو شام کی سرخی کے غائب ہونے کے بعد رات کے پہلے تہائی حصہ تک (کسی وقت بھی) پڑھتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ لِمَنْ غُلِبَ:: 569]
حضرت امیرالدنیا فی الحدیث یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ عشاء سے پہلے سونا یا اس کے بعد بات چیت کرنا اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سونے میں عشاء کی نماز کے فوت ہونے کا خطرہ ہے اور دیر تک بات چیت کرنے میں صبح کی نماز فوت ہونے کا خطرہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ان خطرات سے بچ سکے تو اس کے لیے عشاء سے پہلے سونا بھی جائز اور بعد میں بات چیت بھی جائز جیسا کہ روایات واردہ سے ظاہر ہے۔ اور حدیث میں یہ جو فرمایا کہ تمہارے سوا اس نماز کا کوئی انتظار نہیں کرتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں میں کسی بھی امت پر اس نماز کو فرض نہیں کیا گیا، یہ نماز اہل اسلام ہی کے لیے مقرر کی گئی یا یہ مطلب ہے کہ مدینہ کی دوسری مساجد میں سب لوگ اوّل وقت ہی پڑھ کر سو گئے ہیں۔ صرف تم ہی لوگ ہو جو کہ ابھی تک اس کا انتظار کر رہے ہو۔
پہلے باب میں عشاء سے قبل سونے کے متعلق کراہت کا بیان تھا۔
اس باب میں ان حالات کی طرف اشارہ مقصود ہے جن مین سونے کی اجازت ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی نیند کے ہاتھوں مغلوب ہوجائے، یعنی اس کے اختیار کا کوئی دخل نہ ہوتو وہ معذور ہے۔
اس کے علاوہ درج ذیل صورتوں میں بھی عشاء سے قبل سونے کی اجازت ہے: ٭ایسی جگہ سوجائے کہ جہاں اسے یقینا اٹھا دیاجائے گا، مثلاً: مسجد میں نماز کے انتظار میں سونا۔
٭سونے سے بیداری کا کوئی انتظام کردیاجائے، مثلاً: کسی کو مقرر کردینا کہ وہ نماز کے وقت اٹھا دے گا یا الارم لگاکرسوجائے۔
٭جسے اپنی عادت پر پورا اعتماد ہوکہ ضرورت کے وقت آنکھ کھل جائے گی۔
مقصد یہ ہے کہ اگر نماز باجماعت فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو سونے میں کوئی حرج نہیں۔
ترجمہ باب اسی سے نکلتا ہے کہ عورتیں اور بچے سو گئے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں بھی رات کو عشاءکی نماز کے لیے مسجد میں آیا کرتیں۔
اس کے بعد جو حدیث امام بخاری ؒ نے بیان کی، اس سے بھی یہی نکلتا ہے کہ رات کو عورت مسجد میں جا سکتی ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں جانے سے نہ روکو۔
یہ حدیثیں اس کو خاص کرتی ہیں یعنی رات کو روکنا منع ہے۔
اب عورتوں کا جماعت میں آنا مستحب ہے یا مباح اس میں اختلاف ہے۔
بعضوں نے کہا جوان عورت کو مباح ہے اور بوڑھی کو مستحب۔
حدیث سے یہ بھی نکلا کہ عورتیں ضرورت کے لیے باہر نکل سکتی ہیں۔
امام ابو حنیفہ ؒ نے کہا میں عورتوں کا جمعہ میں آنا مکروہ جانتا ہوں اور بڑھیا عشاءاور فجر کی جماعت میں آسکتی ہے اور نمازوں میں نہ آئے اور ابویوسف ؒ نے کہا بڑھیا ہر ایک نماز کے لیے مسجد میں آسکتی ہے اور جوان کا آنا مکروہ ہے۔
قسطلانی۔
(مولانا وحید الزماں مرحوم)
حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کا قول خلاف حدیث ہونے کی وجہ سے حجت نہیں جیسا کہ خود حضرت امام ؒ کی وصیت ہے کہ میرا قول خلاف حدیث چھوڑدو۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، اور فرمایا: ” تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کو (اس وقت) پڑھ رہا ہو “، ان دنوں اہل مدینہ کے سوا کوئی اور نماز پڑھنے والا نہیں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 483]
➋”عورتیں اور بچے سوگئے۔“ یعنی وہ عورتیں جو باجماعت نماز کے لیے مسجد میں آئی تھیں اور ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بجے بھی تھے۔ یا گھروں میں عورتیں اور بچے سوگئے۔ دروازہ کھلوانا مشکل ہو گا۔ لیکن پہلا مفہوم ہی درست ہے۔
➌”تمہارے علاوہ کوئی شخص یہ نماز نہیں پڑھتا۔“ کیونکہ عیسائی و یہودی تو عشاء کی نماز پڑھتے ہی نہیں، صرف مسلمان ہی پڑھتے ہیں اور اس وقت اسلام مدینے سے باہر نہیں پھیلا تھا یا پھر مکے میں چند مجبورومقہور مسلمان تھے جن کو علانیہ نمازباجماعت پڑھنے کی ہمت ہی نہ تھی، چھپ چھپا کر پڑھتے تھے۔ اس جملے کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اتنی تاخیر کے ساتھ مسجد نبوی کے علاوہ کہیں نماز نہیں پڑھی جاتی کیونکہ مدینہ منورہ کی دیگر مساجد میں لوگ جلدی نماز پڑھ کر سوجاتے تھے۔ اس صورت میں ”تم“ سے مراد مسجد نبوی کے نمازی ہوں گے، پہلی صورت میں عام مسلمان مراد ہوں گے۔ واللہ أعلم۔
➍اس حدیث سے بظاہر امام صاحب کا استدلال واضح نہیں ہے لیکن آپ کا یہ فرمانا: ”تمہارے علاوہ کوئی شخص یہ نماز نہیں پڑھتا“ اس امت کی خصوصیت واضح کرتا ہے، اس لیے اس نماز کا اہتمام ضروری ہے۔ نماز کے لیے منتظر رہنا اس کے اہتمام میں شامل ہے، لہٰذا یہ عمل اس کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے۔ واللہ أعلم۔