صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلاَةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا: باب: نماز کے لئے وقار و سکون سے آنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَ جَلَبَةً ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ " ؟ قَالُوا : اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : فَلَا تَفْعَلُوا ، " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ ، فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا " .معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی، کہا: عبداللہ بن ابی قتادہ نے مجھے خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں بتایا، کہا: ہم (ایک بار) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے (جلدی چلنے، دوڑ کر پہنچنے کی) ملی جلی آوازیں سنیں، آپ نے (نماز کے بعد) پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا (تھا؟)“ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے نماز کے لیے جلدی کی۔ آپ نے فرمایا: ”ایسے نہ کیا کرو، جب تم نماز کے لیے آؤ تو سکون و اطمینان محفوظ رکھو، (نماز کا حصہ) جو تمہیں مل جائے، پڑھ لو اور جو گزر جائے اسے پورا کر لو۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
مؤذن کی دعوت پر لبیك کہتے ہوئے ممکن ہے کہ نماز مکمل یا جزوی طور پر رہ جائے، اس لیے اس بات کی وضاحت ضروری تھی کہ اپنی کوتاہی کو کن الفاظ سے بیان کیا جائے؟ ایسے حالات میں نماز کے لیے آنے کا کیا انداز ہو؟ نماز رہ جانے کی صورت میں اسے کس طرح پڑھا جائے؟ امام بخاری ؒ نے اس باب میں ہماری رہنمائی فرمائی۔
اس سلسلے میں پہلا ادب یہ ہے کہ اپنی کوتاہی کو بیان کرتے ہوئے اگر کہہ دیا جائے کہ ہماری نماز رہ گئی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ اسلوب اختیار کرنے پر کوئی قدغن نہیں لگائی، چنانچہ اس حدیث میں خود رسول اللہ ﷺ نے’’رہ جانے‘‘ کی نسبت نماز کی طرف فرمائی ہے، بلکہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ ایک مرتبہ کچھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نیند کی وجہ سے نماز بروقت نہ پڑھ سکے تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ ہم سے نماز رہ گئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ کے استعمال پر کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ انھیں برقرار رکھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے میں کوئی کراہت نہیں۔
(فتح الباري: 153/2) (2)
واضح رہے کہ امام ابن سیرین ؒ کی ناپسندیدگی کا تعلق تہذیب الفاظ سے ہے، اظہار مدعا سے نہیں جیسا کہ شریعت نے عتمہ کا لفظ نماز عشاء پر اور یثرب کا لفظ مدینہ طیبہ پر ناپسند فرمایا ہے۔
ابن سیرین کی بات کا مقصد یہ ہے کہ رہ جانے یا فوت ہو جانے کی نسبت نماز کی طرف نہیں کرنی چاہیے کہ وہ رہ گئی، بلکہ اپنی طرف کرنی چاہیے اور یوں کہنا چاہیے کہ ہم نماز نہیں پا سکے۔ ان کی یہ بات [مصنف ابن ابي شيبه 265/2، ح: 8826] میں مروی ہے۔ امام بخاری نے اس پر حدیث ذکر کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا» "اور جو تم سے رہ جائے (فوت ہو جائے) اسے پورا کرو۔" مطلب یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ کہہ رہے ہیں اور فوت ہونے کی نسبت نماز کی طرف کر رہے ہیں تو یہ کہنا ناپسند اور مکروہ کیوں ہے۔ امام صاحب کے الفاظ «وَقَوْلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصَحُ» (اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان زیادہ صحیح ہے) کا یہ مطلب نہیں کہ ابن سیرین کی بات بھی صحیح ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آئے گی وہ غیر صحیح ہے، اس کے صحیح ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسم تفضیل ہمیشہ مقابلے کے لیے نہیں آتا بلکہ مبالغے کے لیے بھی آتا ہے، مطلب یہ ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بہت صحیح ہے۔ [مسند احمد 22575] میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں صحابہ کے نماز سے سوئے رہنے کا ذکر ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! فَاتَتْنَا الصَّلَاةُ» "میں نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری نماز رہ گئی۔" تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی انکار نہیں کیا۔ اگر اس طرح کہنا درست نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش نہ رہتے۔
معلوم ہوا کہ شرکت جماعت کے لیے بھاگ دوڑ مناسب نہیں بلکہ سکون اوروقار کے ساتھ چل کر شریک جماعت ہونا چاہئیے۔
پھر جو نماز چھوٹ جائے وہ بعدمیں پڑھ لے۔
جماعت کا ثواب بہرحال حاصل ہوگا۔
إن شاءاللہ تعالیٰ۔
(1)
اس مقام پر آپ نے ایک مسئلے کی وضاحت فرمائی ہے کہ نماز باجماعت میں شرکت کرنے کے لیے بھاگ دوڑ مناسب نہیں بلکہ سکون ووقار کے ساتھ چل کر شریک جماعت ہونا چاہیے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے اقامت ہوجائے تو اس کی طرف بھاگ کر نہیں آنا چاہیے۔
(حدیث: 908)
پھر یہ احادیث بظاہر اس آیت کریمہ کے خلاف معلوم ہوتی ہیں جس میں جمعے کےلیے دوڑکر آنے کا حکم ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ﴾ ’’اے ایمان والو!جب جمعے کے دن نماز کےلیے اذان دی جائے تو ذکر الہٰی کی طرف دوڑ آؤ۔
‘‘ (الجمعة: 62: 9)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ آیت کریمہ میں دوڑنے سے مراد اس کام کے لیے شدت اہتمام سے آگے بڑھنا ہے اور حدیث میں جس دوڑنے سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ دوڑ دھوپ ہے جو وقارو سکون اور آداب نماز کے منافی ہو۔
(2)
امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں علی بن مبارک کی متابعت کا حوالہ دیا ہے۔
مذکورہ حدیث میں حضرت یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کرنے والے حضرت شیبان ہیں، اس کے علاوہ علی بن مبارک بھی ان سے بیان کرتے ہیں، چنانچہ امام بخاری ؒ نے خود اس متابعت کو متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الجمعة، حدیث: 909)
اس کے علاوہ معاویہ بن سلام نے بھی اس روایت کو اپنے شیخ یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ہے جیسا کہ سنن ابی داود میں ہے۔
(فتح الباري: 159/2)
یہ حدیث اس سے پہلے (637) میں گزر چکی ہے۔ اس باب کا عنوان اور باب (21) کا عنوان بظاہر ایک ہی ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا: دونوں کے درمیان یہ فرق کیا جا سکتا ہے کہ پہلے باب میں اس شخص کے لیے دوڑ کر آنے سے ممانعت کا بیان ہے جو مسجد سے باہر ہے اور دوسرے باب میں اس کے لیے جو مسجد کے اندر یعنی مسجد کی ایک طرف ہے اور جلدی سے اٹھ کر نماز کی طرف آتا ہے۔