صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة— مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
باب مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلاَةِ: باب: نماز میں کس چیز سے پناہ مانگی جائے۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " ، قَالَتْ : فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ ، حَدَّثَ ، فَكَذَبَ ، وَوَعَدَ ، فَأَخْلَفَ " .نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (یہ) دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں، میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں گناہ اور قرض (میں پھنس جانے) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کسی کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی مقروض ہو جائے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ " اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ،ان کلمات کے ذریعہ دعا مانگا کرتے تھے،"اے اللہ!میں تجھ سے آگ کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے،قبر کے فتنہ اورقبر کےعذاب سے اور تونگری کے فتنہ کے شر سے اور فقر وتنگدستی کے فتنہ کےشر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں،اے اللہ!میرےگناہ برف کے پانی اور برودت(اولوں) سے دھو ڈال اور میرے دل کو گناہوں سے اس طرح پاک صاف کردے،جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک وصاف کیا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کردے،جتنی دوری تو مشرق اور مغرب کے درمیان کردی ہے،اے اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں،سستی،کاہلی اور انتہائی بڑھاپے سے اور گناہ سے اور قرضہ سے۔"
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
مَأْثَمْ: مصدر ہوتو معنی گناہ ہو گا، یا اس سے مراد ایسا کام ہے جو گناہ کا سبب وباعث ہو، مَغْرَمْ، یعنی قرض یا ایسا کام جو قرض کا باعث بنے۔
فوائد ومسائل: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود، آپﷺ قبر اور جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں اس کی علماء نے کئی توجیہات بیان کی ہیں۔
1۔
امت کو دعاء کی تعلیم اور تلقین کے لیے۔
2۔
یہ بتانے کے لیے کہ دعا مانگنا سنت ہے۔
3۔
تواضع اور عبودیت وبندگی کے اظہار کے لیے۔
4۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت وہبیت اور خوف کے غلبہ کے سبب۔
5۔
انسان کا اللہ کی طرف احتیاج اور فقر کے اظہار کے لیے۔
6۔
اللہ کے حکم واستغفرہ کے امتثال (حکم ماننا)
کے لیے۔
7۔
امت کو استغفار کی ترغیب وتشویق (رغبت وثوق دلانا)
کے لیے کہ میں اس قدر بلند وبالا درجہ رکھنے کے باوجود اگر استغفار کرتا ہوں تو تمہیں اس کا کس قدر اہتمام اور پابندی کرنی چاہیے۔
8۔
ان گناہوں اور قبر ودوزخ سے ڈرانے کے لیے کہ یہ بہت مشکل گھاٹیاں ہیں ان کی فکر کرو۔
9۔
دعا واستغفار، مستقل طور پراللہ کے قرب و رحمت اور رفع درجات کا باعث ہے۔
اس لیے ضروری نہیں، انسان ضرورت مند ہو یا گناہ گار ہو تو پھر ہی دعا استغفار کرے۔
بلکہ نیکیوں کے حصول اوردرجات کی بلندی کی خاطر یہ کام کرنے چاہئیں، اس لیے آپﷺ اس کے باوجود کہ مسیح دجال کا ظہور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت کے قریب ہو گا آپﷺ اس کے شروفتنہ سے پناہ طلب کرتے تھے۔
1۔
دجال کا فتنہ تمام فتنوں سے بڑا فتنہ ہے۔
اس کے پاس گمراہی کا ایسا سازو سامان ہوگا۔
جو کسی دوسرے کو میسر نہیں ہوا۔
اس لیے ضروری ہے کہ اس کے مکرو فریب اور دجل و کذب سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی جائے۔
2۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز میں تشہد پڑھتے تھے: (وَاَعُوذُبِاكَ مِن فِتّنَةِ المَسِيِح الدَّجَّالِ)
