حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا ، قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ " ،

ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے ابونجاشی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا، اس کے دس حصے کیے جاتے، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : كُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَلَمْ يَقُلْ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ .

امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ اس نے کہا، ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں عصر کے بعد اونٹ نحر کرتے تھے۔ یہ نہیں کہا ”ہم نماز میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 625
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2485

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2485 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2485. حضرت رافع بن خدیج ؓ سےروایت ہے، انھوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ نماز عصر پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے اور اس کے گوشت کو دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا۔ پھر ہم غروب آفتاب سے پہلے پہلے پکا ہوا گوشت بھی کھالیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2485]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے نکلتا ہے کہ آپ ﷺ عصر کی نماز ایک مثل پر پڑھا کرتے تھے ورنہ دو مثل سایہ پرجو کوئی عصر کی نماز پڑھے گا تو اتنے وقت میں اس کے لیے یہ کام پورا کرنا مشکل ہے۔
اس حدیث سے باب کا مطلب یوں نکلتا ہے کہ اونٹ کا گوشت یونہی اندازے سے تقسیم کیا جاتاتھا۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2485 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2485 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2485. حضرت رافع بن خدیج ؓ سےروایت ہے، انھوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ نماز عصر پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے اور اس کے گوشت کو دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا۔ پھر ہم غروب آفتاب سے پہلے پہلے پکا ہوا گوشت بھی کھالیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2485]
حدیث حاشیہ:
(1)
گوشت وغیرہ وزن سے تولا جاتا ہے لیکن اس حدیث کے مطابق اسے دس حصوں میں اندازے سے تقسیم کر دیا جاتا تھا۔
یہ بھی ایک قیاسی وزن تھا۔
عرف میں ایسا کرنا جائز ہے کہ ایک وزنی چیز دوسری شکل میں تقسیم کر دی جائے۔
(2)
اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عصر اور مغرب کے درمیان اتنا وقت ہوتا تھا کہ اونٹ ذبح ہوتا، اس کا گوشت بنا کر دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا، پھر اسے مغرب سے پہلے پکا کر کھا لیا جاتا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں نماز عصر ایک مثل سایہ ہونے پر پڑھی جاتی تھی، اگر دو مثل سایہ ہونے پر اسے ادا کیا جاتا تو اتنے وقت میں مذکورہ کام انتہائی مشکل تھا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2485 سے ماخوذ ہے۔