صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب فَضْلِ صَلاَتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا: باب: صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی محافظت کا بیان۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَمِسْعَرٍ ، وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ ، سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ، يَعْنِي الْفَجْرَ ، وَالْعَصْرَ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ الرَّجُلُ : وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي .اسماعیل بن ابی خالد، مسعر اور بختری بن مختار نے یہ روایت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ سے سنی، انہوں نے اپنے والد (حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے۔“ یعنی فجر اور عصر کی نمازیں۔ اس پر بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس آدمی نے کہا: میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ میرے دونوں کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّى ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَقَالَ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ ، لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُهُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ .عبدالملک بن عمیر نے حضرت عمارہ بن رویبہ کے بیٹے سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا۔“ اور ان کے پاس بصرہ کا ایک باشندہ بھی موجود تھا، اس نے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور میں اس کی شہادت دیتا ہوں۔ اس آدمی نے کہا: اور میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اسی جگہ ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا جہاں آپ نے ان سے سنا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 488]
عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی“، اس شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا، انہوں نے کہا: ہاں، ہر بار وہ یہی کہتے تھے: میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، پھر اس شخص نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے فرماتے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 427]
اس حدیث میں نماز فجر اور عصر کی خاص اہمیت کا بیان ہے۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ جو ان کی پابندی کرے گا وہ باقی نمازوں کی بھی پابندی کرے گا یا اسے توفیق مل جائے گی۔
ان احادیث میں نماز فجر اور نماز عصر کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ ان نمازوں میں دن رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ نیز یہ اوقات انتہائی بابرکت ہیں کہ ان اوقات کی قدر کرنے والا اور ان نمازوں کا خاص اہتمام کرنے والا گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور جنت کا وارث ٹھہرتا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں ”نماز فجر وعصر“ انتہائی عظمت کی حامل نمازیں ہیں کیونکہ ان نمازوں میں فرشتوں کے دونوں گروہ حاضر ہوتے ہیں جبکہ دیگر نمازوں میں فرشتوں کے ایک گروہ کی حاضری ہوتی ہے۔ اور احادیث میں یہ بھی وارد ہے کہ نماز فجر کے بعد رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور دن کے آخری وقت میں اعمال بلند کیے جاتے ہیں، چنانچہ جو شخص ان اوقات میں طاعت و عبادت میں مشغول ہو اس کے رزق و عمل میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ (فتح الباری: 2 / 50)