’’اے اللہ! میں مسیح دجال سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الدعوات، حدیث:: 6368)
اس حدیث سے فتنہ دجال کی سنگینی کا پتا چلتا ہے کہ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ مانگتے تھے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو حضرت عثمان غنی بنائے۔
آمین۔
دولت و ثروت بذات خود کوئی بری چیز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر اس کا حق ادا کرنے اور اسے صحیح طور پر صرف کرنے کی توفیق ملے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دولت سے وہ مقام پایا کہ رہتی دنیا تک ان کا نام باقی رہے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق اعلان فرمایا: عثمان اس کے بعد جیسے بھی عمل کرے اس سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی، لیکن اگر بدقسمتی سے دولت مندی اور خوش حالی تکبر و غرور پیدا کرے اور مال و دولت کے صحیح استعمال کی توفیق نہ ملے تو یہ قارون کا طرز زندگی ہے۔
یہ مال و دولت ہی کا فتنہ تھا جس نے قارون کو زمین میں دھنسا دیا۔
اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔
آمین
میری دن ورات یہ دعا ہے کہ اللہ مجھ کو اور میرے متعلقین اور شائقین بخاری شریف کو وقت آخر تک قرض اور محتاجی سے بچائے۔
خاص طور سے میرے جو مخلصین ادائگی قرض کے لئے دعاؤں کی درخواست کرتے رہتے ہیں اللہ پاک ان سب کا قرض ادا کرائے اورمجھ کو بھی اس حالت میں موت دے کہ میں کسی کا ایک پیسے کا بھی مقروض نہ ہوں۔
قبل ازموت اللہ سارا قرض ادا کر دے۔
آمین یارب العالمین (راز)
(1)
فقر اور محتاجی بہت ہی خطرناک عذاب ہے۔
اگر مفلسی اور تنگدستی کے ساتھ صبر و قناعت نہ ہو اور اس کی وجہ سے انسان ناجائز کام کرنے لگے تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک سزا ہے۔
اس دعا میں دولت مندی اور ناداری کے جس شر و فتنہ سے پناہ مانگی گئی ہے وہ یہی ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے ہزار بار پناہ مانگی جائے کیونکہ جس دل میں قناعت نہ ہو وہاں خضوع اور خشوع ختم ہو جاتا ہے۔
(2)
مفلسی کا فتنہ یہ ہے کہ انسان روزی کمانے کے لیے حرام ذرائع اختیار کرے یا دل میں اللہ تعالیٰ پر ناراض ہو اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرے۔
ایسا شخص مفلسی کے امتحان میں ناکام ہے جس کا دنیا و آخرت میں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
واللہ المستعان
اور وہ زمین کو اپنے پیروکاروں سے ڈھانپے گا یا حق کو باطل سے ڈھانپے گا یا یہ دُجِلَ الْاَثَرُ (نقش قدم مٹ گئے)
سے ماخوذ ہے۔
کیونکہ اس کی آنکھ مٹی ہوئی ہو گی اس لیے اس کو مسیح یعنی مَمْسُوْحُ الْعَیْن کہتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ” اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنے سے، (جہنم میں لے جانے والے اعمال سے) جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے، (من۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3495]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنے سے، (جہنم میں لے جانے والے اعمال سے) جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے، (منکر نکیرکے سوال سے جس کا جواب نہ پڑے) مالداری کے فتنے کے شر سے (تکبر اور کسب حرام سے) اور محتاجی کے فتنے کے شر سے، (حسداور طمع سے) اور مسیح دجال کے شر سے، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو دھو دے برف اور اولوں کے پانی سے، اور میرے دل کو گناہوں سے صاف کر دے جس طرح کہ تو سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کرتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان پیدا کر دی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کاہلی سے، بڑھاپے سے، گناہ سے اور تاوان و قرض کے بوجھ سے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار، وعذاب النار، ومن شر الغنى، والفقر» ” اے اللہ! میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1543]
