حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنَا وقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيّحَدَّثَهُ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقَ ، وَانْطَلَقْنَا مَعَه ، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ، ثُمَّ قُطِّعَتْ ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ، ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ " ، وقَالَ الْمُرَادِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ .

عمرو بن سواد عامری، محمد بن سلمہ مرادی اور احمد بن عیسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اس سب کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ عمرو نے کہا: ہمیں خبر دی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی، ابن وہب نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی کہ موسیٰ بن سعد انصاری نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حفص بن عبیداللہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو جب آپ فارغ ہوئے، آپ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنا اونٹ نحر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس موقع پر موجود ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا۔“ آپ نکل پڑے، ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے، ہم نے دیکھا، اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا، اسے ذبح کیا گیا، پھر اس کا گوشت کاٹا گیا، پھر اس میں سے کچھ پکایا گیا، پھر ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے (اسے) کھا لیا۔ مرادی کا قول ہے کہ ہمیں یہ حدیث ابن وہب نے ابن لہیعہ اور عمرو بن حارث دونوں سے روایت کرتے ہوئے سنائی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 624
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو جب آپﷺ فارغ ہوئے تو آپﷺ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور کہا اے اللہ کے رسولﷺ! ہم اپنا اونٹ نحر کرنا چاہتے ہیں اور ہماری چاہت ہے، آپﷺ اس موقع پر موجود ہوں، آپﷺ نے فرمایا: ’’اچھا‘‘، آپﷺ چلے اور ہم بھی ساتھ ہو گئے تو ہم نے دیکھا کہ اونٹ ابھی نحر نہیں کیا گیا تھا تو اسے نحر کیا گیا پھر اس کا گوشت کاٹا گیا، پھر اس سے کچھ پکایا گیا،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1414]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بنو سلمہ مسجد نبوی سے کچھ فاصلہ پر ہے آپﷺ وہاں تشریف لے گئے آپﷺ کے جانے کے بعد اونٹ ذبح کیا گیا پھر اس کا گوشت کاٹا گیا اس کے بعد اس کو پکا کر مغرب سے پہلے پہلے کھا لیا گیا یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپﷺ عصر کی نماز وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے تھے اور وہ وقت مثل اول تھا کیونکہ نماز پڑھ کر عوالی میں ایسے وقت پہنچنا کہ آفتاب ابھی بلند ہو اس کے بغیر ممکن نہیں اسی طرح اونٹ نحر کر کے اس کا گوشت پکا کر شام سے پہلے کھانا جلد نماز پڑے بغیر ممکن نہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 624 سے ماخوذ ہے۔