حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ ، أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى ، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، فَقَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ ، وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ ، وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ ، إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " تُسَبِّحُونَ ، وَتُكَبِّرُونَ ، وَتَحْمَدُونَ ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ، ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً " ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا ، فَفَعَلُوا مِثْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ ، يُؤْتِهِ مَنْ يَشَاءُ ، وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سُمَيٌّ ، فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : وَهِمْتَ ، إِنَّمَا قَالَ : " تُسَبِّحُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُكَبِّرُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ ، فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، حَتَّى تَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ ، قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

عاصم بن نضر تیمی نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی، نیز (ایک اور سند سے) قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں لیث نے ابن عجلان سے حدیث سنائی، ان دونوں (عبیداللہ اور ابن عجلان) نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (یہ قتیبہ کی روایت کردہ حدیث ہے) کہ کچھ تنگدست مہاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی: بلند درجے اور دائمی نعمت تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے! آپ نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ انہوں نے کہا: وہ اسی طرح نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کر سکتے، وہ (بندھوں اور غلاموں کو) آزاد کرتے ہیں جبکہ ہم آزاد نہیں کر سکتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا پھر میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم سے سبقت لے گئے ہیں اور اس کے ذریعے سے ان سے بھی سبقت لے جاؤ گے جو تم سے بعد (آنے والے) ہیں؟ اور تم سے وہی افضل ہو گا جو تمہاری طرح عمل کرے گا۔“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیں۔) آپ نے فرمایا: ”تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح، تکبیر اور تحمید (سبحان اللہ، اللہ اکبر، اور الحمد للہ) کا ورد کیا کرو۔“ ابوصالح نے کہا: فقرائے مہاجرین دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی جو ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں سن لیا ہے اور اسی طرح عمل کرنا شروع کر دیا ہے (وہ بھی تسبیح، تکبیر اور تحمید کرنے لگے ہیں۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرما دے۔“ قتیبہ کے علاوہ لیث سے ابن عجلان کے حوالے سے دیگر روایت کرنے والوں نے یہ اضافہ کیا کہ سمی نے کہا: میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے ایک فرد کو سنائی تو انہوں نے کہا: تمہیں وہم ہوا ہے، انہوں (ابوصالح) نے تو کہا تھا: ”تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بار اللہ اکبر کہو۔“ میں دوبارہ ابوصالح کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بتایا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ (اس طرح کہو) کہ سب کی تعداد تینتیس ہو جائے۔ ابن عجلان نے کہا: میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ کو سنائی تو انہوں نے مجھے ابوصالح کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کرتے ہوئے) اسی کی مانند حدیث سنائی۔

وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى ، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ ، عَنِ اللَّيْثِ ، إِلَّا أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ : ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ المهاجرين 61 ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، يَقُولُ سُهَيْلٌ : إِحْدَى عَشْرَةَ ، إِحْدَى عَشْرَةَ ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ .

سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! سرمایہ دار، بلند مراتب اور دائمی نعمتیں لے گئے، جیسا کہ قتیبہ کی لیث سے روایت ہے، مگر اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ابو صالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فُقَرَاءُ الْمُھَاجِرِیْن لوٹ کر آئے آخر حدیث تک اور حدیث میں یہ اضافہ کیا، سہیل نےکہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کلمہ گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر مجموعی طور پر تینتیس بار۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 595
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 843 | صحيح مسلم: 597 | مسند الحميدي: 133

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تنگدست مہاجرین، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کہ مالدار بلند درجات اور سدا بہار نعمتیں لے گئے، آپﷺ نے پوچھا یہ کیسے؟ انہوں نے کہا، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، وہ روزے رکھتے ہیں، جیسے ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں، ہم صدقہ نہیں کرسکتے، وہ آزادی دیتے ہیں، ہم آزاد نہیں کر سکتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پہنچ جاؤ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1347]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اَلدَّثُوْرُ: دثر کی جمع ہے، بہت مال۔
اَهْلُ الدَّثوْرُ: بہت مالدار (2)
اَلدَّرَجَاتُ الْعُليٰ: درجات، درجة کی جمع ہے مرتبہ اور عُلي، اعلي کا مونث ہے۔
(3)
اَلنَّعِيْمُ الْمُقِيْمُ: دائمی یا ہمیشہ کی نعمتیں، دبر، بعد میں یا آخر میں۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اگر انسان کے پاس فرصت کم ہو یا اسے کسی وجہ سے جلدی ہو تو وہ ان کلمات کو گیارہ گیارہ دفعہ بھی کہہ سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 595 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 843 کی شرح از حافظ ندیم ظہیر ✍️
´ہر نماز کے بعد تسبیح تینتیس تینتیس مرتبہ `
«. . . إِلَّا مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُكَبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ . . .»
... ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح «سبحان الله» ، تحمید «الحمد لله» ، تکبیر «الله أكبر» کہا کرو ... [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ: 843]
فوائد:
ایک دوسری روایت میں اللہ اکبر چونتیس مرتبہ کہنے کا بھی ذکر آیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض نماز کے بعد پڑھے جانے والے کچھ کلمات ایسے ہیں کہ ان کو پڑھنے یا کرنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا 33 مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ» 33 مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلهِ» 34 مرتبہ «اَللهُ اَكْبَرُ» کہنا۔ [صحيح مسلم: 596، دارالسلام 1347]
فرض نماز کے بعد اذکار کی فضیلت میں کافی احادیث ہیں۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے تو اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ [عمل اليوم و الليلة النسائي: 100 و سنده حسن، الترغيب و الترهيب للمنذري 448/2 ح 2273، طبع دار ابن كثير، بيروت]
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 24، حدیث/صفحہ نمبر: 6 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 843 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
843. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ کچھ نادار لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مال دار لوگ تو بڑے بڑے درجات اور دائمی عیش لے گئے کیونکہ ہماری طرح وہ نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح وہ روزے بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے جس سے وہ حج، عمرہ،جہاد اور صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اس پر عمل کر کے تم ان لوگوں تک پہنچ جاؤ گے جو تم سے سبقت لے گئے ہیں۔ اور تمہارے بعد تمہیں کوئی نہیں پا سکے گا۔ اور تم جن لوگوں میں ہو ان سے بہتر ہو جاؤ گے سوائے اس شخص کے جو اس کے مثل عمل کرے (وہ تمہارے برابر ہو سکے گا)۔ تم ہر نماز کے بعد 33 بار سبحان الله 33 بار الحمدلله اور 33 بار الله أكبر پڑھ لیا کرو۔‘‘ راوی کہتا ہے کہ پھر ہمارا باہمی اختلاف ہو گیا۔ ہم میں سے بعض نے کہا کہ ہم 33۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:843]
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض روایات میں نادار لوگوں کے نام بھی ذکر ہوئے ہیں: ٭ حضرت ابوذر غفاری ٭ حضرت ابوالدرداء ٭ حضرت ابو ہریرہ ٭ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم، لیکن صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ مہاجرین میں سے نادار لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے جبکہ حضرت زید بن ثابت ؓ انصار میں سے ہیں، ممکن ہے کہ اکثریت کی بنا پر انہیں مہاجرین کہا گیا ہو۔
ایک روایت میں ہے کہ فقراء مہاجرین دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اللہ کے رسول! ہمارے صاحب ثروت بھائیوں نے جب سنا کہ ہم نے نماز کے بعد آپ کا بتایا ہوا وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا ہے تو انہوں نے بھی اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ تو اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے۔
‘‘ (فتح الباري: 2/422۔
424) (2)
حدیث میں مذکور وظیفے کو ’’تسبیح فاطمہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اصل تسبیح فاطمہ تو وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ ؓ کو اس وقت پڑھنے کی تعلیم دی تھی جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے گھر کی خدمت کے لیے ایک غلام کا مطالبہ کیا۔
مزید برآں وہ نماز کے بعد پڑھنے کے متعلق نہ تھی بلکہ سوتے وقت پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6318)
چونکہ ان دونوں کی نوعیت ایک جیسی ہے اس لیے یہ وظیفہ بھی تسبیح فاطمہ کے نام سے مشہور ہو گیا۔
اس کی تین صورتیں ماثور ہیں: ٭ (سبحان الله 33 بار، الحمدلله 33 بار، الله أكبر 33 بار اور ایک بار لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو علی كل شيئ قدير) (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1352(597)
٭ جو شخص الحمدلله 33 بار، سبحان الله 33 بار اور الله أكبر 34 بار کہے گا وہ کبھی نامراد نہیں ہو گا۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1349(596)
٭ سبحان الله 25 بار، الحمدلله 25 بار، الله أكبر 25 بار، لا إله إلا الله 25 بار۔
(صحیح ابن خزیمة: 1/370)
