صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ: باب: جب گرمی نہ ہو تو ظہر اول وقت پڑھنی چاہیئے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : " شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي الرَّمْضَاءِ ، فَلَمْ يُشْكِنَا " .حضرت خباب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے گرمی میں نماز ادا کرنے کی شکایت کی تو آپﷺ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَ عَوْنٌ : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ يُونُسَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : " أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ ، فَلَمْ يُشْكِنَا " ، قَالَ زُهَيْرٌ : قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق : أَفِي الظُّهْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَفِي تَعْجِيلِهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ .زہیر نے کہا: ہمیں ابواسحاق نے سعید بن وہب سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا۔ زہیر نے کہا: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا ظہر کے بارے میں (شکایت کی؟) انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا اس کو جلدی پڑھنے (کی مشقت) کے بارے میں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
تشریح، فوائد و مسائل
الرَّمضَآء: گرم ریت۔
حَرَّالرَّمضَاء: گرم ریت کی تپش۔
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (تیز دھوپ سے) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ۱؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا: (یہ شکایت) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، (اسی سلسلہ میں تھی)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 498]
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ریت کی گرمی (زمین کی تپش) کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کو نظر انداز کر دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 675]
(الرَّمْضَاءِ)
اس ریت کو کہتے ہیں جو سورج کی دھوپ سے تپ کر گرم ہوچکی ہو۔
(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی درخواست یہ تھی کہ چونکہ دھوپ سے ریت گرم ہوجاتی ہے تو گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز ادا کرتے وقت سجدہ کرنا دشوار ہوتا ہے۔
اگر نماز کچھ مؤخر کرلی جائے جس سے ریت کی حرارت میں کمی ہوجائے تو مناسب ہوگا لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ درخواست منظور نہ فرمائی بلکہ گرمی کے موسم میں بھی جلدی نماز پڑھاتے رہے۔
(3)
دوسری احادیث میں گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کا ذکر ہے۔ (جیسا کہ آگے باب 4 میں احادیث آ رہی ہے۔)
اس کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی تاخیر ہو سکتی ہے لیکن مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔
ایسا نہ ہو کہ تاخیر کرتے کرتے نماز کو اس کے آخر وقت میں ادا کریں۔
دیگر احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گرمی میں نماز ظہر کو کچھ ٹھنڈا کر کے پڑھنا چاہیے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ (الدیباج: 6/53) اور ابراد والی حدیث ناسخ ہے۔