’’جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈالا جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے: کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟‘‘ اور ’’عذاب النار‘ ‘یہ کہ انسان جہنمی بن کر عذاب پائے۔واللہ اعلم۔
➋ ’’مالدار کا شر‘‘ یہ ہے کہ انسان مالدار ہو کر فخر و عصیان اور ظلم کامرتکب ہونے لگے یا حرام کمائے اور حرام میں خرچ کرنے لگے۔
➌ اور ’’فقیری کا شر‘‘ یہ ہے انسان اغنیاء پر حسد کرنے لگے یا اللہ کی تقسیم پر راضی نہ رہے۔ یا حق کے بغیر ان کے مال میں طمع کرنے لگے‘ یا ان کے سامنے اپنی عزت کو داؤ پر لگا دے یا اسلام ہی سے روگردان ہو جائے۔ وغیرہ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» یعنی ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح (کانے) دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے“ تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جب قرض دار ہوتا ہے، بات کرتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 880]
➊ «دجال» کے معنی ہیں ”انتہائی فریبی“ اور «مسيح» سے مراد «ممسوح العين» ہے، یعنی ایک آنکھ سے کانا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو مسیح کہا جاتا ہے۔ وہ بمعنی «ماسح» ہے یعنی ان کے ہاتھ پھیرنے سے مریضوں کو شفا مل جاتی تھی یا یہود کے ہاں اصطلاحاً ہر اس شخص کو مسیح کہتے تھے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے مامور ہوتا تھا۔
➋ ”زندگی کے فتنے سے“ مراد یہ ہے کہ انسان دنیا کے بکھیڑوں میں الجھ کر رہ جائے اور دین کے تقاضے پورے نہ کر سکے۔
➌ ”موت کے فتنے سے“ مراد یہ ہے کہ آخر وقت میں کلمہ توحید سے محروم رہ جائے یا کوئی اور نامناسب کلمہ یا کام کر بیٹھے۔ «اعاذنا الله»
➍ نماز اللہ کے قرب کا موقع ہوتا ہے، اس لئے انسان کو اپنی دنیا اور آخرت کی حاجت طلب کرنے کا حریص ہونا چاہیے (بالخصوص تشہد کے آخر اور سجدوں میں)۔
➎ قرض سے انسان کو حتی الامکان بچنا چاہیے، اگر ناگزیر ہو تو اپنے وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اتنا قرض لے کہ وہ حسب وعدہ ادا کر سکے تاکہ جھوٹ بولنے کی یا وعدہ خلافی کی نوبت نہ آئے۔
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ انہیں دعا کے یہ کلمات سکھاتے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» ” اے اللہ! میں بخل و کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں لاچاری و مجبوری کی عمر کو پہنچوں، دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگت [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5480]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الأربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» ” اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش اور مفید نہ ہو، ایسے دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیراب نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو (اللہ کے یہاں) قبول نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5469]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا مانگتے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللہم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» ” اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تجھ سے گناہ اور قرض سے پناہ چاہتا ہوں “ تو کہنے والے نے آپ سے کہا: آپ قرض سے اتنا زیادہ کیوں پناہ مانگتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1310]