اس کے علاوہ حضرت انس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت علی بن ابی طالب اور ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہم سے سبحان الله 10 مرتبہ، الحمدلله 10 مرتبہ اور الله أكبر 10 مرتبہ پڑھنے کے متعلق روایات بھی کتب احادیث میں مروی ہیں۔
ان تمام روایات کو علامہ عینی نے ذکر کیا ہے۔
(عمدة القاري: 611/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 843 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 597 کی شرح از حافظ ندیم ظہیر ✍️
´ہر نماز کے بعد تسبیح سے گناہوں کا بخشا جانا `
«. . . مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ»
۔۔۔ جو ہر نماز کے بعد «سبحان الله» تینتیس ۳۳ بار اور «الحمدلله» تینتیس ۳۳ بار اور «الله اكبر» تینتیس ۳۳ بار کہے تو یہ ننانوے کلمے ہوں گے اور پورا سینکڑا یوں کرے کہ ایک بار «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ» پڑھے یعنی کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں مگر اللہ، اکیلا ہے وہ، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی ہے سلطنت اور اسی کے لئے سب تعریف اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر (یعنی بے حد) ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة: 1352]
فوائد:
اس حدیث میں تسبیح، تحمید اور تکبیر کے ساتھ «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ» کا اضافہ ہے اور اس کی خصوصی فضیلت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ اسے پڑھنے والے کے سارے (صغیرہ) گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ دوسرا ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ: 33 مرتبہ «سبحان الله» ، 33 بار «الحمدلله» 34 بار «الله اكبر» ہو یا 25 مرتبہ «سبحان الله» ، 25 بار «الحمدلله» 25 بار «الله اكبر» 25 بار «لا اله الا الله» ہو ۱؎ یا 33 مرتبہ «سبحان الله» ، 33 بار «الحمدلله» ، 33 بار «الله اكبر» ایک بار «لا الٰه الا الله وحده لا شريك له إلخ» ہو ۲؎، زیادہ سے زیادہ ذکر کا عدد سو ہی ہے۔ لہٰذا اس سے تجاوز بہتر نہیں ہے۔
❀ مسیب بن نجبہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: میں نے مسجد میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کہتے ہیں، تین سو ساٹھ مرتبہ سبحان اللہ کہو تو (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: اے علقمہ! اٹھو اور مجھے ان سے ملاؤ وہ آئے اور ان (لوگوں)کے پاس کھڑے ہو گئے اور دیکھا کہ وہی کام کر رہے تھے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) فرمانے لگے کہ تم نے گمراہی کی دُمیں پکڑ رکھی ہیں یا اپنے آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے زیادہ ہدایت پر سمجھتے ہو؟! [البداع و النهي عنها لابن وضاح: 27 وسنده حسن] پتا چلا کہ اذکار میں جس تعداد کا ذکر سنت صحیحہ سے ثابت ہو اسی کے مطابق اذکار کئے جائیں۔
------------------
۱؎ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 3413]
۲؎ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة: 1352]
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 24، حدیث/صفحہ نمبر: 6 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 133 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
133- سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مالدار لوگ اجر حاصل کرنے میں سبقت لے گئے ہیں، وہ اس طرح پڑھے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں، لیکن وہ خرچ کرتے ہیں اور خرچ نہیں کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہاری رہمنائی ایسے عمل کی طرف نہ کروں کہ جب تم اس پڑھ لو گے تو تم اپنے سے آگے والے تک پہنچ جاؤ گے۔ اور اپنے پیچھے والے سے آگے نکل جاؤ گے، ماسوائے اس شخص کے، جو تمہارے اس پڑھنے کی مانند پڑھ لے۔ تم ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ، اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:133]
فائدہ:
اس حدیث میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نیکیوں پر حریص ہونے کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ وہ نیکیوں میں کس طرح طمع کرتے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ غربت کی وجہ سے دین سے دور ہو جانا سراسر حماقت ہے۔ غربت میں رہ کر یہ جذبات ہونے چاہئیں کہ اے اللہ! جب تو مجھے دے گا، میں امیروں کی طرح خرچ کروں گا۔ نماز کے بعد مسنون اذکار کی زبردست فضیلت ہے۔ کسی بھی ذکر کی تعداد کو اپنی طرف سے متعین کرنا درست نہیں ہے، جو تعداد شریعت میں مقرر ہو، اس کی پاسداری کرنی چاہیے، اپنی طرف سے تعداد میں اضافہ یا کمی نہیں کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 133 سے ماخوذ ہے۔