صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلاَةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلاَةُ الْعَصْرِ: باب: اس بات کی دلیل کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ، وَقَالَتْ : " إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ ، فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 ، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا ، آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ ، " 0 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ 0 " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت ہے، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے قرآن مجید لکھوں، فرمایا: جب تم اس آیت پر پہنچو «حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ» تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں آیت پر پہنچا تو انہیں آگاہ کیا، انہوں نے مجھے لکھوایا: «حافظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ وصلوٰة العصر، قوموا للہ قانتین» ”نمازوں کی حفاظت کرو اور (خاص کر) درمیانی نماز کی، یعنی نماز عصر کی اور اللہ کے حضور عاجزانہ قیام کرو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عن ابى يونس مولى عائشة انه قال: امرتني عائشة ام المؤمنين ان اكتب لها مصحفا، ثم قالت: إذا بلغت هذه الآية فآذني حافظوا على الصلاة والصلاة الوسطى . . .»
”. . . ابویونس مولیٰ عائشہ (تابعی) سے روایت ہے کہ مجھے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ میں ان کے لئے مصحف (قرآن مجید) لکھوں، پھر آپ نے فرمایا: جب تم اس آیت «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ» ”نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی حفاظت کرو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 575]
تفقہ:
➊ آیت مذکور «وصلٰوة العصر» کے الفاظ کے ساتھ موجود ہ قرآن (مصحف عثمانی) میں موجود نہیں ہے۔ اس کی دو وجہ ہو سکتی ہیں: اول: ان الفاظ کی تلاوت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی منسوخ ہو گئی۔
دوم: یہ «والصلٰوة الوسطي» کی تشریح ہے کہ صلٰوۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے اور یہی راجح ہے۔
➋ صلوٰاۃ وسطیٰ کے بارے میں بہت اختلاف ہے۔ راجح یہی ہے کہ اس سے مرادنماز عصر ہے۔
➌ غلام سے پردہ ضروری نہیں۔
➍ قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نسخ کا وقوع برحق ہے۔ بعض آیات کی تلاوت منسوخ ہو گئی اور بعض کا حکم منسوخ ہو گیا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت جو قرآن چھوڑ کر گئے ہیں، اب وہی من وعن مسلمانوں کے پاس موجود ہے اور اسی پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ دیکھئے [التمهيد278/4]
➎ «وصلٰوة العصر» میں واؤ تفسیریہ ہے، فاصلہ نہیں ہے۔
➏ آیت کریمہ میں حفاظت سے مراد نمازوں کو ان کے اوقات پر اور باجماعت پڑھنا ہے۔
➐ سلف صائین کے فہم کی روشنی میں قرآن وحدیث کی تشریحات لکھی اور لکھوائی جا سکتی ہیں۔