صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ: باب: پنجگانہ اوقات نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ ، قَدْ نَزَلَ ، فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَزَلَ جِبْرِيلُ ، فَأَمَّنِي ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ " .لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ نے ان سے کہا: بات یوں ہے کہ جبریل نازل ہوئے اور امام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔ تو عمر نے ان سے کہا: اے عروہ! جان لیں (سمجھ لیں) آپ کیا کہہ رہے ہیں! انہوں نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جبریل اترے اور انہوں نے (نماز میں) میری امامت کی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ ، أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : بِهَذَا أُمِرْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ : انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ ، أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ .امام مالک نے ابن شہاب زہری سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے نماز میں تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن نماز دیر سے پڑھی، اس وقت وہ کوفہ میں تھے، ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مغیرہ! یہ کیا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبریل اترے تھے، انہوں نے نماز پڑھائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر (جبریل نے) کہا: مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔ تو عمر نے عروہ سے کہا: عروہ! دیکھ لو، کیا کہہ رہے ہو؟ کیا جبریل نے خود (آکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (ہر) نماز کا وقت متعین کیا تھا؟ تو عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود اپنے والد سے اسی طرح بیان کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعد میں حضرت حسن ؓ نے ان سے نکاح کرلیا اور ان کے بطن سے حضرت زید بن حسن ؓ پیدا ہوئے۔
ابومسعود ؓ بدری تھے۔
یہی با ب سے وجہ مطابقت ہے۔
چنانچہ اول وقت اور آخر وقت ہر دو میں پانچوں نمازوں کو پڑھ کر آپ کو بتلایا۔
یہاں حدیث میں اس پر اشارہ ہے۔
عروہ بن زبیر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کو تاخیر نماز عصر پر ٹوکا اور حدیث مذکور بطور دلیل پیش فرمائی پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے استفسار پر حدیث مع سند بیان کی، جسے سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز کو یقین کامل حاصل ہوگیا۔
اس حدیث سے نمازعصر کا اول وقت پر ادا کرنا بھی ثابت ہوا۔
جیسا کہ جماعت اہل حدیث کا معمول ہے۔
ان لوگوں کا عمل خلاف سنت بھی معلوم ہوا جو عصر کی نماز تاخیر کرکے پڑھتے ہیں۔
بعض لوگ تو بالکل غروب کے وقت نماز عصر ادا کرنے کے عادی ہیں، ایسے لوگوں کو منافق کہاگیا ہے۔
1۔
حضرت عروہ بن زبیر نے جناب عمر بن عبدالعزیز ؒ کو نمازعصر کی تاخیر پر ٹوکا اور حدیث بطور دلیل پیش فرمائی، پھرحضرت عمر بن عبدالعزیز کے استفسار پرحدیث کی سند بیان کردی، جسے سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کو کامل یقین حاصل ہوگیا۔
2۔
اس حدیث سے نمازعصر کا اول وقت میں پڑھنا ثابت ہوا جیسا کہ جماعت اہل حدیث کا معمول ہے۔
اس سے اوقات نماز کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ رسول اللہ ﷺ کو ان اوقات کی عملی تعلیم دینے کے لیے خود تشریف لائے اور اول وآخر دونوں وقتوں میں پانچوں نمازیں پڑھ کر تعلیم دی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کو اس امر پر تعجب ہوا کہ حضرت جبرئیل ؒ نے رسول اللہ ﷺ کی امامت کرائی تھی۔
اس پر جناب عروہ نے سند کے ساتھ حدیث بیان کردی۔
(صحیح البخاري، المواقیت، حدیث: 521)
3۔
حضرت ابومسعود کا نام عقبہ بن عمرو انصاری سے جو زید بن حسن کے دادا اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
(صحیح البخاري، المغازی، حدیث: 4007)
4۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے حضرت جبرئیل ؒ کا وجود اور ان کی کارکردگی ثابت کی ہے۔
واللہ أعلم۔
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر میں کچھ تاخیر کر دی، تو عروہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی ۱؎ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو تم کہہ رہے ہو اسے خوب سوچ سمجھ کر کہو، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ابومسعود سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جبرائیل اترے، اور انہوں نے میری امامت کرائی، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازوں کو گن رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 495]
➋حضرت جبریل علیہ السلام نے دو دن نماز پڑھائی تھی۔ پہلے دن سب نمازیں اول وقت میں اور دوسرے دن آخر وقت میں۔ اس روایت میں اوقات ذکر نہیں کیے گئے کیونکہ مقصد صرف یہ بتلانا تھا کہ جبریل علیہ السلام نے اوقات بتلائے تھے، اوقات کا علم حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو پہلے سے تھا۔ ان کے بارے میں منقول ہے کہ مذکورہ روایت سننے کے بعد انہوں نے کبھی نماز میں تاخیر نہیں کی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائي: 6؍241۔ 255]
➌امراء اگر کسی خلاف سنت کام کا ارتکاب کریں تو اہل علم کی ذمے داری ہے کہ ان کی اصلاح کریں اور گاہے گاہے انہیں تنبیہ کرتے رہیں۔
➍عالم دین سے مسئلے کی دلیل طلب کی جا سکتی ہے اور عالم کو چاہیے کہ وہ خالص کتاب و سنت کے دلائل سے سائل کی تشفی کرائے۔
➎اختلاف کے وقت قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جائے گا۔
➏خبر واحد حجت ہے۔
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے گدوں پہ بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت عمر بن عبدالعزیز مدینہ منورہ کے امیر تھے، اور ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے، عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ دیر کر دی تو ان سے عروہ نے کہا: سنیے! جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت فرمائی، تو ان سے عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو کچھ کہہ رہے ہو سوچ سمجھ کر کہو؟ اس پر عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا کہ میں نے اپنے والد ابی مسعود رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 668]
قرآن مجید میں نماز کو وقت پر پڑھنے کا حکم ہے جیسے کہ ارشاد ہے کہ ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾ (النساء: 4؍103)
مومنون پر مقرره اوقات میں نماز ادا کرنا فرض ہے۔
اس کی وضاحت بھی وحی کے ساتھ عملی طور پر کی گئی۔
(2)
اوقات نماز کی تعیین کے لیے جبرئیل علیہ السلام کا ہر نماز کے وقت نازل ہونا نماز کی اور خصوصاً نماز با جماعت کی اہمیت بھی واضح كرتا ہے۔
(3)
اسلامی معاشرے میں بڑے سے بڑا عہدے دار تنقید سے بالا تر نہیں لیکن تنقید کرتے وقت ادب واحترام کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
(4)
اگرمسئلہ واضح نہ ہوتو مسئلہ بتانے والے سے وضاحت طلب کی جاسکتی ہے۔
یہ احترام کے منافی نہیں۔
(5)
اگر کوئی شخص حدیث سن کر کسی اشکال کی وجہ سے اسے تسلیم کرنے میں توقف کرے تو اسے حدیث کا منکر قرار نہیں دینا چاہیے بلکہ اس کے اشکال کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
(6)
حدیث کی سندیں بیان کرنے کا سلسلہ تابعین کے دور سے ہی شروع ہوگیا تھا۔
جس کے نتیجے میں صحیح اور ضعیف احا دیث میں امتیاز کرنا آسان ہوگیا۔