➋ ”زندگی کا فتنہ“ یہ ہے کہ انسان زندگی میں رب تعالیٰ کا نافرمان رہے۔ دین حق سے برگشتہ رہے۔ زندگی کی خوش نمائیوں میں کھو کر حق تعالیٰ سے غافل رہے۔ اور ”موت کا فتنہ“ یہ ہے کہ مرتے وقت شیطان گمراہ کر دے۔ کلمۂ توحید نصیب نہ ہو۔ بری حالت پر موت آئے۔ العیاذ باللہ۔ ممکن ہے اس عذاب قبر، یعنی سوال و جواب میں ناکامی مراد ہو۔ يا مُقَلِّبَ القلوبِ ثَبِّتْ قلوبَنا على دينِكَ۔
➌ اپنے وسائل سے بڑھ کر قرض اٹھانا کہ بعد میں اس ادا نہ کیا جا سکے، درست نہیں ہے۔
➍ وعدہ خلافی کرنا اور جھوٹ بولنا حرام ہے۔
➎ مذکورہ اشیاء سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار ومن فتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ” اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ اور اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3838]
فوائد و مسائل:
(1)
جہنم کی آزمائش اور فقر کی آزمائش سے مراد وہ گناہ ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں یا عذاب قبر کا باعث بنتے ہیں۔
(2)
دولت کا فتنہ یہ ہے کہ انسان مغرور ہو کر ظلم کرنے لگے یا حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرے یا مال کو گناہ کے کاموں میں خرچ کرے۔
ایسا شخص اس آزمائش میں ناکام ہوا جو اللہ نے دولت دے کر کی۔
(3)
مفلسی کا فتنہ او ر آزمائش یہ ہے کہ انسان روری کمانے کےحرام طریقے اختیار کرے یا دل میں اللہ پر ناراض ہو یا زبان سے اللہ کا شکوہ کرے۔
ایسا شخص مفلسی کے امتحان میں ناکام ہے۔
(4)
مسیح دجال ایک خاص شخص ہے جو قیابت کے قریب ظاہر ہوگا اور خدائی کا دعویٰ کرے گا۔
جو شخص اس کا ساتھ دے گا اسے دنیا کے مال کی فراوانی اور راحت حاصل ہوگی، جو اس کے دعوے کو سچ ماننے سے انکار کرے گا اس پر مصیبتیں آئیں گی اور مال و دولت سے محروم ہو جائے گا۔
بہت سےلوگ دولت کے لالچ میں یا مفلسی کے ڈر سے اس کے ساتھی بن جائیں گے اور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
بہت سے لوگ اس کے عجیب و غریب شعبدے دیکھ کر اس کے دعوے کو سچ مان لیں گے، اس لیے نبی ﷺ نے تفصیل سے اس کے بارے میں بیان کیا ہے تا کہ مومن اپنا ایمان محفوظ رکھ سکیں۔
آخر کار وہ سچے مسیح، یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھوں فلسطین کے ملک میں لد کے مقام پر قتل ہوگا۔
(5)
غلطیوں اور گناہوں کا تعلق جہنم کی آگ سے ہے، اس لیے انہیں آگ سے تشبیہ دے کر پانی اور برف سے دھونے کی دعا کی جاتی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ دل کو گناہوں سے پاک صاف کر کے اطمینان اور سکینت کی ٹھنڈک عطا فرمادے۔
(6)
سُستی انسان کو بہت سی نیکیوں اور دنیا و آخرت کے فوائد سے محروم کر دیتی ہے۔
مومن کو نیکی کے معاملے میں ہوشیار ہونا چاہیے۔
(7)
انتہائی بڑھاپے سےعمر کا وہ حصہ مراد ہے جب انسان دوسروں کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے۔
اس کی ہر قوت کمزور ہو جاتی ہے، اس لیے وہ پہلے کی طرح نیکیاں نہیں کر سکتا۔
(8)
تاوان سےمراد کسی ایسی ادائیگی کا لازم ہونا ہے جو ناگوار اور مشکل ہو، مثلاً: غیر ارادی طور پر کسی کا نقصان ہو جائے اور وہ نقصان پورا کرنا پڑے یا غیرارادی طور پر قتل ہو جائے جس کا خون بہا دینا پڑے یا کسی جرم کا ارتکاب ہو جائے اور اس کا جر مانہ ادا کرنا پڑے۔
دعا میں ایسی تمام صورتوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرضہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ ہرممکن طریقے سے اس سے بچتے رہنا چاہیے، لیکن مجبوری کی وجہ سے قرضہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر قرض لیا جائے تو قرض ادا کرنے کی نیت بھی ہو، اللہ تعالیٰ قرضہ ا تار ہی دیتا ہے، اور انسان کو ہمیشہ یہ دعا بھی کرتے رہنا چا ہے، ا«للـهـم اني اعوذ بك من غلبة الدين» ۔