حدیث نمبر: 594
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، حِينَ يُسَلِّمُ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ ، لَهُ النِّعْمَةُ ، وَلَهُ الْفَضْلُ ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " ، وَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ .

محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے ابوزبیر سے حدیث سنائی، کہا: (عبداللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے: ”لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، لا حول ولا قوة إلا باللہ، لا إلہ إلا اللہ، ولا نعبدإلا إیاہ، لہ النعمة ولہ الفضل، ولہ الثناء الحسن، لا إلہ إلا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافرون۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے (ملتی) ہے، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے، خوبصورت تعریف کا سزاوار بھی وہی ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں، چاہے کافر اس کو (کتنا ہی) ناپسند کریں۔“ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد بلند آواز سے «لا إلہ إلا اللہ» والے یہ کلمات کہا کرتے تھے۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَ يُهَلِّلُ ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ .

عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابوزبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے (آگے ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا: پھر ابن زبیر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ان (کلمات) کو بلند آواز سے کہتے تھے۔)

وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ ، أَوِ الصَّلَوَاتِ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ .

حضرت ابو زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا ہے، وہ اس منبر پر خطبہ دیتے ہوئے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد نماز ختم کرتے وقت کہا کرتے تھے اور ہشام ابن عروہ کی طرح حدیث بیان کی۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ يَقُولُ فِي إِثْرِ الصَّلَاةِ : إِذَا سَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ ، وَكَانَ يَذْكُرُ ذَلِكَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ابوزبیر مکی نے انہیں حدیث سنائی کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، جب وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے تو کہتے (بقیہ روایت ان دونوں (ہشام اور حجاج) کی (مذکورہ بالا) روایت کے مانند ہے، اور آخر میں کہا: وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 594
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1340 | سنن نسائي: 1341 | سنن ابي داود: 1506

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1340 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سلام پھیرنے کے بعد تہلیل «لا إلٰہ إلا اللہ» کہنے کا بیان۔`
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1340]
1340۔ اردو حاشیہ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» جامع کلمہ ہے۔ حول سے مراد ہر نقصان اور خرابی سے بچنے کی طاقت اور قوۃ سے مراد ہر اچھی چیز حاصل کرنے کی قوت ہے۔ ظاہر ہے ہر چیز ان میں آ جاتی ہے۔ شاید اسی لیے اس کلمے کو جنت کا خزانہ کہا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1340 سے ماخوذ ہے۔