صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ: باب: عصر اول وقت پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا ، قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ " ،ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے ابونجاشی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا، اس کے دس حصے کیے جاتے، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : كُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَلَمْ يَقُلْ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ .امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ اس نے کہا، ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں عصر کے بعد اونٹ نحر کرتے تھے۔ یہ نہیں کہا ”ہم نماز میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے باب کا مطلب یوں نکلتا ہے کہ اونٹ کا گوشت یونہی اندازے سے تقسیم کیا جاتاتھا۔
(وحیدی)
(1)
گوشت وغیرہ وزن سے تولا جاتا ہے لیکن اس حدیث کے مطابق اسے دس حصوں میں اندازے سے تقسیم کر دیا جاتا تھا۔
یہ بھی ایک قیاسی وزن تھا۔
عرف میں ایسا کرنا جائز ہے کہ ایک وزنی چیز دوسری شکل میں تقسیم کر دی جائے۔
(2)
اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عصر اور مغرب کے درمیان اتنا وقت ہوتا تھا کہ اونٹ ذبح ہوتا، اس کا گوشت بنا کر دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا، پھر اسے مغرب سے پہلے پکا کر کھا لیا جاتا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں نماز عصر ایک مثل سایہ ہونے پر پڑھی جاتی تھی، اگر دو مثل سایہ ہونے پر اسے ادا کیا جاتا تو اتنے وقت میں مذکورہ کام انتہائی مشکل تھا۔
واللہ أعلم