حدیث نمبر: 5Q1
أَلاَ تَرَى أَنَّكَ إِذَا وَازَنْتَ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَةَ الَّذِينَ سَمَّيْنَاهُمْ عَطَاءً وَيَزِيدَ وَلَيْثًا بِمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ وَسُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ فِي إِتْقَانِ الْحَدِيثِ وَالاِسْتِقَامَةِ فِيهِ وَجَدْتَهُمْ مُبَايِنِينَ لَهُمْ لاَ يُدَانُونَهُمْ لاَ شَكَّ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ فِي ذَلِكَ لِلَّذِي اسْتَفَاضَ عِنْدَهُمْ مِنْ صِحَّةِ حِفْظِ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِتْقَانِهِمْ لِحَدِيثِهِمْ وَأَنَّهُمْ لَمْ يَعْرِفُوا مِثْلَ ذَلِكَ مِنْ عَطَاءٍ وَيَزِيدَ وَلَيْثٍ

آپ دیکھتے نہیں کہ ان تینوں حضرات: عطاء، یزید اور لیث، جن کا ہم نے ابھی نام لیا، کا موازنہ حدیث کے حفظ و اتقان میں منصور بن معتمر، سلیمان اعمش اور اسماعیل بن ابی خالد سے کریں تو انہیں آپ ان حضرات سے خاصے فاصلے پر پائیں گے، یہ ان کے قریب بھی نہیں آ پاتے۔ ماہرین علم حدیث کو اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ منصور، اعمش اور اسماعیل کے ہاں حفظ کی صحت اور حدیث بیان کرنے میں مہارت کی جو صفات فراواں اہل علم کو نظر آتی ہیں ان کے نزدیک وہ عطاء، یزید اور لیث کے ہاں اس طرح معروف نہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 5Q1
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1291 | صحيح مسلم: 4 | سنن ابن ماجه: 41

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 4 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
علی ابنِ ابی ربیعہ والبیؒ بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں پہنچا، جس وقت کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہؓ تھے توحضرت مغیرہؓ نے بیان کیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’میری طرف بات منسوب کرنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے کی طرح نہیں ہے، جو مجھ پر عمداً جھوٹ باندھے گا، وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
آپ ﷺ کی طرف جو بات منسوب ہوگی، وہ دین وشریعت بن جائے گی، لیکن کسی اور کی بات دین وشریعت نہیں بنتی، اس لیے آپ کی طرف منسوب کرنا، اتنا ہلکا اور آسان نہیں ہے، جتنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنا آسان ہے، کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے میں اتنا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہوسکتا، جو آپ ﷺ کی طرف کسی بات کے منسوب کرنے کی صورت میں لاحق ہوسکتا ہے اور لاحق ہوناچاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 41 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 41]
اردو حاشہ:
ان روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے اور حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا تمام جہان کے جھوٹ سے بدتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 41 سے ماخوذ ہے۔