حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ابْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ ، فَنَزَلَتْ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 " ، فَقَالَ رَجُلٌ ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقٍ لَهُ : هِيَ إِذًا صَلَاةُ الْعَصْرِ ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ : قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ ، وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ،

فضیل بن مرزوق نے شقیق بن عقبہ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ یہ آیت «حافظوا علی الصلوٰت وصلوٰة العصر» نازل ہوئی، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ہم نے اسے پڑھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا اور آیت اس طرح اتری: «حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ» ”نمازوں کی نگہداشت کرو اور (خصوصاً) درمیانی نماز کی۔“ اس پر ایک آدمی نے، جو شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان سے کہا: تو پھر اس سے مراد عصر کی نماز ہوئی؟ حضرت براء رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ یہ آیت کیسے اتری اور اللہ تعالیٰ نے کیسے اسے منسوخ کیا، (اصل حقیقت) اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ الأَشْجَعِيُّ : عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا ، بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ .

امام مسلم فرماتے ہیں: یہی روایت اشجعی نے سفیان ثوری کے واسطے سے اسود بن قیس کی شقیق بن عقبہ سے براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنائی، انہوں نے کہا، ہم ایک عرصہ تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتے رہے، جیسا کہ فضیل بن مرزوق کی حدیث ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 630
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»