صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ: باب: جب گرمی نہ ہو تو ظہر اول وقت پڑھنی چاہیئے۔
حدیث نمبر: 618
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ كلاهما ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، وَابْنِ مَهْدِيٍّ . ح ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . ح ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي الظُّهْرَ ، إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ " .حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 673 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نماز ظہر کا وقت۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 673]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 673]
اردو حاشہ: (1)
ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے جیسے کہ آیت مبارکہ ﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ﴾ (بني اسرائيل: 17؍78)
نماز قائم کریں سورج کے ڈھلنے پر۔
سے یہی ثابت ہوتا ہے۔
(2)
نبی ﷺ کا عمل اوّل وقت میں نماز ادا کرنا ہے۔
ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے جیسے کہ آیت مبارکہ ﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ﴾ (بني اسرائيل: 17؍78)
نماز قائم کریں سورج کے ڈھلنے پر۔
سے یہی ثابت ہوتا ہے۔
(2)
نبی ﷺ کا عمل اوّل وقت میں نماز ادا کرنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 673 سے ماخوذ ہے۔