صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ: باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا سَلَّمَ ، لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ ، مَا يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) پڑھنے کی مقدار تک بیٹھتے تھے اور ابن نمیر کی روایت: (يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) یعنی یا کے اضافہ کے ساتھ ہے۔
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ .امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، جس میں ہے اور کہا: (یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام) اے عظمت و احسان کے مالک۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَخَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ كِلَاهُمَا ، عَنِ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ .شعبہ نے عاصم اور خالد سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر وہ (شعبہ) «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) کہا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اَنْتَ السَّلاَمُ: کا معنی یہ ہے کہ تو ہرعیب ونقص، حوادث وآفات اور ہر قسم کے تغیر وزوال سے محفوظ اور پاک ہے اور مِنْکَ السَّلاَمُ: کا معنی ہے کہ سلامتی تیرے ہاتھ میں ہے جس کے لیے چاہے اور جب چاہے سلامتی کا فیصلہ کرے اورجس کے لیے نہ چاہے نہ فیصلہ کرے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مقصد یہ ہے کہ عام طورپر آپﷺ قبلہ رخ بیٹھ کر یہی کلمات پڑھتے تھے اور اس کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر لیتے تھے اور باقی ذکر و اذکار کرتے تھے جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» " اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھی سے تمام کی سلامتی ہے، اے عزت و بزرگی والے تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1339]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ۱؎ " اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے۔" امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1512]
صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ پس آپﷺ کی دعا میں ان کا اضافہ ایسے ہی ہے جیس خالص دودھ میں پانی ملا دیا جائے۔ جو بہرحال غلط ہے۔ خواہ آب زم زم ہی کیوں نہ ملایا جائے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو (اپنے مصلے پر قبلہ رو) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» " اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے، اے بزرگی و برتری والے! تو بابرکت ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 924]
فوائد و مسائل:
(1)
فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے
(2)
مسنون دعا صرف اسی قدر ہے جو اس حدیث میں بیان ہوئی باقی جملے لوگوں کے خود ساختہ ہیں۔
مثلاً (وَإِلَیْكَ یَرْجِعُ السَّلاَمُ، حَیِّنَا رَبُّنَا بِالسَّلاَمِ وَأَدْخِلْنَا دَارَالسَّلاَمِ)
اسی طرح (تَبَارَکْتَ)
کے بعد (رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ)
کے الفاظ بھی اضافہ شدہ ہیں۔
ان زائد جملوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
’’صرف اتنا عرصہ بیٹھتے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ قبلہ رخ صرف اتنا عرصہ بیٹھتے ورنہ ذکر واذکار کے لئے طویل عرصہ تک بیٹھنا سنت سے ثابت ہے۔ (صحیح المسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفته، حدیث: 594)